بھارت:اننت ناگ میں 13.61 فیصد ووٹنگ، انتخابات کاپول کھل گیا

بھارت:اننت ناگ میں 13.61 فیصد ووٹنگ، انتخابات کاپول کھل گیا

سری نگر:  جنوبی کشمیر کے حساس ترین چار اضلاع پر مشتمل ’اننت ناگ پارلیمانی نشست‘ کے لئے تین مرحلوں میں ہونے والی پولنگ کے پہلے مرحلے میں منگل کوصرف ضلع اننت ناگ میں محض 13.61 فیصد ووٹنگ ریکارڈ کی گئی۔

اعداد و شمار کے مطابق 2014 کے پارلیمانی انتخابات میں اس حلقے میں 39.37 فیصد ووٹ ڈالے جانے کا سرکاری دعویٰ کیا گیا تھا۔

عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق ضلع اننت ناگ کے چھ اسمبلی حلقوں بشمول اننت ناگ، ڈورو، کوکر ناگ، شانگس، بجبہاڑہ اور پہلگام میں ووٹ ڈالے گئے۔

خبررساں اداروں کے مطابق ضلع میں قائم کیے گئے 714 پولنگ اسٹیشنوں میں سے اکثر پر دن بھر سناٹا چھایا رہا البتہ پورا پارلیمانی حلقہ فوجی چھاؤنی کا منظر پیش کرتا رہا۔

اسمبلی حلقہ پہلگام میں سب سے زیادہ 20.73 فیصد اور بجبہاڑہ میں سب سے کم دو فیصد ووٹنگ ریکارڈ کی گئی۔ بجبہاڑہ اسمبلی حلقہ پی ڈی پی کی صدراور سابق وزیراعلیٰ مقبوضہ کشمیر محبوبہ مفتی کا آبائی قصبہ ہے اور پانچ سال قبل پی ڈی پی کا مضبوط گڑھ مانا جاتا تھا۔

اننت ناگ پارلیمانی حلقے میں 18 امیدواران میدان میں ہیں لیکن اصل مقابلہ پی ڈی پی کی  صدر محبوبہ مفتی، کانگریس کے ریاستی صدر غلام احمد میر اور نیشنل کانفرنس کے جسٹس (ر) حسنین مسعودی کے درمیان قرار دیا جارہا ہے۔

بھارت کی حکمران جماعت بی جے پی نے گذشتہ عام انتخابات میں اس حلقے سے صرف 1.26 فیصدی ووٹ حاصل کیے تھے۔

انتظامیہ نے ضلع میں پولنگ کے دوران سیکورٹی فورسز کی 170 کمپنیاں تعینات کی تھیں۔ علاقے میں ریاستی پولیس کی بھاری نفری کو بھی تعینات کیا گیا تھا۔

الیکشن کمیشن کے مطابق ضلع اننت ناگ میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد پانچ لاکھ 29 ہزار 256 ہے۔ ان میں دو لاکھ 69 ہزار 603 مرد، دو لاکھ 57 ہزار 540 خواتین، 2102 سروس ووٹرز اور گیارہ خواجہ سرا ووٹرز شامل ہیں۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز