کراچی: پولیس نے احسن کا مقدمہ اپنی مرضی سے درج کیا، والدین

کراچی: پولیس کی ایک اور سفاکی و شقی القلبی سامنے آگئی۔ کراچی پولیس کے مبینہ پولیس مقابلے میں پہلے 19 ماہ  کا کمسن و معصوم احسن اپنی جان کی بازی ہارا اور اس کے بعد پیٹی بند بھائیوں نے غمزدہ ماں باپ سے ان کا آئینی و قانونی حق بھی چھین کر اپنی مرضی کی ایف آئی آر درج کردی۔

مقتول احسن کے والد کاشف راجہ اور ان کی اہلیہ اپنی مرضی کی ایف آئی آر درج کرانے سے بھی محروم کیے جانے پر بلبلا اٹھے اور حصول انصاف کی دہائی دینے لگے۔

آئین پاکستان کے تحت ہر شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کوئی بھی مقدمہ اپنی مرضی و منشیٰ کے مطابق درج کرائے اور جو تفصیلات وہ فراہم کرے اسے لکھنا پولیس کی قانونی ذمہ داری ہے۔

درج ایف آئی آر کے درست یا غلط ہونے کا فیصلہ کرنا عدلیہ کا کام ہے جو ثبوت و شواہد کی روشنی میں فیصلہ کرتی ہے۔

ہم نیوز کے مطابق صفورہ چورنگی پہ پیش آنے والے سانحہ سے متاثرہ والدین نے مقدمہ درج ہونے کے بعد ذرائع ابلاغ سے بات چیت کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ واقع کا مقدمہ ان کی مرضی سے درج نہیں کیا گیا۔

مقتول احسن کے والد کاشف راجہ نے میڈیا کو بتایا کہ ہمیں تھانہ بلوا کر کہا گیا کہ ایف آئی آر پر دستخط کردیں۔ انہوں نے حصول انصاف کی دہائی دیتے ہوئے کہا کہ انہیں نہیں معلوم کہ ایف آئی آر میں کیا لکھا گیا ہے؟

صفورہ چورنگی پر پیش آنے والے سانحے کے وقت 19 ماہ کے احسن کو اپنی گود میں لیے ہوئے کاشف راجہ نے دعویٰ کیا کہ پولیس اہلکاروں کی فائرنگ سے ہمارے بچے کی جان گئی ہے۔

سانحہ کے متعلق انہوں نے کہا کہ وہ اپنی اہلیہ اور بیٹے کے ہمراہ صفورہ چورنگی کے قریب سے گھر آرہے تھے کہ سامنے سے دو موٹر سائیکلوں پر سوار چار پولیس اہلکار رانگ وے آئے اور قریب آتے ہی انہوں نے فائرنگ کردی۔

کمسن احسن کے والد کے مطابق گرفتار کیے گئے پولیس اہلکاروں کے متعلق بھی پولیس نے انہیں کچھ نہیں بتایا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پولیس اہلکاروں کو بچانے کے لیے حقائق کی پردہ پوشی کی جارہی ہے۔

مقتول احسن کی والدہ نے دعویٰ کیا کہ میرے سامنے پولیس والوں نے فائرنگ کی اور وہاں کوئی پولیس مقابلہ نہیں ہو رہا تھا۔

کراچی پولیس کی شقی القلبی بتاتے ہوئے دکھے دل سے غمزدہ مامتا نے بتایا کہ پولیس والوں نے فائرنگ کرنے کے بعد یہ بھی نہیں دیکھا کہ گولی کس کو اور کہاں لگی ہے؟

دنیائے فانی کو چھوڑ کر جانے والے 19 ماہ کے معصوم احسن کی والدہ نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی کہ انہیں انصاف فراہم کیا جائے۔

وزیر بلدیات سندھ سعید غنی گزشتہ روز پولیس فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے احسن کے گھر پہنچے اورگھر والوں سے تعزیت کی۔

وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے احسن کے گھر والوں سے اس واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ سعیدغنی نے انہیں یقین دلایا کہ اس معاملے میں جو بھی ملوث ہے اسے ضرور سزا دی جائے گی۔

ملک کے چاروں صوبوں میں شہریوں کی یہ شکایات عام ہیں کہ پولیس اپنی مرضی سے ایف آئی آر درج کرتی ہے اور فراہم کردہ معلومات کو توڑ مروڑ کر لکھتی ہے۔

آئینی و قانونی ماہرین کے مطابق پولیس کی جانب سے درج کی جانے والی ایف آئی آر کا زیادہ تر فائدہ مجرمان کو ہوتا ہے اور وہ مقدمہ میں موجود سقم سے فائدہ اٹھا کر بچ نکلتے ہیں۔

احسن قتل کیس میں درج مقدمہ میں نامعلوم ملزمان لکھا گیا ہے جب کہ پولیس نے چار پولیس اہلکاروں کو حراست میں بھی لینے کا دعویٰ کیا ہے اور پولیس حکام ان کے ناموں سے آشنا ہیں۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز