سپریم کورٹ:نواز شریف کی درخواست ضمانت پر نیب کو نوٹس جاری

اسلام آباد: سابق وزیراعظم نوازشریف کی میڈیکل رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کردی گئی ہے۔سپریم کورٹ نے نیب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت ایک ہفتے کے لیے ملتوی کردی ۔ 

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے نواز شریف کی درخواست ضمانت پر سماعت کی ۔ 

نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کی جنوری 2019 کی رپورٹ  سمیت 5مختلف رپورٹس عدالت میں پیش کیں۔ وکیل نے کہا کہ میڈیکل رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ نوازشریف کی حالت بگڑ رہی ہے، نوازشریف کے طبی معائنے کےلیے 4 ڈاکٹروں پرمشتمل میڈیکل بورڈ حکومت پنجاب کے احکامات پر بنایا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:سپریم کورٹ: نوازشریف کی درخواست ضمانت جلد سماعت کے لیے منظور

درخواست ضمانت مستردہونے کا معاملہ ،نوازشریف کی سپریم کورٹ میں اپیل دائر

خواجہ حارث نے سروسز اسپتال کی 5 فروری 2019 کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ سروسز اسپتال کی رپورٹ میں بھی کہا گیا نوازشریف کی طبعیت خراب ہے۔

وکیل استغاثہ خواجہ حارث نے عدالت کو بتایا کہ 18 فروری کو فائنل رپورٹ اے آئی ایم سی نے دی جس  میں 60 ڈاکٹروں کی تجاویز موجود تھیں۔

چیف جسٹس نے خواجہ حارث سے استفسار کیا کہ ایک درخواست آپ نے واپس بھی لی تھی؟ ایسا لگتا ہے مریض کی میڈیکل ہسٹری ہے۔

خواجہ حارث نے عدالت کو بتایا کہ 17 جنوری 2019 کو علامہ اقبال اسپتال کی رپورٹ آئی۔

اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پہلی رپورٹ میں عمر 65سال،دوسری میں 69 لکھی گئی۔ڈاکٹرز نے کچھ ماہ میں عمر 4 سال بڑھا دی۔

خواجہ حارث نے کہا نوازشریف ہائی بلڈ پریشر،دل،شوگر اورگردوں کے مرض میں مبتلا ہیں۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ رپورٹ دیکھنے کا مقصد ہے کہ پتہ چلے طبعیت کتنی خراب ہے؟
خواجہ حارث نے عدالت کو بتایا کہ نوازشریف کا خالی پیٹ شوگر 154 ریکارڈ کیا گیا ہے،نوازشریف کا بلڈ پریشر200 /10 سے بھی زیادہ ہے۔ میڈیکل رپورٹس میں دل کو خون کی روانی میں رکاوٹ کی نشاندہی کی گئی۔
اس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ دل کی کوئی شریان بند تو نہیں ہے؟کسی اہم مریض کا علاج بھی اہم ہوتا ہے۔ ڈاکٹرز اہم مریضوں کے ٹیسٹ بھی زیادہ کراتے ہیں۔
ڈاکٹرز کی زبان میں اسے پروٹوکولسٹ کہتے ہیں۔ میڈیکل رپورٹس میں مزید تجربہ کار ڈاکٹرز پرمشتمل بورڈ بنانے کی تجویز دی گئی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا اے ایف آئی سی،آرآئی سی،پی آئی سی ایل سے علاج کرانے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ سب کوپتہ ہے کہ نوازشریف کاعلاج ہوتا رہا ہے۔نوازشریف نے اسی صحت کے ساتھ عام انتخابات میں مہم چلائی،نوازشریف نے اسی صحت کے ساتھ سارا ٹرائل بھی گزارا۔ نوازشریف اسی صحت کے ساتھ ریلیاں،جلسے جلوس بھی کرتے رہے۔

خواجہ حارث نے کہا عدالت کو لیب رپورٹس دکھانا چاہتا ہوں۔ لیب رپورٹس نوازشریف کی صحت سے متعلق درست تصویرکشی کرسکتی ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ لیب ٹیکنیشنز نے بھی رپورٹ میں ہائی پروفائل لکھا ہے۔ اسی پروٹوکولسٹ کی بات میں کررہا ہوں۔
خواجہ حارث نے عدالت کو بتایا کہ 30 جنوری 2019 کو میڈیکل بورڈ نے جیل میں نوازشریف کا معائنہ کیا۔

چیف جسٹس نے کہا میڈیکل بورڈ نے بھی صرف مزید معائنے کی تجویز دی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق نوازشریف کا دل بالکل ٹھیک ہے۔
خواجہ حارث نے کہا جوشریان دماغ کو خون پہنچاتی ہے اس میں 43 فیصد خرابی ہے،2016 میں لندن کے ڈاکٹرز کی رپورٹ کے مطابق پہلے شریان 17 فیصد خراب تھی۔
یہ شریان 50 فیصد خراب ہوجائے تو ایمرجنسی کی صورتحال پیدا ہوسکتی۔

نوازشریف کو انجائنا کی بیماری بھی لاحق ہے۔7 فروری 2019 کی رپورٹ کے مطابق 2011 میں نوازشریف کے دل کا بایاں حصہ خراب ہوا،2011 میں نوازشریف کی اوپن ہارٹ سرجری ہوئی۔

خواجہ حارث نے مزید بتایا نوازشریف کو سینے میں درد کی شکایت ہوئی جو ایک گولی دینے سے ٹھیک ہوگئی،ہررپورٹ میں کہا گیا ہے نوازشریف کو اسپتال منتقل کیا جانا چاہیے۔تمام میڈیکل رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ مریض کی انجیو گرافی ہونی چاہئے۔

خواجہ حارث نے عدالت کو بتایا کہ اصل ایشو یہ آرہا ہے کہ انجیو گرافی کے دوران گردوں کو خطرہ ہوسکتا ہے۔

جسٹس یحی آفریدی نے ریمارکس دیے کہ یہ کسی ایک مریض کا مسئلہ نہیں،ہرمریض کو خطرہ ہوتا ہے۔انجیو گرافی کے ساتھ دل کے آپریشن کا بھی امکان ہوتا ہے۔

خواجہ حارث نے عدالت کو بتایا کہ نوازشریف کے دل میں پہلے ہی اسٹنٹ پڑے ہوئے ہیں۔نوازشریف کی اوپن ہارٹ سرجری بھی ہوچکی ہے۔تجاویز میں کہا گیا ہے کہ دل کے آپریشن کی ضرورت پڑسکتی ہے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ نوازشریف جب بھی اسپتال گئے،ٹیسٹ کیے گئے اور علاج بھی ہوا۔
خواجہ حارث نے کہا نوازشریف کا ابھی علاج شروع نہیں ہوا۔ اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ دل کے علاج کی توضرورت ہی نہیں۔
سپریم کورٹ نے نیب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت 26مارچ تک ملتوی کردی ۔

واضح رہے کہ 25 فروری کو طبی بنیادوں پر سزا معطلی کی درخواست  مسترد ہونے پر نواز شریف نے اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں یکم مارچ کو چیلنج کیا تھا۔

نواز شریف کی جانب سے جمع کرائی گئی درخواست ضمانت میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ وہ عارضہ قلب میں مبتلا ہیں اور ان کی تین ہارٹ سرجریز ہو چکی ہیں، ہائی کورٹ سے اپیل پر فیصلہ آنے تک سزا معطل کر کے اُنہیں ضمانت پر رہا کیا جائے۔

کیس کی سماعت کے بعد سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو میں مسلم لیگ ن کے رہنما حمزہ شہباز نے کہا کہ نواز شریف کو علاج کی ضرورت ہے۔نواز شریف دل کے مریض ہیں انہیں 7اسٹنٹس پڑے ہیں۔  نواز شریف کی صحت پر نومولود سیاستدان سیاست کررہے ہیں۔ 70سالہ شخص کو ایک اسپتال سے دوسے اسپتال لے جایا جارہاہے ۔

حمزہ شہباز نے کہا جب نیازی صاحب کنٹینر سے گرے تھے تو نوا زشریف انکی عیادت کے لیے گئے ۔

.

وزیر اطلاعات صمصام بخاری  نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ نواز شریف کی خاندان سے ملاقاتوں کیلئے یہی کہوں گا کہ یہ سب بہت پہلے ہوجانا چاہیے تھا
ہم نے علاج کی صاف پیش کش کی  ہے۔ میاں صاحب نے کہا کہ میں نے ضمانت کیلئے درخواست دی ہے۔ پاکستان میں میاں صاحب جہاں بھی چاہیں علاج کیلئے تیار ہیں۔

صمصام بخاری نے کہا مریم نواز اور شہباز شرہف کو ملنے کا کوئی مسئلہ نہیں۔ شریف خاندان جب چاہےنواز شریف سے ملاقات کرلے۔

معاونت
متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز