سانحہ کرائسٹ چرچ:ادیب سامی نے بیٹوں کو خود سے ’ڈھانپ‘ کر بچایا

March 17, 2019

اسلام آباد: نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں پیش آنے والے اندوہناک سانحہ نے ہر صاحب دل کو ہلا کر رکھ دیا اور آنکھوں کو نمناک کردیا ہے۔ اس سانحہ میں جہاں نسل پرستی اور مذہبی منافرت کی بدترین مثال سامنے آئی ہے وہیں انسانیت کا علم تھامے لوگ بھی دکھائی دیے ہیں۔

انسانیت پہ یقین رکھنے اور ایک اللہ تعالیٰ کو مان کر اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے دوسروں کی جان بچانے کی کوشش کرنے والوں میں پاکستانی نعیم راشد، ان کے صاحبزادے طلحہ نعیم اور ایک افغان شہری عبدالعزیزشامل ہیں۔

ایسے ہی افراد میں عراقی نژاد ادیب سامی کا نام بھی درج ہوا ہے جنہوں نے پدرانہ شفقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی جان داؤ پر لگادی مگر بچوں پر آنچ نہیں آنے دی۔

متحدہ عرب امارات سے شائع ہونے والے مؤقر انگریزی اخبار ’گلف نیوز‘ کی رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات  میں مقیم 52 سالہ عراقی باشندے ادیب سامی کرائسٹ چرچ کی مسجد میں ہونے والی دہشت گردانہ کارروائی کا نشانہ اس وقت بنے جب انہوں نے انسانیت کے دشمن کو اندھا دھند فائرنگ کرتے دیکھا۔

جمعہ کی نماز کی ادائیگی سے قبل جب حملہ آور مسجد میں داخل ہوا تو انہوں نے اپنے لخت جگروں 29 سالہ عبداللہ اور23 سالہ علی پہ جھک کر انہیں ’ڈھانپ‘ لیا۔ ادیب سامی اس کے نتیجے میں گولیوں کا نشانہ بن کر شدید زخمی ہوئے کیونکہ ایک گولی ان کی ریڑھ کی ہڈی کے نزدیگ لگی۔

ادیب سامی کی بیٹی ہبہ کے مطابق اس کے والد حقیقی معنوں میں ’ہیرو‘ ہیں کیونکہ انہوں نے بدترین فائرنگ کے دوران اس کے بھائیوں کو خراش تک نہیں آنے دی۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ہبہ نے جاری کردہ اپنے پیغام میں کہا ہے کہ اسے اس بات سے قدرے اطمینان ہوا ہے کہ اس کے والد کو اسپتال کے ریکوری روم سے فارغ کردیا گیا ہے۔ ہبہ کے مطابق وہ نیوزی لینڈ میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔

ادیب سامی کی بیٹی ہبہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر لکھا ہے کہ نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے مسجد جانے سے قبل اس کے والد بہن ہمثہ کو لے کر ایک کافی شاپ میں گئے اور اس موقع پر انہوں نے ایک تصویر بھی لی تھی۔

گلف نیوز کے مطابق عراقی نژاد ادیب سامی متحدہ عرب امارات میں انجینئرنگ کنسلٹینسی کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ مشرق وسطیٰ کے ذرائع ابلاغ میں گزشتہ روز ادیب سامی کے حوالے سے خبریں نمایاں طور پر شائع کی گئی ہیں۔

عراقی نژاد ادیب سامی اپنے بچوں کی سالگرہ منانے کے لیے اہلیہ کے ہمراہ نیوزی لینڈ پہنچے تھے۔

نیوزی لینڈ کی مسجد کا مؤذن محمد عبدالکریم فقیہی حملے کے وقت وضو خانے میں ہونے کے باعث دہشت گرد کی فائرنگ سے بچ گیا۔

سعودی عرب کے شہر جدہ سے شائع ہونے والے اخبار ’اردو نیوز جدہ‘ کے مطابق محمد عبدالکریم کے والد نے عربی ویب سائٹ ’سبق ویب سائٹ‘ کو بتایا کہ ان کا بیٹا نیوزی لینڈ میں زیر تعلیم ہے اور چار ماہ قبل ہی وہاں گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جمعہ کی آذان ان کے بیٹے ہی نے دی تھی اور حملے کے دوران وہ وضو خانے سے نکل ہی رہا تھا کہ ایک نمازی نے اسے دھکا دے کر روکا اور ساتھ ہی وضو خانے کا دروازہ بند کرلیا جس کی وجہ سے ان کی جانیں بچ گئیں۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز