بلاول بھٹو کی قیادت میں ’کاروان بھٹو‘ ٹرین مارچ نوابشاہ پہنچ گیا

نواب شاہ: چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں ’کاروان بھٹو ٹرین مارچ‘ نواب شاہ پہنچ گیا۔

ہم نیوز کے مطابق نواب شاہ ریلوے اسٹیشن پر چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری کا استقبال رکن صوبائی اسمبلی طارق مسعود آرائیں سمیت مقامی قیادت نے کیا۔ اس موقع پر پارٹی کارکنان کی بھی بہت بڑی تعداد موجود تھی جنہوں نے قائدین پر گلپاشی کی اور نعرے لگائے۔

بلاول بھٹو زرداری شیڈول کے مطابق آج رات نواب شاہ میں قیام کریں گے۔ صبح ان کی قیادت میں کاروان بھٹو کا قافلہ لاڑکانہ کے لیے روانہ ہوگا۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں ’کاروان بھٹو ٹرین مارچ’ کا آغاز منگل کے دن کراچی کینٹ ریلوے اسٹیشن سے ہوا تھا۔

ہم نیوز کے مطابق رکن قومی اسمبلی بلاول بھٹو زرداری نے استقبالیہ کارکنان سے خطاب اور ذرائع ابلاغ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کوئی تحریک نہیں چلا رہی ہے لیکن موجود ہ حکومت ٹرین مارچ سے بھی خوف زدہ ہو گئی ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت کے اتحادی بھی اس سے ناراض ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اتحادیوں کے مطالبات پورے نہیں ہوں گے تو حکومت نہیں چل سکے گی۔

چیئرمین پی پی پی نے کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی سیاست نیب سے شروع ہوتی ہے اور نیب پر ختم ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سلیکٹڈ حکومت کو نیب ہی چلاتی ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پرویز مشرف کا نیب قانون ختم کرنا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ سیاست دانوں  کے ساتھ سب کا احتساب ہونا چاہیے۔

چیئرمین پی پی پی نے زور دیا کہ احتساب کے لیے نیا ادارہ بنانے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فوجی عدالتیں کامیاب نہیں ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ عدالتی سسٹم کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان تحریک انصاف کو ایک جیسی جماعتیں قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ
عمران خان اور نواز شریف کی معاشی پالیسیاں ایک ہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں جماعتیں امیر کو امیر تر بنانے کی پالیسی اپناتی ہیں۔

ہم نیوز کے مطابق بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی لیفٹ سینٹر کی جماعت ہے اورغریب کی بات کرتی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پی پی پی کو کمزور کر کے سندھ تک محدود کرایا گیا۔

چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ سیاست میں آنے کے دس سال بعد تک مجھ پر کوئی الزام نہیں لگا لیکلن اب میری کردار کشی کی جا رہی ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ زبردستی مذہب تبدیل کرانے کی مذمت کرتا ہوں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ سندھ اسمبلی نے بل منظور کیا تھا لیکن سابق گورنر کی وجہ سے وہ قانون نہ بن سکا۔

کاروان بھٹو کے نام سے شروع ہونے والے  ’ٹرین مارچ‘ کی قیادت چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کی۔

انہوں نے کراچی کینٹ اسٹیشن سے لے کر نواب شاہ پہنچنے تک کے راستے میں جگہ جگہ استقبالیہ کارکنان اور عوام الناس سے خطاب بھی کیا۔

ہم نیوز کے مطابق حیدر آباد میں جمع ہونے والے جیالوں اور جیالیوں سے خطاب میں بلاول بھٹو نے کہا کہ یہ کوئی لانگ مارچ نہیں ہے لیکن اس پر ہی وزیراعظم ہاؤس سے چیخیں بلند ہو رہی ہیں۔

انہوں نے کہا 2018کے انتخابات میں بھرپور دھاندلی کی گئی ۔ ہمیں پنجاب ، کے پی اور جگہ جگہ الیکشن کمپئین کرنے سے روکا گیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ لیاری میں تاریخ کی بدترین دھاندلی کی گئی۔ان کا کہنا تھا کہ فارم 45آج تک نہیں مل سکا۔

بلاول بھٹو نے کہا یہ لوگ جو کچھ دھاندلی کے ذریعے نہیں حاصل کرسکے اب نیب گردی کے ذریعے حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہم احتساب سے خوفزدہ نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب احتساب ہوتا ہے تو جمہوریت زیادہ طاقتور ہوتی ہے لیکن ہم احتساب کے نام پر سیاسی انتقام کو نہیں مانتے ہیں۔

بلاول بھٹو نے کہا ہم احتساب کے نام پر سیاسی انجینئرنگ کو نہیں مانتے ہیں۔ ان کا استفسار تھا کہ یہ کس قسم کا احتساب ہے کہ جب ایک کیس کراچی کا ہے،کراچی میں ایف آئی آر درج ہوئی ہے اور ملزم بھی کراچی میں ہے  توراولپنڈی میں ٹرائل کیوں کیا جارہا ہے؟

ان کا کہنا تھا کہ اس سے کیا پیغام دیا جارہاہے ؟ انہوں نے کہا کہ  اس سے یہ پیغام دیا جارہاہے کہ یہ احتساب نہیں انتقام ہے۔

ہم احتساب سے خوفزہ نہیں ہیں لیکن یہ رول آف لا کے خلاف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کیس کراچی کا ہے تو ٹرائل پنڈی میں کیوں؟ ان کا کہنا تھا کہ ہم جانتے ہیں بھٹوز کے لیے ہمیشہ پنڈی میں کربلا بپا کیا گیا۔

ہم نیوز کے مطابق انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی نے ہمیشہ عدلیہ کا احترام کیا ہے اور وہ جمہوریت پر یقین رکھتی ہے۔ پیپلزپارٹی سمجھتی ہے کہ عدالتیں آزاد ہونگی تو جمہوریت مضبوط ہوگی۔

ہم عدالت کے ہر فیصلے کو قبول بھی کرلیتے ہیں مگر جب انصافی ہوتو اس پر آواز بھی بلند کرتے ہیں۔ کیا ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کا کیس سست روی کا شکار نہیں ہے؟

کیا بھگوڑے مشرف کا کیس اور اصغر خان کیس سست روی کا شکار نہیں؟ اگر بے نامی اکائونٹس انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے تو لاپتہ افراد کیس بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، میڈیا پر پابندی بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ الیکشن میں دھاندلی بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ امید ہے عدالت اس پر بھی از خود نوٹس لیکر عوام کو انصاف فراہم کریگی۔

کوٹری پہنچنے پر ٹرین مارچ سے خطاب میں بلاول بھٹو نے کہا کہ کسی کو اپنے مستقبل کا فیصلہ نہیں کرنے دیں گے۔ہم اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں گے۔
کرپشن کا نام لے کر سیاسی انتقامی کارروائی کی جا رہی ہے۔ پیپلزپارٹی نے غیرجمہوری قوتوں کا مقابلہ کیا ہے ۔ یہ سمجھتے ہیں بے نظیرکابیٹا ڈرجائےگا یا جھک جائےگا۔

بلاول بھٹو کا کوٹری میں ٹرین مارچ سے خطاب

بلاول بھٹو نے کہا سب سےزیادہ گیس پیداکرنےوالےصوبے کو ہی گیس نہیں ملتی۔ ہم کسی کو صوبے کے حقوق چھیننے نہیں دیں گے۔ وفاق آج بھی سندھ کے120رب روپے دباکربیٹھا ہے۔  یہ آپ کا پیسہ ہے آپ کی تعلیم اور صحت پر خرچ کریں گے۔

یہ کیسانظام ہے،دہشت گردوں کےلیے این آر او اورسیاسی مخالفین کےلیے انتقام ؟ دہشت گردوں کے فنڈز کےلیے جے آئی ٹی نہیں بنائی جاتی۔ میرے دھوبی کے بل کی تحقیقات کےلیے جےآئی ٹی بنادی گئی۔
پیپلزپارٹی انہیں عوام کےحقوق چھیننے نہیں دے گی،ہم انہیں سازش کرکے سندھ کا پانی بندکرنے نہیں دیں گے۔2018انتخابات میں تاریخ کی بدترین دھاندلی کی گئی۔

 


چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کینٹ اسٹیشن پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کارکنان کی جانب سے پرتپاک استقبال پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ہم سب بھٹو کی سپاہی ہیں اور آج ہم غریبوں کے لیے باہر نکلے ہیں۔

پیپلزپارٹی کا بلاول کی قیادت میں ٹرین مارچ
پیپلزپارٹی کا بلاول بھٹو کی قیادت میں ٹرین مارچ

انہوں نے کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم دنیا کو پیغام دیں گے کہ کل بھی بھٹو زندہ تھا اور آج بھی بھٹو زندہ ہے۔ یقین ہے کہ عوام 4 اپریل کو گڑھی خدا بخش پہنچیں گے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ آج بھی ذوالفقار علی بھٹو کے کارکنان موجود ہیں، کارواں بھٹو کراچی سے لاڑکانہ تک ہو گا۔ گڑھی خدا بخش میں ذوالفقار علی بھٹو کو خراج عقیدت پیش کریں گے۔

بلاول بھٹو نے اپنی تقریر کے اختتام پربانی پاکستان پیپلز پارٹی ذوالفقار علی بھٹو کے لیے لکھی گئی ایک نظم کے اشعار بھی پڑھے۔

کراچی کینٹ اسٹیشن پر موجود پیپلز پارٹی کے کارکنان نے وفاقی حکومت کے خلاف نعرے بھی لگائے۔

بلاول بھٹو زردای کی زیر قیادت پیپلزپارٹی کا ٹرین مارچ
بلاول بھٹو کا ٹرین مارچ جنگ شاہی پہنچ گیا

جنگ شاہی میں کارکنوں سے خطاب میں بلاول بھٹو نےکہا چار اپریل کو شہید بھٹو کا دن ہے، شہید بھٹو کے آئین کے دفاع کے لئے تیار ہیں ۔ قائد عوام کو خراج عقیدت پیش کرنے جا رہے ہیں،  دنیا کو پیغام دینا ہے کہ آج بھی شہید بھٹو اور شہید بی بی کے کارکن موجود ہیں۔

انہوں نے کہا ہم جمہوریت اور انسانی حقوق کے دفاع کے لئے تیار ہیں، شہید بی بی بی نے پارٹی پرچم اٹھایا اور پارٹی کو زندہ رکھا ،غیر جمہوری قوتیں سمجھتی ہیں کہ پی پی پی کو ختم کرسکتے ہیں۔

چالیس سال پہلے  شہید بھٹو کو تختہ دار پر لٹکا دیا وہ غلط تھے آج ہم سب موجود ہیں پرچم تھامے  ہوئے ہیں ،مشن کو اب ہم مکمل کریں گے ۔

بلاول نے کہا وہ آج بھی قائد عوام سے ڈرتےہیں، وہ قائد عوام تھا اور آج بھی قائد عوام ہے۔  سندھ اور قومی اسمبلی میں شہید بھٹو کا  نام لیا جاتا ہے تو ان کے وزیر ڈر جاتے ہیں ۔ ان کیے وزرا کی چیخیں نکلتی ہیں

انہوں نے کہا یہ آج بھی شہید ذوالفقارعلی بھٹو سے ڈرتے ہیں یہ بھٹوکی سیاسی سوچ اور فکر سے ڈرتے ہیں ۔

بلاول نے کہا  جس آئین کے لئے ہمارے کارکنوں نے جانیں دیں ہمارا خون پسینہ شامل ہے ۔ ہم آنچ نہیں آنے دیں گے یہ سمجھتے ہیں کہ نیب گردی کے ذریعہ ہماری زبان بند کرسکتے ہیں۔  ہمارے کارکن کو ڈرا سکتے ہیں یہ کیا چاہتے ہیں یہ آپ  کے  معاشرتی حقوق چھینا چاہتے ہیں۔

سابق صدر آصف زرداری نے بھی بلاول کے ٹرین مارچ کے حوالے سے بیان جاری کیاہے ۔ آصف زرداری نے کہا ہے کہ اللہ اور عوام بلاول بھٹو کے محافظ ہیں۔شہید بی بی کا بیٹا عوام کے پاس ہے ۔

بلاول بھٹو کا استقبال کرنے والوں کا شکر گذار ہوں ۔ عوام ہی بلاول بھٹو زرداری کی سیاسی وارث ہے ۔ بھٹو کا عوام سے اور عوام کا بھٹو سے عشق کبھی ختم نہیں ہوگا۔

سماجی ربطے کی ویب سائٹ پر بھی پیپلزپارٹی کے کارکنوں کی طرف سے مارچ کے حوالے سے پوسٹس شئیر کی جارہی ہیں۔

ہم نیوز کے مطابق چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری ٹھٹھہ، جامشورو اور حیدرآباد اسٹیشنز پر بھی رک کر جیالوں سے ملاقاتیں کریں گے۔

بلاول بھٹو زرداری ٹرین مارچ کے دوران رات کو نواب شاہ میں قیام کریں گے اور 27 مارچ کی صبح براستہ سکھراسٹیشن لاڑکانہ کے لیے روانہ ہوں گے۔

چیئرمین پیپلزپارٹی لاڑکانہ میں چار اپریل کو ذوالفقارعلی بھٹو کی برسی میں شرکت کریں گے۔

وزیر بلدیات سندھ و صدر پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن سعید غنی نے مارچ کی تیاریوں کا جائزہ لینے کے لیے کینٹ اسٹیشن کادورہ کیا۔


اس موقع پر انہوں نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ اگر حکومت نے کاروان بھٹو ٹرین مارچ روکنے کی کوشش کی تو ہم ٹرین کو دھکا کر بھی مارچ شروع کردیں گے۔

سعید غنی نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری کی دو چار تقریروں اور پریس کانفرنس نے وفاقی حکومت کی نیندیں حرام کر دی ہیں۔

ٹرین مارچ کی تیاریوں کے سلسلے میں صوبائی وزیر شہلا رضا سمیت دیگر رہنماؤں نے  بھی کینٹ اسٹیشن کا دورہ کیا اور انتظامات کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر شہلا رضا نے میڈٰیا سے گفتگو میں کہا کہ بلاول بھٹو عوام سے رابطوں کاآغاز کرنے جارہے ہیں۔ حکومت نے مہنگائی کا بازار گرم کررکھا ہے، اس کے خلاف پیپلزپارٹی کا یہ پہلا مظاہرہ ہوگا۔

چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو کے لانڈھی اسٹیشن پر استقبال کی تیاریوں کے سلسلے میں چیئرمین ضلع کونسل کراچی سلمان مراد کی صدارت میں اراکین کونسل کا اجلاس ہوا۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کارکنان صبح نو بجے لانڈھی اسٹیشن پہنچ کر بلاول بھٹو زرداری کا شاندار استقبال کریں گے۔

پیپلزپارٹی کے رہنما عاجز دھامرا نے کہا کہ فنی خرابی کےنام پرکارواں میں روڑے اٹکانےکی کوشش کی جارہی ہے، اس کے باوجود بلاول بھٹو کا تاریخی استقبال ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ کاروان بھٹو منگل سے شروع ہوگا جس کا اختتام 27 مارچ کی رات آٹھ بجے بلاول بھٹو کی تقریر سے ہوگا۔

پیپلزپارٹی کے ٹرین مارچ کے حوالے سے وفاقی وزیراطلاعات فواد چودھری نے بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر تبصرہ کیا ہے ۔ انہوں نے لکھا’’آج کراچی سے دنیا کے پہلے ابو بچاؤ ٹرین مارچ کا آغاز ہوا ہے، پہلی تحریک جو کرپشن کو قانونی تحفظ کےلئے شروع کی جا رہی ہے۔‘‘

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز