فیض آباد دھرنا کیس: سپریم کورٹ نے نظر ثانی درخواستوں کو نمبر الاٹ کردیے


اسلام آباد: فیض آباد دھرناکیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظرثانی کے لیے دائر آٹھ درخواستوں کو نمبر الاٹ کر دیے
گئے ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف، متحدہ قومی موومنٹ، عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید، الیکشن کمیشن آف پاکستان، پیمرا، انٹیلیجنس بیورو(آئی بی)، وزارت دفاع اور اعجازالحق نے فیصلہ پر نظرثانی کی درخواستیں جمع کرائی تھیں۔

ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کی درخواست کو سی ایم اے 3575، ایم کیو ایم کی درخواست سی ایم اے 3579، شیخ رشید کی درخواست کو 3577، الیکشن کمیشن کی درخواست کو 3610، پیمرا کی نظر ثانی درخواست کو سی آر پی 268، آئی بی کی درخواست کو 267،  وزارت دفاع کی درخواست کو 266 اور اعجازالحق کی درخواست کو 3582 نمبر الاٹ کیا گیا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف نے اپنی درخواست میں مؤقف اپنایا ہے کہ عدالت نے ہمارے رہنماؤں کا مؤقف سنے بغیر اپنے فیصلے میں 2014  میں پی ٹی آئی اور پاکستان عوامی تحریک کے دھرنے کا ذکر کیا گیاہے۔

وفاق میں پی ٹی آئی کی  اتحادی جماعت ایم کیو ایم پاکستان اپنی نظرثانی کی اپیل میں مؤقف اپنایا ہے کہ عدالتی فیصلہ آئین کے ارٹیکل 10 اے کی خلاف ورزی ہے، فیض آباد دھرنے سے متعلق عدالتی فیصلے کے پیراگراف نمبر 23 اور 24 مفروضوں کی بنیاد ہر ہیں۔

یہ بھی پڑھیے:دھرنا کیس: پی ٹی آئی نے فیصلے کیخلاف نظرثانی درخواست دوبارہ دائر کردی

دھرنا کیس: پیمرا نے بھی نظرثانی اپیل دائر کر دی

ایم کیو ایم نے درخواست کی پیروی کیلئے عرفان قادر کی خدمات لی ہیں جو سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں اٹارنی جنرل بھی رہے ہیں۔

پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے بھی اس کیس میں نظر ثانی اپیل دائر کررکھی ہے ۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ سپریم کورٹ 6 فروری کے اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے۔

پیمرا نے اپنی درخواست میں کہا کہ فیصلے میں جو اوبزویشنز دی گئیں، عدالت ان پر نظرثانی کرے۔

پیمرا کا کہنا تھا کہ دھرنے کے دوران مختلف ٹی وی چینلز کی بندش کے خلاف کوئی تحریری شکایت موصول نہیں ہوئی۔

پیمرا نے حافظ ایس اے رحمان کے ذریعے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز