تمباکونوشی کیخلاف قوانین پر عمل درآمدکیلئے ورکشاپ کروانےکا فیصلہ

تمباکونوشی کیخلاف قوانین پر عمل درآمدکیلئے ورکشاپ کروانےکا فیصلہ

فائل فوٹو

اسلام آباد: وفاقی وزیر صحت عامر کیانی کی ہدایت پر وزارت قومی صحت نےتمباکو نوشی کی روک تھام کے قوانین پر عمل درآمد کے لئے تمام وزارتوں اور ڈویژنوں کے فوکل پرسن کی ایک روزہ تربیتی ورکشاپ منعقد کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔

اسلام آباد میں تمباکو نوشی کی روک تھام اور عمل درآمد کو یقینی اور تیز بنانے کے لیے وزارت قومی صحت ایک تربیتی ورکشاپ منعقد کرے گی۔

مذکورہ ورکشاپ چار اپریل 2019 کو پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز(پمز) اسپتال اسلام آباد کے ایم سی ایچ آڈیٹوریم میں ہوگی۔

وزارت قومی صحت کے مطابق دنیا بھر میں تمباکو نوشی سے سالانہ ستر لاکھ اموات ہوتی ہیں اور پاکستان میں تمباکو نوشی سے سالانہ ایک لاکھ ساٹھ ہزار افراد کی موت واقع ہوتی ہے۔

پاکستان نے فریم ورک کنونشن آن ٹوبیکو کنٹرول پر دستخط  کیے ہیں اور پاکستان پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کرنے کے لیے پر عزم ہے۔

ہمارے میں تمباکو نوشی کی روک تھام کا قانون 2002 سے موجود ہے۔ جس کے تحت تمام پبلک مقامات پر تمباکو نوشی پر پابندی ہے۔
وفاقی حکومت نے اسلام آباد میں سموک فری پروجیکٹ بھی شروع کر رکھا ہے جس کے تحت ڈسٹرکٹ عمل درآمد اور مانیٹرنگ کمیٹی ڈپٹی کمشنر اسلام کی صدارت میں کام کرتی ہے۔

وزارت صحت کے مطابق وفاقی حکومت تمباکو نوشی کی روک تھام اور اس کے خاتمے کے لیے پر عزم ہے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز