نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم کو جان سے مارنے کی دھمکیوں کا انکشاف

نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم کو جان سے مارنے کی دھمکیاں

نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن کو سوشل میڈیا پر جان سے مارنے کی دھمکیاں ملنے کا انکشاف ہوا ہے ۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کو دھمکیاں سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر دی گئیں ۔ اس واقعے کے بعد پولیس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔

نیوزی لینڈ ہیرالڈ کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم کو ٹوئٹر پر پیغام دیا گیاکہ ’’اس کے بعد آپ کی باری ہے‘‘۔ پیغام کے ساتھ ایک بندوق کی تصویربھی  بھیجی گئی۔

دھمکی دینے والے شخص کے ٹوئٹر اکاؤنٹ معطل ہونے سے 48 گھنٹے قبل اس تصویر کو پوسٹ کیا گیا تھا، تاہم مختلف لوگوں کی جانب سے اسے رپورٹ کرنے کے بعد اکاؤنٹ کو معطل کردیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے: نیوزی لینڈ: آٹومیٹک اورسیمی آٹو میٹک اسلحے پرپابندی کا اعلان

اس کے علاوہ جیسنڈ آرڈرن اور نیوزی لینڈ پولیس کو مخاطب کرتے ہوئے پوسٹ کی گئی ایک اور  تصویر میں ‘اگلے آپ ہیں’ لکھا ہوا تھا۔ٹوئٹر کی طرف سے معطل کیے گئے اکاؤنٹ پر اسلام مخالف مواد اور سفید فام نفرت انگیز تقاریر موجود تھیں۔

اس حوالے سے پولیس کی ترجمان نے ہیرالڈ کو بتایا کہ ‘پولیس ٹوئٹر پر کیے جانے والے تبصروں سے باخبر ہے اور انکوائریز عمل میں لائی جارہی ہیں’

واضح رہے کہ نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں گزشتہ جمعہ کو ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیوں میں 50 افراد شہید اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔

سفید فام نسل پرست دہشت گرد نے مساجد میں اس وقت فائرنگ کی تھی جب لوگ نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے مساجد میں موجود تھے۔

نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے 16مارچ کو پریس بریفنگ میں کہا تھا کہ مقامی آبادی کی سیکیورٹی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ مساجد کو سیکیورٹی کی سہولیات فراہم کررہے ہیں۔

نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا ایرڈن نے حملے کے دوسرے دن ہی اعلان کیا تھا  کہ ملک میں اسلحہ قوانین تبدیل کیے جائیں گے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز