کرکٹ کھیلنے پر گھر سے مار پڑی،گھرسے نکالا بھی گیا، حارث رؤف


اسلام آباد: لاہورقلندرزکے بولر حارث رؤف کا کہنا ہے ابتداء میں کرکٹ کھیلنے پرگھرسے کئی بار مار بھی پڑی، نکالا بھی گیا تاہم یونیورسٹی کے فیس ادا کرنے کے لیے کرکٹ کھیلتا رہا۔

پروگرام پاکستان ٹونائٹ میں میزبان سید ثمرعباس سے گفتگو کرتے ہوئے لاہور قلندرز کے بولر نے بتایا کہ انہوں نے کرکٹ ٹیپ بال سے شروع کی، پہلے گھر سے کرکٹ کے لیے سپورٹ نہیں ملتی تھی، مار پڑتی تھی، گھر سے کئی بار نکالا بھی گیا، سامان دوستوں کے گھر رکھتا تھا، جب سے لاہورقلندرز کا حصہ بنا ہوں زندگی بدل گئی ہے، اب گھر والے بھی سپورٹ کرتے ہیں۔

حارث رؤف نے کہا کہ کرکٹ کھیل کراپنی یونیورسٹی کی فیس ادا کی کیونکہ گھر والے تعلیم کے لیے وسائل نہیں رکھتے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ لاہورقلندرزمیں ٹرائل میں تیز ترین بال کی اور ٹیم کا حصہ بن گیا، اس معاملے میں کوئی سفارش نہیں ہوتی، جس میں کرکٹ ٹیلنٹ ہے وہ اب آگے آسکتا ہے۔

حارث رؤف نے کہا کہ ہر کرکٹر کا خواب ہوتا ہے کہ بڑے سے بڑے فورم پر کرکٹ کھیلے، پاکستان کے لیے کھیلنا ہر کرکٹر کا سب سے بڑا خواب ہوتا ہے۔ پاکستان سپرلیگ ایک بہت بڑا پلیٹ فارم ہے جس سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ آسٹریلیا میں بھارتی کوچ نے سب سے تیز بولر کو بولنگ کرنے کا موقع دیا جس پر انہوں نے بہت سراہا، وہاں ویرات کوہلی کو بال کرنے سے بہت اعتماد ملا، سیشن کے اختتام پر ویرات کوہلی نے ٹپس دیں کہ اونچ نیچ کرکٹ کا حصہ ہے، آپ نے خود کو مضبوط رکھنا ہے اور آگے بڑھنا ہے۔

پی ایس ایل میں داخلے کے لیے کھلاڑیوں کے لیے معیار بنایا جائے، محسن حسن خان

محسن حسن خان کا کہنا تھا کہ لیگ کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ عالمی کرکٹر کھیلنے آئیں تاکہ مقامی کھلاڑیوں کو تربیت ملے، پاکستان کے لیے پی ایس ایل اور عالمی کھلاڑیوں کو یہاں لانا بڑا چینلج تھا جسے پورا کیا گیا ہے، امید ہے اگلا پورا پی ایس ایل پاکستان میں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ بھارت نے لیگ میں داخلے کے لیے کھلاڑیوں کے لیے ایک معیار مقرر کر رکھا ہے تاکہ کھلاڑی کے کھیل میں بنیادی خامیاں نہیں ہونی چاہئیں، ہم بھی اس راستے پرچل کراپنے معیار کو بہتربناسکتے ہیں، کھلاڑی کا دفاع اچھا ہوگا تو ہرجگہ اورہرفارمیٹ میں کامیاب ہوگا۔

ملک میں کرکٹ کی بہتری کے لیے انفراسٹرکچرکوبہتربنایا جائے،عالیہ رشید

اسپورٹس صحافی عالیہ رشید نے کہا کہ پاکستان سپر لیگ دنیا کی بڑی لیگ بن چکی ہے، اس سے قومی کرکٹ کے لیے نوجوان کرکٹر مل رہے ہیں، اس کے ذریعے ہم دنیا کو امن کا پیغام دے رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹیسٹ کرکٹ ہی اصل کرکٹ ہے، پی ایس ایل کا حصہ صرف اچھا کھلاڑی ہی بن سکتا ہے، دونوں جگہ کھلاڑی انفراسٹرکچر سے ہی آتے ہیں اسے بہتر بنانا ہوگا۔

عالیہ رشید کا کہنا تھا کہ چیمپئنز ٹرافی میں کوچ نے بہت حوصلہ دیا جس پر ٹیم میں اعتماد آیا اور انہوں نے بھارت کو تاریخی شکست دی، اب بھی ٹیم ورلڈ کپ کو منصوبہ بندی سے کھیلے تو بہت آگے جاسکتی ہے۔