ن لیگ اور پی ٹی آئی رہنماؤں کے ایک دوسرے پر الزامات

اسلام آباد:پاکستان مسلم لیگ ن  اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں نے ایک دوسرے پر الزامات عائد کیے۔

پاکستان تحریک انصاف کی رہنما عندلیب عباس نے الزام عائد کیا کہ اپوزیشن نیب قوانین میں تبدیلی کے لیے تعاون نہیں کررہی ہم پلی بارگین کی مخالفت کرتے ہیں اور یہ اس پر متفق نہیں ہوتے۔

پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما محمد زبیر نے پی ٹی آئی کی رہنما کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہم پر الزام لگایا جارہا ہے کہ ہم پلی بارگین چاہتے ہیں جبکہ حکومت خود میٹنگزمیں کچھ نہیں کرتی۔

عندلیب عباس نے کہا کہ ہماری پارٹی پر کے لوگوں پر بھی مقدمات ہیں اور ہمارے دو لوگ جا چکے ہیں۔

ہم نیوز کے پروگرام نیوز لائن میں  بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قومی احتساب بیورو(نیب) سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نیب کے قوانین میں بہت تبدیلی کی ضرورت ہے۔

عندلیب عباس نے کہا کہ اس معاملے پر ہم نے اپوزیشن سے بھی رائے لی ہے لیکن یہ لوگ متفق نہیں ہوتے۔ اپوزیشن اپنی مرضی کی تبدیلی چاہتی ہے۔ ہم نے ہمیشہ پلی بارگین کی مخالفت کی ہے۔ پلی بارگین کے خاتمے پر اپوزیشن متفق نہیں ہوتی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ لوگ میٹنگ میں آتے ہیں اور پھر اپنی مرضی کی تبدیلی چاہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: غلط کام پر احتساب ہونا چاہیے، عندلیب عباس

انہوں نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ آخر دس برس تک منی لانڈرنگ پر ایکشن نہیں لیا گیا۔ اس وقت ایف ای ٹی ایف سمیت پاکستان پر بہت دباؤ ہے۔ ایف اے ٹی ایف میں کئی چیزیں ہیں۔

کسی پر بھی ایسے ہی الزام نہیں لگانا چاہیے، محمد زبیر 

سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے کہا کہ کسی پر بھی ایسے ہی الزام نہیں لگانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کی ایک طرف ہم بول رہے ہیں کہ ایف اے ٹی ایف کی تلوار لٹکی ہوئی ہے جبکہ دوسری جانب ہم کچھ اور بول رہے ہیں۔

محمد زبیر نے کہا کہ اگر ایف اے ٹی ایف نے ہمیں بلیک لسٹ میں رکھا تو اس کا اثر تو اہم سب پر ہوگا۔

نیب سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم پلی بارگین چاہتے ہیں یہ سب سے بڑا الزام ہے۔ حکومت خود میٹنگ نہیں کرتی۔ حکومت اپنا ڈرافٹ منظر عام پر لے آئے۔

یہ حکومت این آو او نہیں دے سکتی، چوہدری منظور

رہنما پیپلز پارٹی چوہدری منظور حسین نے کہا کہ یہ حکومت این آو او نہیں دے سکتی۔ انہوں نے کہا کہ ہم تو کچھ بھی نہیں  مانگتے صرف شفاف تحقیقات چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آخر کے پی میں نیب اتنی متحرک کیوں نہیں ہے۔ نیب کا گرفتاری طریقہ درست نہیں۔ نواز شریف کو کوئی ریلیف ملتا ہے تو ہمیں اس پر کوئی تشویش نہیں ہے اور نہ ہوگی۔

چوہدری منظور نے کہا کہ مسئلہ مقدمات کا نہیں مسئلہ ابھی بیانیے کا ہے۔ چوہدری منظور نے شیخ رشید کی جانب سے بلاول بھٹو کے خلاف دیئے گئے بیان پر کہا کہ اس معاملے پر کل مشاورت کریں گے اور ان سے پوچھیں گے کہ انہوں نے کیسے بلاول کو دھمکی دی۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز