بھارت کی ’بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ‘ کانفرنس میں دوسری مرتبہ شرکت سے معذرت

نئی دہلی: بھارت نے رواں ماہ ہونے والی ’بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ‘ کانفرنس کا دوسرے سال بھی حصہ بننے سے انکار کردیا ہے۔

بھارت نے 2017 میں بھی چین کی دعوت کے باوجود اس کانفرنس کا بائیکاٹ کیا تھا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق چین کی جانب سے گزشتہ ماہ بھارتی وزرات خارجہ کو باقاعدہ دعوت دی گئی تھی تاہم بھارت نے پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے حوالے سے تحفظات کی وجہ سے اسے مسترد کیا ہے۔

بھارت کو سی پیک میں آزاد جموں و کشمیر کا منصوبوں کا حصہ بنانے پر اعتراض ہے، بھارت کا مؤقف ہے کہ اس سے اس کے اسٹریٹیجک مفادات کو نقصان ہوتا ہے۔

چین میں بھارتی سفیر وکرم مسری نے مارچ میں اس حوالے سے کہا تھا کہ کوئی بھی ملک اس منصوبے  کا حصہ نہیں بن سکتا جو کسی ملک کی علاقائی خودمختاری کو نظرانداز کرتا ہو۔

بھارتی میڈیا کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ چین نے  بھارت کی مسعود اظہر کو عالمی دہشتگرد قرار دینے کی کوشش کو ناکام بنایا ہے اس لیے بھی بھارت چین کی سربراہی میں ہونے والی اس کانفرنس کا حصہ نہیں بنے گا۔

چین میں ہونے والی دوسری بیلٹ اینڈ روڈ کانفرنس میں سو سے زائد ممالک کے نمائندے شریک ہوں گے۔

وزیراعظم عمران خان اور روس کے صدر ولادی میرپیوٹن سمیت چالیس سرابرہان مملکت بھی اس کا حصہ ہوں گے۔ امریکہ اور یورپی یونین کے تحفظات کے باوجود یورپ سے اٹلی اس منصوبے میں شریک ہوچکا ہے۔

متعلقہ خبریں