ماڈل کورٹس، دوسرے دن 116 مقدمات کے فیصلے


اسلام آباد: ملک بھر کی 116 ماڈل کورٹس کی دوسرے روز کی کارکردگی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرادی گئی ہے۔

ماڈل کورٹس کے مانیٹرنگ سیل کے ڈائریکٹر جنرل سہیل ناصر کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق آج ملک بھر میں تیز تر ٹرائل کے ذریعے 116 مقدمات کے فیصلے کئے گئے۔

عدالتوں نے 43 قتل کے مقدمات کے فیصلے کیے اور 73 منشیات کیسز کو نمٹایا۔

عدالتوں نے مجموعی طور پر 56 لاکھ پانچ ہزار چھ سو چوبیس روپے کے جرمانے عائد کئے گئے۔

رپورٹ کے مطابق ملک بھر سے دو ملزمان کو سزائے موت سنائی گئی۔ اسلام آباد میں چار قتل اور ایک منشیات کے مقدمے کا فیصلہ ہوا۔

ماڈل کورٹس نے پنجاب میں 12 قتل اور 33 منشیات کیسز کے فیصلے کیے، خیبر پختونخوا میں سات قتل اور 15 منشیات کے کیسوں کا فیصلہ کیا گیا ۔

سندھ میں قتل کے چھ، منشیات کے سات کیسز کے فیصلے کئے گئے جبکہ بلوچستان میں قتل کے چودہ اور منشیات کے 17 کیسوں کو نمٹایا گیا۔

عدالتوں کی جانب سے ملک بھر سے 13 ملزمان کو عمر قید کی سزا سنائی گئی اور 662 گواہان کے بیانات قلمبند کیے۔

ملک بھر کی 116 عدالتوں کے قیام کے پہلے روز 89 کیسز کا فیصلہ کیا تھا جس میں 39 قتل اور 50 منشیات کے مقدمات تھے۔

ماڈل کورٹس

چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ کے ویژن کے مطابق سائلین کو فوری اورسستے انصاف کی فراہمی کے لیے یہ عدالتیں قائم کی گئی ہیں، ان میں صرف قتل اور منشیات کے مقدمات کی سماعت ہوگی۔

پہلے مرحلے میں پرانے کیسز سے آغاز ہوگا جن کی مانیٹرنگ کے لیے باقاعدہ ایک سیل بنایا گیا ہے۔

عدالتوں میں آن لائن بیان ریکارڈ کرنے کی سہولت کے علاوہ بڑی اسکرین، کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی سہولتیں بھی موجود ہیں جبکہ پوری کارروائی کی نگرانی کے لیے سی سی ٹی وی کیمرے بھی لگائے گئے ہیں۔

قتل اور منیشات کے مقدمات کے فیصلوں کو دنوں میں یقینی بنانے کے لیے عدالتیں کسی صورت التواء نہیں دیں گی۔

ملک بھر کی ماڈل عدالتوں کی کارکردگی اورسستے انصاف کی فراہمی کے لیے قومی جوڈیشل کونسل کے اجلاس میں جائرہ لیا جائے گا، اجلاس میں چار صوبوں کے چیف جسٹسز اور ماتحت عدلیہ کے تمام ججز بھی شرکت کریں گے۔

واضح رہے ملک بھر میں 18 لاکھ سے زائد مقدمات زیر سماعت ہیں، جبکہ کچھ ایسے مقدمات بھی سامنے آچکے ہیں جن کے فیصلے دہائیوں کے بعد ہوئے۔


متعلقہ خبریں