پی ٹی ایم اور پارلیمان کا پہلا باقاعدہ رابطہ

۔—ٹوئٹر تصویر۔

پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) اور پارلیمان کے درمیان پہلا باقاعدہ رابطہ ہوا ہے۔

یہ رابطہ قومی یکجہتی اور ہم آہنگی کو فروغ دینے کیلئے سینیٹ کی خصوصی کمیٹی کے اجلاس کے دوران ہوا جس میں پی ٹی ایم کے سربراہ منظور پشتین اور رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ شریک تھے۔

منظور پشتین نے کمیٹی کو اپنے تحفظات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ لاپتہ افراد کی بازیابی، بارودی سرنگوں کو ہٹانے اور ایک حقائق و مصالحتی کمیشن تشکیل دینے کیلئے اقدامات کیے جائیں تاکہ ان علاقوں کے عوام کا اعتماد بحال ہو۔

انہوں نے سینیٹ کی کمیٹی پر پورے اعتماد کا اظہار کیا اور کمیٹی کی تجاویز کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے مطالبات واضح ہیں اور ان کا حل انتہائی ضروری ہے۔

اس موقع پر کنوینئر بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا کہ طبقاتی محرومیوں کا ازالہ آئین اور قانون کے تحت ممکن ہے اور ایوان بالا نے اس کمیٹی کا قیام بھی اسی مقصد کیلئے کیا ہے تاکہ وہ طبقات جن کی حق تلفی ہو یا وہ محرومیوں کا شکار ہوں ان کے مسائل کا حل نکالا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ایوان بالا وفاق کا نمائندہ ایوان ہے جہاں نہ صرف مسائل کو سنا جاتا ہے بلکہ ان کا حل نکالنے کیلئے سفارشات مرتب کر کے ٹھوس اقدامات بھی اٹھائے جاتے ہیں اور اس طرح سے یہ ایوان وفاق، صوبوں اور محروم طبقات کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرتا ہے۔

سینیٹر بیرسٹر محمد علی سیف پی ٹی ایم کی قیادت کو خوش آمدید کہا۔ انہوں نے کہا کہ پشتون ثقافت کی اپنی روایات ہیں اور ان روایات میں جرگہ کلچر ایک ایسی روایت ہے جہاں گفت وشنید اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل نکالا جاتا ہے اور یہ کمیٹی آئین اور قانون کے مطابق ایک پل کا کردار ادا کرتے ہوئے پی ٹی ایم کے تحفظات کو دور کرنے کیلئے بھرپور کوشش کرے گی۔

تاہم انہوں نے یہ بات واضح کی کہ اس سلسلے میں مشاورت کے ساتھ آگے بڑھیں گے اور قابل عمل سفارشات مرتب کرتے ہوئے ان شکایات کا ازالہ کیا جائے گا اور پی ٹی ایم کے قیادت کے تحفظات کو دور کیا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ملک ہم سب کا ہے تاہم حکومت سے گلے شکوے ہوتے ہیں۔خطے میں سیکورٹی کی صورتحال کا سامنا ہے اور ہمارے اکثر علاقے اس سے متاثر ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مسائل ہر معاشرے کا حصہ ہیں اور ملک کے مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے مسائل کا حل نکالا جاتا ہے اور اس ضمن میں یہ خصوصی کمیٹی اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔

تین گھنٹے جاری رہنے والے اجلاس میں تمام اراکین اور پی ٹی ایم کی قیادت نے بھر پور تبادلہ خیال کیا ۔ کمیٹی اراکین نے کہا کہ آج کی اس نشست سے کافی سارے مسائل سے جانکاری ہوئی ہے اور سیکھنے کا موقع ملا ہے۔

کمیٹی نے تجویز دی کہ پی ٹی ایم کمیٹی سے موثر رابطہ کاری کیلئے فوکل پرسن مقرر کرے اور اپنے مطالبات کی فہرست تحریری شکل میں کمیٹی کے سامنے پیش کرے تاکہ ان کا تفصیل سے جائزہ لیا جا سکے اور مفصل جائزہ لینے کے بعد رپورٹ مرتب کی جا سکے ۔

کمیٹی کے کنونیئر بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا کہ ایوان بالا کو محروم طبقات کے مسائل کا پورا احساس ہے اور اسی جذبہ کے تحت چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے ایوان بالا میں اس کمیٹی کی تجویز کے فوراً بعد کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ۔

کمیٹی کے تمام اراکین نے چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی کے اس فعال کردار کو سراہا اور انہیں خراج تحسین پیش کیا۔

انہوں نے خصوصی دعوت پر کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کرنے والے اراکین جن میں سینیٹر مشاہد حسین سید اور سینیٹر مشاہدا للہ خان شامل تھے کا بھی خصوصی شکریہ ادا کیا ۔کمیٹی نے سینیٹر ستارہ ایاز کی کاوشوں کو بھی سراہا ۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز