تفتیشی افسر پر رشوت طلب کرنے کا الزام،ڈی جی نیب کو نوٹس

سندھ ہائی کورٹ: منظور وسان کی عبوری ضمانت منظور

فوٹو: فائل

سندھ ہاٸیکورٹ نے نیب کے تفتیشی افسر پر رشوت طلب کرنے کے الزام میں ڈی جی نیب کونوٹس جاری کرتے ہوٸے طلب کرلیا۔

چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے  شہری کی درخواست پر سماعت کی ۔عمران نامی  درخواست گزار نےموقف اختیارکیا کہ  تفتیشی افسر ساجد ندیم نے رات دو بجے بلڈر کے گھر طلب کیا۔ بلڈر فاروق نیب افسر کا دوست ہے، وہاں اسٹیٹ ایجنٹ بھی موجود تھا ۔

عمران کے مطابق وہاں اس سے دس لاکھ روپے رشوت طلب کی گٸی۔درخواست گزار نے کمرہ عدالت میں گفتگو کی ریکارڈنگ بھی سنوائی ۔

گفتگو کی ریکارڈنگ سننے کے بعد چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کچھ حیا شرم ہوتی ہے،غیرت ہو تو آدمی ڈوب ہی مرتا ہے۔ کچھ یہی خیال کریں کہ قومی ادارے سے تعلق ہے۔ عزت بڑھا نہیں سکتے تو دھبہ بھی نہ لگاٸیں۔

یہ بھی پڑھیے:سندھ ہائیکورٹ:شہری کو جعلی کال اپ نوٹس بھیجنے پر ڈی جی نیب طلب

یاد رہے سندھ ہائیکورٹ نے شہری کو جعلی کال اپ نوٹس بھیجنے کے معاملے پربھی ڈی جی نیب کراچی کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا تھا۔ڈی جی نیب کوشہری شمشاد علی کو جعلی کال اپ نوٹس بھیجنے کا معاملے پر 16اپریل کو طلب کیا گیا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ  نے کیس کی سماعت  میں  ڈپٹی ڈائریکٹر افسر گل آفریدی اور نیب اینٹلی جینس کی رپورٹ مسترد کردی تھی۔ عدالت نے نیب ریکارڈ رجسٹر بھی اپنی تحویل میں لے لیاتھا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیےتھے کہ ڈپٹی ڈائریکٹر نیب  افسر گل آفریدی کے خلاف تو شہری کے اغوا کا مقدمہ بھی درج تھا۔مقدمہ درج ہوا تو گل آفریدی نے اپنا تبادلہ اسلام آباد کرالیا۔

نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا تھا کہ نیب نے معاملے کی تحقیقات کی ہے، کال اپ نوٹس نیب نے جاری نہیں کیا۔

چیف جسٹس نے کہا تھا جرم بھی نیب والے کریں اور تحقیقات بھی نیب کرے گا یہ کیسے ممکن ہے؟کیوں نا نیب کے خلاف ایف آئی اے کو تحقیقات کا حکم دیں؟

نیب پراسیکیوٹر نے کہا آپ جس سے چاہیں تحقیقات کرالیں نیب کو کوئی اعتراض نہیں ہے۔ معاملہ عدالت میں حل نہ ہوتو خفیہ ایجنسی سے بھی تحقیقات کرالیں نیب کو اعتراض نہیں ہوگا۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز