سمندری طوفان، ایک ماہی گیر کی لاش مل گئی، دیگر کی تلاش جاری

سمندری طوفان، ایک ماہی گیر کی لاش مل گئی، دیگر کی تلاش جاری

فوٹو: فائل

کراچی: طوفان کی زد میں آکر دو روز قبل لاپتہ ہونے والے ایک ماہی گیر سلیم کی لاش نکال لی گئی۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق 42 سالہ سلیم کی لاش کیٹی بندی سے ملی۔ مقتول کی لاش کو ایدھی ائیر ایمبولینس کی مدد سے تلاش کیا گیا۔ جسے غسل اور کفن کے بعد ورثا کے گھر ابراہیم حیدری بھیج دیا گیا۔

ماہی گیر سلیم العزیزی لانچ میں گہرے سمندر میں مچھلی کے شکار پر گیا تھا اور طوفانی بارشوں اور آندھی کے باعث 15 ماہی گیروں سمیت کھلے سمندر میں لاپتہ ہوا تھا۔

العزیزی لانچ کے مزید 2 ماہی گیروں کا تاحال معلوم نہیں ہو سکا

سمندری طوفان میں لاپتہ ہونے والے ماہی گیر فضل اکبر، العزیزی، الجیلانی اور مدبر نامی لانچوں میں سوار تھے۔ جن میں سے کچھ ماہی گیر تو ساحل پر پہنچ گئے تاہم ان کے دیگر 37 ساتھی تاحال لاپتہ ہیں۔ جن کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن  ایدھی ائر ایمبولینس کی مدد سےجاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں سمندری طوفان، ائر ایمبولینس کی مدد سے ماہی گیروں کی تلاش جاری

واضح رہے کہ ماہی گیروں کی 4 لانچیں گھوڑا باڑی کے کھلے سمندر میں طوفانی لہروں کا شکار ہوئیں جن میں سے ایک لانچ فشری پہنچنے میں کامیاب ہوئی تاہم اس کے دو ماہی گیر لاپتہ ہیں۔

لاپتہ لانچ فضل اکبر کا ناخدا فشری پہنچنے میں کامیاب ہو گیا ہے تاہم لانچ اور دیگر 18 ماہی گیر تاحال لاپتہ ہیں۔

دوسری لانچ العزیزی 15 ماہی گیروں سمیت کھلے سمندر میں لاپتہ ہے اور ان سے گزشتہ تین روز سے کوئی رابطہ نہیں ہوا۔ سمندری طوفان میں ڈوبنے والی تیسری لانچ الجیلانی کے 8 ماہی گیروں کو تو بچا لیا گیا تاہم اس لانچ کے بھی 3 ماہی گیر لاپتہ ہیں۔

حادثہ کا شکار ہونے والی چوتھی لانچ مدبر 12 ماہی گیروں سمیت واپس فشری پہنچ چکی ہے تاہم اس لانچ کے بھی دو ماہی گیر لاپتہ ہیں۔

فشری سیکیورٹی انچارج ناصر بونیری کے مطابق میری ٹائم سیکورٹی نے کئی ماہی گیروں کو بحفاظت کنارے پر پہنچا دیا تاہم اب 38 ماہی گیروں کی تلاش کا کام ایدھی فاونڈیشن کے تعاون سے  جاری ہے۔

متعلقہ خبریں