انٹر انتخابات، نقل مافیا کے خلاف رینجرز سے مدد طلب


کراچی: انٹر انتخابات میں نقل مافیا سے خوفزدہ ہو کر ناظم امتحانات نے ڈی جی رینجرز سندھ سے مدد مانگ لی ہے۔

ناظم امتحانات نے ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل محمد سعید کو خط تحریر کیا ہے جس میں انہوں نے لکھا کہ ایڈوانس میں کاپیاں دینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، امتحانی مراکز کی تبدیلی اور من پسند طلبہ کو نقل کروانے  کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے ڈی جی رینجرز سے تحفظ دینے اور معاملے کی تحقیقات کرانے کی بھی درخواست کی ہے۔

واضح رہے سندھ میں میٹرک اور انٹربورڈ انتظامیہ نقل مافیا کو روکنے میں مکمل طورپرناکام ہوئی تھی۔ میٹرک اور انٹربورڈ کے امتحانات کے دوران پرچے آوٹ ہوتے رہے، مقررہ وقت سے پہلے سوشل میڈیا پر موجود ہوتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں سندھ میں میٹرک اور انٹر کے امتحانات: آج بھی پرچے بھی آؤٹ

ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ مافیا نے پرچے کے ساتھ حل شدہ جوابات کے لیے بھی وٹس ایپ گروپس بنا رکھے تھے۔

میڈیا پر معاملہ آنے کے بعد وزیرتعلیم سندھ اوروزیراعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ کی جانب سے نوٹس کے باوجود نقل مافیا کی مکمل طور پرحوصلہ شکنی نہ ہوسکی۔

امتحانی مراکز میں موبائل فون اور کتابوں کا آزادانہ استعمال کیا جاتا ہے جہاں طلباء انویجلیٹرزکی موجودگی میں سرعام نقل کرتے ہیں، محکمہ تعلیم نے سوشل میڈیا پر نقل مافیا کی سرگرمیاں روکنے کے لیے ایف آئی اے سے بھی مدد طلب کی لیکن اس سے بھی مثبت نتائج نہیں برآمد ہوسکے۔

انتظامیہ کی جانب سے چھاپے مارے گئے، نقل مافیا کو روکنے کی کوشش کی گئی جس پر یہ بات سامنے آئی ہے کہ منظم گروہوں نے دھمکیاں دینا شروع کردی ہیں جس پر ناظم امتحانات نے رینجرز سندھ سے مدد طلب کی ہے۔

15 اپریل سے شروع ہونے والے انٹرمیڈیٹ بورڈ کی زیر نگرانی ہونے والے امتحانات میں تقریبا دو لاکھ 15 ہزار 800 سو طلبہ و طالبات شریک ہیں، پری میڈیکل، پری انجینئرنگ، جنرل سائنس، ہوم اکنامکس، میڈیکل ٹیکنالوجی، کامرس ریگولر اور کامرس پرائیویٹ گروپ کے امتحانات لیے جارہے ہیں۔

امتحانات کے کیلئے صبح اور شام کی شفٹ میں مجموعی طور پر188 امتحانی مراکز بنائے گئے ہیں۔ صبح کی شفٹ میں ایک سو تین جبکہ شام کی شفٹ میں پچاسی امتحانی مراکز بنائے گئے ہیں۔ کراچی میں 59 امتحانی مراکز کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز