پشاور آپریشن: ہلاک ہونے والے دو دہشت گردوں کی شناخت ہوگئی


پشاور کے علاقے حیات آباد میں ہونے والے آپریشن میں ہلاک دو دہشت گردوں کی شناخت ہوگئی۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق 20 سالہ افغانستان سے تعلق رکھنے والے دہشت گرد کی شناخت عمران کے نام سے ہوئی ہے۔

عمران ایڈیشنل آئی جی اشرف نور پرخود کش حملہ سمیت دیگر کارروائیوں میں ملوث تھا۔

ذرائع نے بتایا کہ دوسرے ہلاک دہشت گرد فیروز شاہ کا تعلق جمرود ضلع خیبر سے ہے۔ ہلاک دہشت گرد کالعدم تنظیم سے وابستہ تھے۔

اس سے قبل دہشت گردوں کے زیر استعمال مکان کی این او سی لینے والا ضلع خیبر کے رہائشی جاوید آفریدی کو گرفتار کرلیا گیا۔

محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) ذرائع کے مطابق مکان سوات سے تعلق رکھنے والے عبدالناصر کی ملکیت ہے، نامعلوم افراد تین ہفتے قبل یہاں منتقل ہوئے تھے۔

ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ فارمیسی کا کاروبار کرنے والے اصل کرایہ دار سے تفتیش جاری ہے۔

سیکیورٹی فورسز کا حیات آباد کے ایک مکان میں چھپے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف گزشتہ 16 گھنٹوں تک آپریشن جاری رہا۔

اس دوران ایک پولیس اہلکار شہید جب کہ تین زخمی ہوگئے تھے۔ زخمیوں میں ایک فوجی جوان بھی شامل تھا۔ آپریشن کے دوران 5 دہشت گرد مارے گئے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے جاری بیان میں کہا ہے کہ پشاورمیں خفیہ معلومات پر دہشتگردوں کے ٹھکانے پر آپریشن کیا گیا۔ جس میں پاک فوج اور پولیس نے حصہ لیا۔

گزشتہ رات شروع ہونے والے آپریشن کے دوران 5 دہشتگرد مارے گئے جب کہ اے ایس آئی قمر عالم نے جام شہادت نوش کیا، فائرنگ کے تبادلے میں ایک آفسر اور ایک جوان زخمی ہوئے جب کہ شہید ہونے والے پولیس افسر قمر عالم کی نماز جنازہ پشاور میں ادا کر دی گئی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز کا سرچ آپریشن جاری ہے جب کہ مارے جانے والے دہشتگردوں کی شناخت کا عمل بھی جاری ہے۔

آپریشن کلیئرنس کے دوران دہشت گردوں کی پناہ گاہ کو بارودی مواد سے مسمار کر دیا گیا جب کہ مکان سے دہشت گردوں کے زیراستعمال اسلحہ، بارودی مواد اور دیگر شواہد قبضہ میں لے لیے گئے۔

ہم نیوز کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے فیصلہ کن کارروائی سے قبل اطراف کے مکانات کو بھی خالی کرایا۔ دہشت گردوں نے تین منزلہ عمارت میں پناہ لی ہوئی تھی جہاں سے وہ مورچہ بند کر سیکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ کر رہے تھے۔

سیکیورٹی اداروں نے عمارت میں موجود بارودی مواد کو ضائع کیا جب کہ آپریشن کلیئرنس کے دوران شیشہ لگنے سے خاتون زخمی ہو گئی جسے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس منتقل کیا گیا۔

سی سی پی او پشاور قاضی جمیل کے مطابق جاری آپریشن اپنے آخری مرحلے میں ہے تاہم سیکیورٹی فورسز نے اطراف کے علاقوں کو کلیئر کرایا جب کہ دہشت گرد جس مکان میں موجود تھے اسے بھی سخت مقابلے کے بعد کلیئر کر دیا گیا۔

بم ڈسپوزل یونٹ کے افسر شفقت ملک نے کہا کہ آپریشن میں تاخیر اس لیے ہوئی کہ کہیں عوام کو نقصان نہ پہنچے، عمارت میں موجود دہشت گرد بڑے شاطر تھے ساری رات مزاحمت کرتے رہے۔

انہوں نے کہا کہ گھر کے اندر 50 سے 60 کلو بارودی مواد موجود تھا جو موٹر سائیکل اور دیگر جگہوں پر نصب کیا جانا تھا۔

سی سی پی او قاضی جمیل نے کہا کہ ایک دہشت گرد رات کو ہی مارا گیا تھا جب کہ 4 دہشت گرد آج مارے گئے جب کہ آج آپریشن کے دوران دو سیکیورٹی افسران زخمی ہوئے۔
ہم نیوز نے ذمہ دار ذرائع سے بتایا ہے کہ آپریشن کو مکمل کرنے کے لیے سیکیورٹی فورسز نے نئی حکمت عملی اپنائی جس کے تحت مکان میں چھپے دہشت گردوں کی صحیح معلومات اور ٹھکانے کی نشاندہی کے لیے ڈرون کیمرے کی مدد حاصل کی گئی۔

عمارت میں پانچ سے سات دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع تھی

سیکیورٹی فورسز نے آپریشن کے آغاز میں ہی بہترین حکمت عملی اپناتے ہوئے دہشت گردوں کو مکان میں محدود کرتے ہوئے جلد ہی عمارت کی بیسمنٹ اور گراؤنڈ فلور کلیئر کرا لیے تھے۔

پشاور کے علاقے حیات آباد کے ایک مکان پر ملنے والی اطلاع پہ جب چھاپہ مارا گیا تو وہاں موجود دہشت گردوں نے پولیس پراندھا دھند فائرنگ کردی  جس کے نتیجے میں ایک اہلکار 50 سالہ قمر شہید ہوگیا۔ جس کی نماز جنازہ منگل کی صبح پولیس لائن میں ادا کر دی گئی۔

نماز جنازہ میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان، کورکمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل شاہین مظہر ،ممبران صوبائی اسمبلی نے شرکت کی جب کہ پولیس کے چاق وچوبند دستے نے شہید کو سلامی پیش کی۔

آئی جی خیبر پختونخوا محمد نعیم نے کہا کہ شہید قمر عالم دہشت گردوں کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر بہادری سے لڑے اور فرائض کی ادائیگی میں عوام کی حفاظت کے لیے جان نچھاور کر کے قابل تقلید مثال قائم کی۔ شہید کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی۔

اطلاعات کے مطابق پولیس کی جوابی فائرنگ سے ابتدا میں ایک دہشت گرد ہلاک ہوا تھا جس کے بعد دہشت گرد کے ساتھیوں کا پولیس سے مقابلہ شروع ہوا۔

یہ بھی پڑھیں لورالائی آپریشن، 2 خودکش حملہ آور سمیت 4 دہشت گرد ہلاک

پولیس مقابلے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کمانڈوز سمیت دیگر متعلقہ حکام جائے وقوعہ پر پہنچے اور انہوں نے پوزیشنیں سنبھال کر کارروائی کا آغاز کیا۔

اطلاعات کے مطابق پولیس کمانڈوز نے مکان کے اندر داخل ہونے کے لیے بکتر بند گاڑی استعمال کی اور وہ مکان کی دوسری منزل پر پہنچنے کی کوشش کررہے تھے کیونکہ فائرنگ اور مزاحمت اوپری منزل سے کی جارہی تھی۔

ہم نیوز کے مطابق صوبہ خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات شوکت یوسف زئی نے اس ضمن میں کہا ہے کہ حیات آباد کے فیز 7 میں ایک مکان کے اندر دہشت گردوں کے چھپے ہونے کی اطلاع ملی تھی۔

شوکت یوسف زئی نے واضح کیا کہ اس آپریشن میں فوج نے بھی حصہ لیا جسے پولیس کی بھرپور مدد و معاونت حاصل رہی۔

انہوں نے ذرائع ابلاغ کو بتایا تھا کہ اطلاع ملنے پر پولیس جائے وقوع پر پہنچی تو دہشت گردوں نے فائرنگ شروع کردی۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے گھر کو گھیرے میں لے کر علاقے کا محاصرہ کیا۔

صوبائی وزیر اطلاعات نے کئی گھنٹے جاری رہنے والے آپریشن کے دوران بتایا کہ پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے آپریشن کیا۔ انہوں نے تصدیق کی کہ پولیس کے اور سیکیورٹی فورسز کے مکان میں داخل ہونے پر دوبارہ فائرنگ کی گئی اورتین راکٹ لانچر بھی مارے گئے۔

شوکت یوسف زئی نے بتایا تھا کہ جواب میں پولیس نے آر پی جی سیون راکٹ لانچر فائر کیا۔

صوبائی وزیر اطلاعات کے پی نے واضح کیا کہ گزشتہ دنوں حیات آباد میں ایک جج اور ایڈیشنل آئی جی پر حملے ہو چکے ہیں۔

حیات آباد کے ایک مکان میں چھپے دہشت گردوں کی اطلاع ملتے ہی امدادی اداروں کے رضاکاروں سمیت دیگر متعلقہ اداروں کے متعلقہ اہلکاروں کی بڑی تعداد جائے وقوعہ پر پہنچ گئی تھی۔


متعلقہ خبریں