برمنگھم کی 5 مساجد پر حملے، مساجد کے شیشے توڑ دیے


برمنگھم:سانحہ نیوزی لینڈ کے بعد برمنگھم کی مساجد بھی سفید فام انتہا پسندوں کے نشانے پرہے ۔  پانچ مساجد کو حملہ کرکے نقصان پہنچایا گیا۔ 

نیوزی لینڈ میں پچاس افراد کو شہید کرنے کے بعد انتہا پسندوں نے یورپ میں بھی مسلمانوں پر حملے شروع کر دئیے ،، برطانیہ کے دوسرے بڑے شہر برمنگھم میں بدھ اور جمعرات کی درمیانی رات پانچ مساجد پر حملے کئے گئے ۔ حملہ آوروں نے مساجد کے دروازےاور کھڑکیوں کے شیشے ہتھوڑوں سے توڑ  ڈالے ۔ انتہا پسندوں نے ایک مسجد کے گیارہ شیشے توڑے جس کے بعد علاقے میں رہائش پذیر پاکستانی کمیونٹی شدید خوف کا شکار ہے۔

 دن بھر پاکستانی کمیونٹی کی بڑی تعدادمساجد کے باہر موجودرہی ۔ مساجد انتظامیہ وکمیونٹی کے دیگر افرادکا کہنا تھا اسلام امن پسند دین ہے اور مسلمان برطانیہ میں پرامن زندگی گزاررہے ہیں ۔ 

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق برمنگھم کے مختلف مقامات پر5 مساجد کو نامعلوم ملزمان کی جانب سے رات گئے حملہ کیا گیا۔

حملے برچ فیلڈ ،سلیڈروڈ،ایرڈنگٹن ،البرٹ روڈ،آسٹن، براڈوے ،پیری بارکے علاقوں میں کئے گئے ۔برمنگھم میں پاکستانی وکشمیری کمیونٹی کی دولاکھ کے قریب آبادی ہے ۔ انسداد دہشت گردی پولیس نے مساجد کی سیکورٹی کے لیے پیٹرولنگ بڑھاتے ہوئے واقعہ کی تحقیقات شروع کردی ہیں،،، پولیس نے شواہد اکھٹے کرکے عینی شاہدین سے بھی تفتیش کی ہے۔ 

پولیس کے مطابق ملزمان نے بھاری ہتھوڑے کی مدد سے مساجد کے شیشے توڑ دیے اور دروازوں کو نقصان پہنچایا۔ تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔ ملزمان کی جانب سے علاقے میں خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کی گئی۔ برمنگھم پولیس نے واقعہ کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

ملزمان کی تلاش کے لیے پولیس سی سی ٹی وی فوٹیج سے مدد لے رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق سانحہ نیوزی لینڈ کے بعد سے برمنگھم میں پولیس نے اپنی پٹرولنگ اور سیکیورٹی بڑھا دی تھی جب کہ مذکورہ علاقوں میں پاکستانی کمیونٹی بڑی تعداد میں آباد ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل 15 مارچ کو نیوزی لینڈ میں دہشت گردوں نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے مسجد میں موجود افراد پر اندھا دھند فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں 9 پاکستانیوں سمیت 50 افراد شہید اور درجنوں زخمی ہو گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں نیوزی لینڈ: دو مساجد پر فائرنگ، جاں بحق افراد کی تعداد 50 ہوگئی

خبررساں ایجسنی کے مطابق نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے بنگلہ دیش کی کرکٹ ٹیم بھی مسجد کے قریب ہی موجود تھی لیکن اس کے کھلاڑیوں نے بھاگ کر جان بچائی۔

نیوزی لینڈ میں پولیس کمشنر مائیک بش کا کہنا تھا کہ حملہ آوروں کی گاڑیوں کے ساتھ آئی ای ڈی بھی لگا ہوا تھا جسے ناکارہ بنا دیا گیا۔

سانحہ نیوزی لینڈ کی دنیا بھر میں تمام کمیونٹی کے افراد نے ہی مذمت کی جب کہ مختلف ممالک میں پرچم سرنگوں بھی کیے گئے تھے۔

پوپ فرانسس نے دو مساجد میں فائرنگ کے واقعے کے نیتجے میں انسانی جانوں کے ضیاع پرافسوس کا اظہارکیا ہے۔ انہوں نے نیوزی لینڈ کے لوگوں بالخصوص مسلمانوں کے ساتھ اظہاریکجہتی کیا تھا۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز