سعودی ولی عہد کی شاہ سلمان سے کشیدگی کی خبریں

واشنگٹن: سعودی ولی عہد محمد بن  سلمان کی شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے کشیدگی کی خبریں سامنے آرہی ہیں ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ  سعودی ولی عہد محمد بن سلمان گزشتہ کئی دنوں سے  ہائی پروفائل سفارتی اور وزارتی اجلاسوں میں شرکت نہیں کر رہے۔

اخبار دی گارڈین میں شائع ہونے والی خبر کے مطابق سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان سے کچھ مالیاتی اور اقتصادی اختیارات  بھی  واپس لے لیے گئے ہیں۔
سعودی کنگ نے شاہ سلمان کو کیبنٹ میٹنگ میں شریک ہونے کا کہا لیکن وہ شریک نہیں ہو سکے
اخبار کے مطابق واشنگٹن میں سعودی عرب کے  سفارت خانے سے مذکورہ  خبرفائل کرنے والے صحافی نے رابطہ بھی کیا ۔ تاہم سعودی سفارت خانے کی طرف سے اس خبر  پر کوئی ردعمل نہیں دیا گیا ۔

یہ بھی پڑھیے:سعودی عرب کی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کی تصدیق

یہ بھی پڑھیے:جمال خاشقجی قتل کی تحقیقات خود کریں گے، سعودی عرب
دی گارڈین میں شائع ہونے والی خبر میں بتایا گیا ہے کہ  سعودی نژاد صحافی جمال خاشقجی  کے قتل کے واقعہ کے بعد سے کنگ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان کشیدگی کی خبریں سامنے آئی  ہیں۔

یاد رہے کہ  امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے کالم نگار اور سعودی نژاد امریکی رہائشی جمال خاشقجی دو اکتوبر کو استنبول میں سعودی قونصل خانہ میں داخل ہونے کے بعد لاپتہ ہو گئے تھے۔ صحافی کی گمشدگی کے کچھ دن بعد ترکی کا موقف سامنے آیا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ خاشقجی کو مار دیا گیا تاہم سعودی عرب ترکی کے اس موقف کی متعدد بار تردید کرتا رہا۔

خاشقجی کی گمشدگی کے بعد مغرب کی طرف سے سعودی عرب پر دباؤ بہت بڑھا تو انہوں نے بالآخر یہ تسلیم کیا کہ صحافی جمال خاشقجی ان کے استنبول کے قونصل خانہ میں جھگڑے کے دوران مارے گئے تاہم سعودی حکومت کے کردار کے ترک موقف کی تردید کی گئی۔

امریکہ نے پہلے سعودی وضاحت کو قابل قبول قرار دیا اور پھر اگلے ہی دن اپنے بیان سے مکر گئے اور سچ سامنے لانے کا مطالبہ کیا۔

مغربی ممالک کا رد عمل بھی سخت تھا، متعدد مغربی ممالک نے سعودی عرب میں ہونے والی سرمایہ کاری کانفرنس کے بھی بائیکاٹ کیا۔

سعودی عرب کی سرکاری میڈیا کے مطابق شاہ سلمان نے واقعے پر دو سینئیر اہلکاروں کی برطرف کر دیا تھا جن میں سعودی شاہی عدالت کے مشیر سعود القہتانی اور ڈپٹی انٹیلیجنس چیف احمد انصاری شامل ہیں۔