بھارت: بی جے پی کے ترجمان جی وی ایل نرسمہا راؤ کو جوتا پڑ گیا


نئی دہلی: بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر دفتر میں پارٹی کے ترجمان اور سینئر رہنما جی وی ایل نرسمہا راؤ کو جوتا پڑ گیا۔ اس طرح وہ بھی ’جوتا کلب‘ کے رکن بن گئے۔

بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق پارٹی ترجمان جی وی ایل نرسمہا راؤ اور بھوپیندر یادو پارٹی کے مرکزی دفتر میں پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے کہ اچانک ایک جوتا جی وی ایل نرسمہا راؤ کو لگا تو وہاں موجود تمام افراد حیران  و ششدر رہ گئے۔

جوتا پھینکنے والے کو وہاں موجود سیکیورٹی اہلکاروں نے فوراً پکڑ کر ہال سے باہر نکال دیا اور حوالہ پولیس کردیا۔

بھارت کے ذرائع ابلاغ کے مطابق بھوپال سیٹ سے سادھوی پرگیہ سنگھ کو امیدوار بنائے جانے کے متعلق پریس کانفرنس بلائی گئی تھی اور جی وی ایل نرسمہا راؤ پریس کانفرنس میں اسی کے متعلق تفصیلات بتارہے تھے کہ ہال میں موجود ایک شخص نے جوتا پھینک کر مار دیا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر وائرل ہونے والی تصویر میں جوتا بی جے پی رہنما کے منہ کے انتہائی قریب دکھائی دے رہا ہے۔

جوتا پھینکنے کے واقع کے بعد ہال میں افراتفری مچ گئی اور موقع پر موجود سیکیورٹی اہلکاروں نے مذکورہ شخص کو گرفت میں لے کر پہلے ہال سے باہر نکالا اور اس کے بعد اسے حوالہ پولیس کردیا گیا۔

بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق گرفت میں لیے جانے والے شخص نے جوتا پھینکنے کے فوری بعد اپنی جیب سے ایک وزیٹنگ کارڈ بھی نکالا کر اچھالا جس پر’شکتی بھارگو‘ درج تھا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق شکتی بھارگو کانپور کے رہنے والے ہیں اور وہ ہال میں سب سے آگے بیٹھے تھے۔ ہال میں موجود اخبارنویسوں نے جب ان سے جوتا اچھالنے کی وجہ پوچھی تو انہوں نے خاموشی اختیار کی اور چونکہ سیکیورٹی اہلکاروں نے بھی انہیں فوراً ہی ہال سے باہر منتقل کردیا اس لیے ذرائع ابلاغ کو مزید کچھ زیادہ جاننے کا موقع نہیں ملا۔

بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق بی جے پی کے مرکزی دفتر سے گرفتار کیے گئے شکتی بھارگو اس وقت آئی پی اسٹیٹ پولس اسٹیشن میں موجود ہیں جہاں پولیس ان سے تفتیش کررہی ہے۔

سیاستدانوں پر جوتے سے حملہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ عدم برداشت کے باعث پروان چڑھنے والے اس کلچر کا نشانہ ماضی میں متعدد سیاستدان بن چکے ہیں۔

سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش پر 2008 میں عراق کے اندر منعقدہ ایک تقریب میں صحافی منتظرالزیدی کی جانب سے جوتا پھینکا گیا تھا لیکن اس سے وہ بال بال بچ گئے تھے۔

سابق آسٹریلوی وزیر اعظم جان ہاروڈ پر اس وقت ایک شخص نے ان کی جانب جوتا اچھالا جب وہ ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دے رہے تھے۔

امریکہ کی سابق سیکریٹری خارجہ ہیلری کلنٹن پرلاس ویگاس میں تقریب کے دوران ایک خاتون نے جوتے سے حملہ کیا تھا۔

سابق بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ، بھارت کے سابق وزیر داخلہ چدم برم، عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کیجر یوال، مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ پر بھی جوتوں سے حملے ہوچکے ہیں۔

برطانیہ کے سابق وزرائے اعظم  ڈیوڈ کیمرون اور ٹونی بلیئر بھی ’جوتا کلب‘ کے اراکین میں شامل ہیں۔

پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف جب جامعہ نعیمیہ لاہور میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کر نے کے لیے مائیک کی طرف آئے تو ایک شخص نے ان پر جوتا اچھالا۔

اس وقت وہاں موجود مجمع میں بھگدڑ مچ گئی لیکن سیکیورٹی اہلکاروں نے فی الفور ملزم کو گرفتار کرلیا تھا۔

پی ایم ایل (ن) کے مرکزی رہنما اور سابق وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال جن اپنے حلقے ناروال میں منعقدہ پارٹی کے ورکرز کنونشن سے خطاب کررہے تھے تو ایک نوجوان نے ان پر جوتا اچھال دیا تھا جو ان کے ہاتھ پر لگا تھا۔

سیکیورٹی اہلکاروں نے جوتا اچھالنے والے کو پکڑ لیا تھا لیکن اسے وفاقی وزیر احسن اقبال کے کہنے پررہا کردیا گیا تھا۔

پاکستان میں سابق وزیر اطلاعات پرویز رشید، عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید شامل اور سندھ کے سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر ارباب غلام رحیم پر بھی جوتے پھینکے گئے ہیں۔

اپریل 2008 میں سابق وفاقی وزیر قانون و پارلیمانی امورڈاکٹر شیرافگن خان نیازی کے ساتھ وکلا نے بدسلوکی کی۔ اس دوران ان کے سر پر جوتا مارا، گریبان سے پکڑ کر گھسیٹا گیا اور چار گھنٹے تک ایک وکیل کے  کمرے میں انہیں بند رکھا گیا۔

سابق وفاقی وزیر قانون کو نجات دلانے کے لیے بیرسٹر اعتزاز احسن کو بذات خود آنا پڑا تھا جو اس وقت وکلا تحریک کے ’سرخیل‘ گردانے جاتے تھے۔

سابق صدر پاکستان جنرل (ر) پرویز مشرف پربھی دوران انٹرویو جوتا اچھالا گیا تھا۔

گجرات میں منعقدہ ایک جلسے کے دوران عمران خان کی طرف اچھالا گیا جوتا علیم خان کے سینے پر لگا تھا۔

عمران خان جب گجرات کے بعد پنـڈ دادن خان میں خطاب کے لیے پہنچے تو انہوں باقاعدہ مجمع میں موجود سیاسی مخالفین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جوتا مار سکتے ہو تو مارو، کیچ اور تھرو دونوں اچھی کرتا ہوں۔

1970 کے عشرے میں جب پاکستان پیپلزپارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو لیاقت آباد میں تعمیر ہونے والی سپر مارکیٹ کے افتتاح کے لیے پہنچے تو مجمع میں موجود کچھ مخالفین نے جوتے دکھائے جنہیں دیکھ کر پارٹی کے بانی چیئرمین نے ازراہ تفنن کہا کہ مجھے پتہ ہے جوتے مہنگے ہوگئے ہیں۔

ذوالفقار علی بھٹو کی بذلہ سخنی سے وہ بھی ہنس پڑے جو جوتے دکھارہے تھے اور ذرائع ابلاغ نے اس پر دوسرے دن دلچسپ تبصرے و تجزیے کیے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما اور سابق وفاقی وزیرخواجہ محمد آصف جب اپنے حلقے سیالکوٹ میں منعقدہ پارٹی کے ورکرز کنونشن میں شرکت کے لیے اسٹیج پر پہنچے ہی تھے تو ایک شخص نے ان پر سیاہی پھینک دی جس سے ان کا چہرہ اور لباس سیاہ ہو گیا تھا۔

2007 میں سپریم کورٹ میں سماعت کے لیے جانے والے سینئر وکیل احمد رضا قصوری کے چہرے پر سیاہ رنگ کا اسپرے کیا گیا تھا۔

2015 میں پاکستان کے سابق وزیرخارجہ خورشید محمود قصوری کی کتاب کی تقریب رونمائی میں آرگنائزر کو شیوسینا کے غنڈوں نے تشدد کا نشانہ بنایا اور چہرے پر سیاہی پھینک دی تھی۔

2012 میں سماجی کارکنان نے کیپٹل ہل میں کانگریس ہاؤس کے سامنے سات ہزار جوتوں کے ڈھیر لگا دیے تھے  لیکن اس کی وجہ سیاسی مخالفت نہیں تھی بلکہ سماجی کارکنان 2012 میں سینڈی ہُک ایلیمنٹری اسکول میں پیش آنے والے بندوق گردی کا شکار بچوں سے اظہار یکجہتی کررہے تھے۔

معصوم بچوں کی یاد میں صبح  ساڑھے آٹھ  بجے سے دوپہر تک جوتے وہاں رکھے رہے تھے۔ سماجی کارکنان کا مطالبہ تھا کہ گن کنٹرول بل میں اصلاحات کی جائیں۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز