پی ایس ایل:’بیٹنگ ٹیلنٹ نہ ملنےکی وجہ ٹیم سلیکشن’

کراچی: اسلام آباد یونائٹیڈ کے کوچ ڈین جونز نے پاکستان سپر لیگ میں کسی ٹیلنٹڈ پاکستانی بلے باز کے سامنے نہیں آنے کی وجہ ٹیم سیلیکشن کو قرار دے دیا۔

پشاور زلمی سے میچ کے بعد کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اگر آپ پاکستان سپر لیگ میں شریک ٹیموں کو دیکھیں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ ہر ٹیم کے غیر ملکی کھلاڑیوں میں شامل اکثر کھلاڑی مڈل آرڈر یا اوپنر بلے باز ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد یونائٹیڈ نے کچھ میچوں میں محمد رضوان کو موقع دیا، وہ ایک باصلاحیت بلے باز ہیں تاہم اس سیزن میں ان کی فارم اس طرح نہیں تھی جس کی توقع کی جار ہی تھی جس کی وجہ سے انہیں ڈراپ کرنا پڑا۔

ڈین جونز نے تجویز دی کہ پی ایس ایل کی تمام ٹیموں میں مڈل آرڈر کے چار بلے بازوں میں دو پاکستانی کھلاڑی ہونے چاہیئے۔

خیال رہے کہ پاکستان سپر لیگ کے چوتھے ایڈیشن میں نئے ٹیلنٹ میں صرف پیس باؤلر اور اسپنر سامنے آئے ہیں جنہوں نے اپنے ٹیلنٹ کا خوب مظاہرہ کیا ان میں سے کوئٹہ گلیڈیئٹرز کے محمد حسنین نے ٹورنامنٹ کی تیز ترین گیند کرانے کا اعزاز اپنے نام کیا وہیں انہیں آسٹریلیا کے خلاف بھی ون ڈے سیریز میں ٹیم میں جگہ مل گئی۔

محمد حسنین کے علاوہ کراچی کنگز کے عمر خان کی کارکردگی بھی مداحوں کو متاثر کر گئی ۔

بلے بازوں پر نظر دوڑائیں تو عمر اکمل اور احمد شہزاد بھرپور فارم میں دکھائی دیئے تاہم کوئی بھی امرجنگ کٹیگری سے تعلق رکھنے والا نوجوان بلے باز سامنے نہیں آیا۔

پاکستان سپر لیگ کے چوتھے ایڈیشن میں ٹاپ اسکورر ریٹائرڈ آسٹریلوی بلے باز جو کوئٹہ گلیڈیئٹرز کی نمائندگی کر رہے ہیں، شین واٹسن جنہوں نے 11 اننگز میں 423 رنز اسکور کئے ہیں۔

دوسرے نمبر پر کیمرون ڈیلپورٹ ہیں جنہوں نے 355 جبکہ تیسرے نمبر پر 344 رنز کے ساتھ کولن انگرم موجود ہیں۔

پاکستان کے امام الحق اور کامران اکمل چوتھے اور پانچویں نمبر پر براجمان ہیں۔

بلے بازی کے برعکس گیند بازی میں پاکستانی باؤلرز چھائے رہے۔ پی ایس ایل کے سیزن میں پشاور زلمی کے حسن علی خوب فارم میں دکھائی دیئے انہوں نے 12 میچز میں 25 وکٹیں حاصل کی ، ان کے علاوہ فہیم اشرف نے 18، وہاب ریاض 16، نوجوان اسپنر عمر خان نے 15 وکٹیں حاصل کی ہیں۔