فرانس:گرجا گھر میں لگی آگ پر قابو پا لیا گیا، چھت ومینار زمیں بوس

April 16, 2019


اسلام آباد: 12 ویں صدی عیسوی سے تعلق رکھنے والے پیرس کے مشہور و معروف نوٹرڈیم کیتھڈرل میں لگنے والی آگ پرکئی گھنٹوں کی مسلسل کوشش کے بعد قابو لیا گیا ہے۔ تاریخی گرجا گھر کی چھت اور مینار زمیں بوس ہوگئے ہیں۔

فرانس کے صدر نے اعلان کیا ہے کہ تاریخی گرجا گھر کو اس کی اصل حالت میں بحال کیا جائے گا۔ امریکی صدر اظہار افسوس کرتے ہوئے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آگ کے دوران مشورہ دیا تھا کہ پیرس کے تاریخی گرجا گھر میں ہونے والی آتشزدگی سے نمٹنے کے لیے فلائنگ واٹر ٹینکر کا استعمال کیا جائے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ مشورہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ٹوئٹر‘ پر جاری کردہ اپنے پیغام میں دیا تھا۔ انہوں نے ساتھ ہی ہدایت کی تھی کہ اس عمل میں تاخیر نہ کی جائے اور فوری قدم اٹھایا جائے۔

پیرس کے مشہور نوٹرڈیم کیتھڈرل میں تعمیر نو کے دوران گزشتہ روز آگ بھڑک اُٹھی تھی جس پر کئی گھنٹوں کی مسلسل کوشش کے بعد قابو پالیا گیا۔

عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق قرون وسطیٰ کے دور سے تعلق رکھنے والے چرچ میں لگنے والی آگ کے شعلوں نے نہایت تیزی کے ساتھ چرچ کی چھت اور بلند مینار کو لپیٹ میں لے لیا جس کی وجہ سے چرچ کا مینار منہدم ہوگیا اور چھت گرگئی۔

 

خبررساں ادارے کے مطابق پیرس میں نوٹرڈیم کے مشہورِ کلیسا کی عمارت آگ لگنے سے خاکستر ہو گئی ہے اور ساتھ ہی مصوری کے تاریخی فن پارے بھی نذرآتش ہوئے ہیں۔

فرانسیسی میڈیا کے مطابق درجنوں فائر فائٹرز نے آگ بجھانے کی کوششوں میں حصہ لیا جب کہ حکام نے لوگوں کو جائے وقوعہ سے دور رہنے کی ہدایت کی۔

عالمی خبررساں ایجنسی نے کیتھڈرل کے ترجمان کے حوالے سے بتایا ہے کہ شام ساڑھے چھ بجے اچانک فائر الارم کے بجنے پر کیتھڈرل کو خالی کرا یا گیا۔ آگ لگنے کی وجہ فوری طور پر سامنے نہیں آسکی ہے۔

مغربی میڈیا کے مطابق پیرس کی میئر اینی ہیڈالگو کا کہنا ہے کہ فائر فائٹرز آگ پر قابو پانے میں مصروف ہیں لہذا عوام سیکیورٹی حدود کا احترام کریں۔

امریکی ذرائع ابلاغ نے فائرفائٹرز کے حوالے سے کہا ہے کہ آتشزدگی کے باعث 800 سال سے قدیم گرجا گھر کی چھت اور ایک مینار زمیں بوس ہوگئے ہیں لیکن پتھروں سے بنے ڈھانچے کو تباہ ہونے سے بچا لیا گیا ہے۔

خبررساں ادارے کے مطابق فائر فائٹرز نے مرکزی ٹاور کو آگ سے بچا لیا لیکن اس جدوجہد میں ایک فائر فائٹر زخمی ہو گیا۔

 

امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق پیرس کے فائر چیف جین کلاؤڈ نے جائے وقوعہ پر میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ ہم نے نوٹرڈیم کے دو ٹاورز کو تباہ ہونے سے بچا لیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس وجہ سے ہمیں یقین ہے کہ تاریخی گرجا گھر کا مرکزی ڈھانچہ مکمل محفوظ ہے۔

نوٹرڈیم میں ہونے والی شدید آتشزدگی کے باعث صدر ایمنوئل میکرون نے قوم سے اپنے ٹیلی وژن خطاب کو ملتوی کر دیا اور ساتھ ہی اعلان کیا کہ تاریخی کیتھڈرل کو اپنی اصل حالت میں بحال کیا جائے گا۔

مغربی میڈیا نے فائر فائٹرز کے حوالے سے کہا ہے کہ زیادہ امکان یہی ہے کہ آگ تزئین و آرائش کے کسی کام کی وجہ سے لگی ہو۔

عالمی خبررساں ایجنسی کے مطابق گرجا گھر کے کئی حصوں میں مرمت اور تزئین و آرائش کے لیے مچانیں کھڑی ہیں اور گزشتہ ہفتے ہی کانسی کے مجمسوں کو ہٹایا گیا تھا۔

خبررساں ادارے نے فرانسیسی حکام کے حوالے سے کہا ہے کہ تاریخی عمارت کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے ایئر ٹینکر کا استعمال نہیں کیا گیا۔

قرون وسطیٰ کے دور سے تعلق رکھنے والا کیتھولک کیتھڈرل مغرب میں سیاحت کے سب سے بڑے مراکز میں شمار ہوتا ہے اور ہر سال پوری دنیا سے لوگ اسے دیکھنے آتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز