بیوروکریسی اورسرمایہ کار نیب سے ڈرے بیٹھے ہیں،رہنما تحریک انصاف


اسلام آباد: تحریک انصاف کے رہنما ہمایوں اخترخان کا کہنا ہے کہ یہ بات درست ہے کہ ہم معیشت کو آٹھ ماہ میں نہیں سنبھال پائے۔ اس بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ ہمیں آئی ایم ایف کے پاس جانے کے لیے آٹھ ماہ کا انتظارنہیں چاہیے تھا۔

پروگرام ندیم ملک لائیو میں میزبان ندیم ملک سے گفتگو کرتے ہوئے ہمایوں اخترکا کہنا تھا کہ  پاکستان کی بیوروکریسی اورسرمایہ کار نیب سے ڈرے بیٹھے ہیں، جب تک اعتماد بحال نہیں ہوگا ملک کے معاشی حالات درست نہیں ہوسکتے۔

رہنما تحریک انصاف نے کہا کہ جو پہلے ٹیکس دے رہے ہیں ان پر مزید بوجھ نہیں ڈالنا چاہیے، حکومت کو ٹیکس اکٹھے کرنے کے نئے طریقے دیکھنے ہوں گے، ہمیں ملک کے جام پہیے کوچلانا ہوگا، اس کے لیے بہت سارے اقدامات ہیں جو کرکے معیشت چلائی جاسکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ شرم کا مقام ہے کہ ہماری گروتھ جہاں پر ہے، ہم نے اگراپنی معیشت کو سات فیصدتک نہ لے گئے تو عوام کو کوئی ریلیف نہیں دے سکتے۔

ان کا کہنا تھا کہ پیسے کو مصنوعی طورپر ایک جگہ روکنے سے مسائل پیدا ہوتے ہیں جیسا ہمارا ہرسابق وزیر کرتا رہا ہے، اسحاق ڈار نے یہی کیا، جب یہ نیچے آتا ہے تو سرمایہ کارکا اعتماد تباہ ہوجاتا ہے۔

ہمایوں اخترخان نے کہ حفیظ شیخ کا انتخاب ایسے نہیں ہوا جیسے کہا جارہا ہے کہ غیرجمہوری قوتوں نے ان کا انتخاب کیا ہے، حفیظ شیخ قابل آدمی ہیں، شاہد وہ کام ہوجائیں۔

حکومت کے دوبجٹ دئیے لیکن کوئی اصلاحات نہیں کیں، خرم دستگیر

مسلم لیگ ن کے رہنما خرم دستگیرخان نے کہا کہ ملک کے معاشی حالات کا تقاضا تھا کہ پاکستان آئی ایم ایف کے پاس جاتا، لیکن یہ نہیں گئے جس کا نقصان ہوا۔

مسلم لیگ ن کے رہنما خرم دستگیرنے کہا کہ حکومت نے مہنگائی بڑھائی، ڈالر کی قیمت میں بھی اضافہ کیا لیکن ایکسپورٹس نہ بڑھ سکیں، شرح سود بڑھانے سے بہت نقصان ہوا۔ عمران خان کہتے تھے کہ اسدعمردماغ ہے جس کے پاس کوئی منصوبہ نہیں تھا،اس کا نقصان پاکستان کو ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ ترقیاتی بجٹ میں 37 فیصد کٹوتی سے ملکی معیشت رک گئی لیکن کرنٹ خسارہ 17 فیصد بڑھ گیا۔ حکومت نے دونوں بجٹ میں ایک بھی اصلاح نہیں کیں۔

خرم دستگیرخان کا کہنا تھاکہ اگرمشکل فیصلہ کیا تھا تو اس پر کھڑے رہتے، تحریک انصاف کے پاس لوٹے ہوئے پیسوں کے نعروں کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔ حکومت کرکٹ کے استعارے بند کرے کہ مہنگائی سے عوام کی گردن ٹوٹ گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حفیظ شیخ آئی ایم ایف کا پروگرام مکمل کرنے میں ناکام ہوئے تھے جنہیں اسحاق ڈار نے آکر بحال کیا تھا۔

رہنما مسلم لیگ ن نے کہا کہ جب حکومت تعلیم اورصحت کے شعبوں پر بوجھ بڑھائے گی، شرح سود کم کرنا ہوگا اور کسانوں کی سبسڈی بحال کرنا اور خسارے میں جانے والے اداروں کے بورڈ بدلنا ہوگا۔

حفیظ شیخ مشاورت کرکے جلد فیصلے کریں،شوکت ترین

سابق وزیرخزانہ شوکت ترین کا کہنا تھا کہ جب تک ریفرنسز ختم نہیں ہوجاتے، کوئی بھی سرکاری ذمہ داری نہیں لے سکتا، ویسے معشیت پرمشیرخزانہ سمیت کسی کو بھی مشورے دینے کو تیار ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اسدعمرکے پاس منصوبہ نہیں تھا جس کے باعث مارکیٹ میں غیریقینی آئی، ابھی حفیظ شیخ کا بھی سب سے بڑا یہی امتحان ہے کہ چھوٹے ٹاسک مقرر کریں اور آمدنی بڑھانے، ایکسپورٹس بڑھانے پرکام کریں۔

شوکت ترین نے کہا کہ ساری کڑوی گولیاں کھا لیں تھیں، انہیں نومبر میں آئی ایم ایف کے پاس چلے جاتے جس سے ملکی معیشت کو سہارا مل جاتا۔  حفیظ شیخ مشاورت کرکے جو فیصلے کرنے ہیں جلدی کریں کیونکہ اس وقت بہت چینلجز ہیں ان سے آگے نکلنا بہت مشکل ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ وسائل ہمارے پاس ہیں لیکن ہم انہیں درست انداز میں استعمال نہیں کررہے ہیں، ٹیکس اکٹھا نہ ہونے کے باعث ہماری معیشت آگے نہیں بڑھ رہی ہے، سب سے زیادہ توجہ اسے بڑھانے پر ہونی چاہیے، ٹیکس نیٹ کو بڑھانا بنیادی ضرورت ہے۔

سابق وزیرخزانہ نے کہا کہ جس دن ہم نے بلاتفریق ٹیکس کا نظام لاگو کردیا، یہ ہی راستہ ہے، یہ مشکل ہے لیکن یہ کرنا ہوگا۔

پیپلزپارٹی کے دورمیں حفیظ شیخ کانام سابق آرمی چیف نے تجویز کیا،ندیم ملک کا انکشاف

ندیم ملک نے تجزیے میں کہا کہ وزیرخزانہ کی تبدیلی صرف ایک شخص کی نہیں بلکہ تحریک انصاف کی ناکامی ہے۔ تحریک انصاف حکومت پیپلزپارٹی اورمسلم لیگ ن پر تنقید کرتی تھی لیکن انہوں نے معاملات ان سے زیادہ خراب کیے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے 500 ارب ٹیکس کا شارٹ فال ہے، ایف بی آرسے بھی پوچھا جائے کہ ایڈونس میں ٹیکس اکٹھا کرنے کے باوجود اضافے کے بجائے کمی ہوئی ہے۔

ندیم ملک نے کہا کہ اسدعمر اور حفیظ شیخ میں کوئی فرق نہیں ہے،25 سالوں میں حفیظ شیخ اوراسدعمرنے سب سے زیادہ بری کارکردگی دکھائی ہے، یہ مشکل فیصلے نہیں لیتے۔ مشیر خزانہ نے اپنے تین سال میں معیشت میں ایک بھی اصلاح نہیں کی۔ ان کا نام پیپلزپارٹی کے لیے سابق آرمی چیف جنرل کیانی نے تجویز کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ آئندہ بجٹ اور آئی ایم ایف سے مذاکرات ان کے دو بڑے امتحان ہیں، ان کے پاس تین ماہ ہیں، اگرانہوں نے ایسا نہ کیا تو ملکی معیشت ڈوب جائے گی۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز