زرداری نےمنی لانڈرنگ کیس منتقلی کا فیصلہ چیلنج کردیا

March 16, 2019


کراچی: سابق صدر آصف علی زرداری نے منی لانڈرنگ کیس کو راولپنڈی منتقل کرنے کا فیصلہ سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا ہے۔

سابق صدر نے اپنے وکیل فاروق ایچ نائیک کے توسط سے سندھ ہائی کورٹ درخواست دائر کی ہے۔

درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ بینکنگ کورٹ نے کیس اسلام آباد منتقل کردیا ہے، کیس اسلام آباد منتقل نہیں کیا جاسکتا۔

درخواست گزار نے مؤقف اپنایا ہے کہ یہ کیس نیب کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا، مذکورہ کیس کرپشن کا نہیں ہے جیسے نیب منتقل کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: جعلی بینک اکاؤنٹس کیس راولپنڈی منتقل، ملزمان کی ضمانتیں منسوخ

نیب نے آصف زرداری اور بلاول بھٹو کو 20مارچ کو طلب کرلیا

سندھ ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں کیس کی سندھ سے کسی اور صوبے میں منتقلی کوغیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔

درخواست گزار نے استدعا کی ہے کہ کیس اسلام آباد منتقلی کے فیصلہ کو کالعدم قرار دیا جائے۔

آصف زرداری اورفریال تالپورکی ضمانتیں تیارکرلی گئی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آصف زرداری اور فریال تالپورپیرکو حفاظتی ضمانت قبل ازوقت گرفتاری دائرکریں گے۔

آصف زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے میڈیا سے گفتو میں کہا ہے کہ  منی لانڈرنگ سےقومی خزانہ کونقصان نہیں پہنچابلکہ یہ پرائیویٹ لوگوں کامعاملہ ہے۔ہمارا موقف یہ ہے کہ اس مقدمہ میں نیب قوانین لاگو نہیں ہوتے۔بینکنگ کورٹ نےاپنےفیصلےمیں یہ لکھاہےکہ میں اس پربحث نہیں کرتاکہ یہ کیس نیب کےزمرےمیں آتاہےیانہیں ۔ فیصلےمیں جج نے  یہ واضح  طور پر لکھا ہےکہ سپریم کورٹ کی ہدایات کی روشنی میں مقدمہ اسلام آبادمنتقل کیا جارہاہے۔سپریم کورٹ نےاپنےفیصلےمیں اس ایف آئی آرکومنتقل کرنےکاکہیں بھی حکم نہیں دیا۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں 16ریفرنسز کی بات کی تھی لیکن اس مقدمہ کی نہیں۔جس قانون کےتحت ایف آئی آرکونیب میں منتقل کیاگیاہےاس میں کرپشن اورکرپٹ پریکٹس کاذکرکیاگیاہے
اب یہ طے ہوناباقی ہےکہ یہ مقدمہ جو بنا ہے نیب کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں۔ عبوری ضمانت کے حلف نامہ بنا لئے ہیں موکل سے مشاورت کرکے درخواستیں فائل کریں گے۔ہم نے ہائیکورٹ سے استدعا کی ہے بینکنگ کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔ بینکنگ کورٹ کو یہ اختیار نہیں کہ وہ مقدمہ منتقل کرے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز کراچی کی بینکنگ کورٹ نے منی لانڈرنگ کیس راولپنڈی منتقل کرتے ہوئے تمام ملزمان کی ضمانتیں بھی منسوخ کردی تھیں۔

دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ قومی احتساب بیورو(نیب) راولپنڈی نے آصف زرداری اور بلاول بھٹو کو 20 مارچ کو طلب کر رکھا ہے تاہم بلاول بھٹو کے ترجمان سینیٹر مصطفی نواز کھوکھرنے کہا ہے کہ بلاول بھٹو کو نیب کا کوئی نوٹس موصول نہیں ہوا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کمبائن انویسٹیگیشن ٹیم نے آصف زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کے لیے لگ بھگ 100سوالات پر مشتمل سوالنامہ تیارکیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے سات جنوری 2019 کو جعلی بینک اکاؤنٹس کیس کا معاملہ قومی احتساب بیورو کو بھجوایا تھا اور چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے ڈی جی نیب راولپنڈی عرفان منگی کو ٹیم کا سربراہ مقرر کیا تھا اور اب نیب 29 مشکوک بینک اکاؤنٹس سے 35 ارب روپے منتقل ہونے پر تحقیقات کر رہا ہے۔

قبل ازیں سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے تشکیل دی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے عدالت کو بتایا تھا کہ 104 جعلی بینک اکاؤنٹس کے ذریعے تقریباً 210 ارب روپے کی ٹرانزیکشنز ہوئیں۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز