لاہور ہائیکورٹ:حمزہ شہباز کی ضمانت میں 8 مئی تک توسیع

آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس: حمزہ شہباز نیب میں پیش ہو گئے | humnews.pk

فائل فوٹو

لاہور:اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی حمزہ شہبازعبوری ضمانت میں توسیع کے لیے لاہور ہائی کورٹ میں پھر پیش ہوگئے۔عدالت نے حمزہ شہباز کی ضمانت میں 8مئی تک توسیع کردی۔ 

حمزہ شہباز کی طرف سے امجد پرویز ، اعظم نذیر تارڑ اور سلمان بٹ عدالت میں پیش ہوئے۔

آمدن سے زاید اثاثہ جات  کیس میں میں ایڈووكیٹ سلمان بٹ  نے دلائل دیے ۔ انہوں نے کہا نیب نے بیشتر دستاویزات كا كہا وہ دستاویزات یہاں موجود نہیں ہیں۔ نیب نے گروانڈ آف اریسٹ كاذكر كیا مگر یہاں وہ  ہیں ہی نہیں۔ حمزہ شہباز کے وارنٹ گرفتاری ریکارڈ پر موجود  نہیں ہیں۔ اگر گرفتار کرنے کی وجوہات نہیں معلوم ہونگی تو بحث کیا کرینگے؟

حمزہ کے وکیل نے دلائل میں کہا کہ نیب کی جانب سے الزامات کی تفصیل نہیں بتائی گئی۔منی لانڈرنگ سے متعلق دستاویزات فراہم نہیں کی گئیں۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا  منی لانڈرنگ سے متعلق دستاویزات حساس ہیں۔ عدالت میں دستاویزات دکھا سکتے ہیں۔ جن دستاویزات کا ذکر ہے کہ وہ ریکارڈ کا حصہ نہیں ہیں دراصل خیفہ دستاویزات ہیں۔
تمام دستاویزات حمزہ شہباز کو دے دیئے گئے ہیں۔جو دستاویزات ہم نے اكھٹے كیے ہیں ان سے متعلق جو بیان دینا ہے وہ ہمیں مطلوب ہے۔

عدالت نے حمزہ شہباز کے وکیل سے استفسار کیا آپ كو كون سی دستاویزات درکارہیں؟

حمزہ شہباز کے وکیل نے کہا گرفتاری كی وجوہات  درکارہیں۔  انویسٹیگیشن 4اپریل 2019 اور 2018 كی انكواٸری رپورٹ بھی چاہیے۔

عدالت نے نیب کے وکیل سے پوچھا آپ كس بناپرمعلومات كو حساس قرار دے رہےہیں ؟

حمزہ کے وکیل نے کہا حمزہ شہباز کیخلاف انکوائری کب شروع کی گئی اس کی دستاویزات درکارہیں۔ خفیہ دستاویزات بھی چاہئیں کیونکہ اسی بنیاد ہر انکوائری شروع کی گئی۔ میری اپنی ٹرانزیكشن میرے لیے كیسے مشكوك ہوسكتی ہیں؟اگر منی لانڈرنگ کا كیس ہے تو مجسٹریٹ كے پاس جاٸیں پھر نیب گرفتار بھی نہیں كر سكتی۔

عدالت نے نیب پراسیکیوٹر سے  پوچھا اس بارے میں دو ٹوک موقف بتائیں کہ خیفہ دستاویزات کو ریکارڈ کا حصہ بنائیں  گے؟

نیب پراسیکیوٹر نے کہا جب تحقیقات کی رپورٹ مکمل ہوجائے گی تو متعلقہ دستاویزات کو حصہ بنایا جاسکتا ہے۔ ابھی معاملہ تفتیش کے مراحل میں ہے اور اس لیے یہ دستاویزات ظاہر نہیں کی  جا سکتیں۔ ہم ان دستاویزات كے ذریعے مزید ثبوت اكھٹے كریں گے۔

عدالت نے پوچھا گرفتاری کی وجوہات کہاں ہیں؟

نیب کے وکیل نے کہا كچھ دستاویزات دے  دیتا ہوں۔

عدالت نے کہا ایف ایم یو بھی دیں گے؟

نیب کے وکیل نے کہا ایف ایم یو نہیں دے سكتے ۔

عدالت نے کہا گراؤنڈ آف اریسٹ بھی دیں گے ۔

نیب وکیل نے کہا گراؤنڈ آف اریسٹ تو گرفتاری كے وقت ہی  ہم دیتے ہیں۔

عدالت نے حمزہ شہباز کی درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے 8مئی تک عبوری ضمانت میں توسیع کردی۔

حمزہ شہباز کی لاہور ہائیکورٹ آمد پر ن لیگی کارکنوں نے زبردست نعرے بازی کی ۔ اس موقع پر دھکم پیل بھی دیکھنےمیں آئی۔

لاہور ہائی کورٹ کےجسٹس ملک شہزاد احمد کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے اس سے قبل  ن لیگی رہنما حمزہ شہباز  کی ضمانت میں پچیس اپریل تک توسیع کی تھی۔

گزشتہ سماعت پرقومی احتساب بیورو نےآمدن سے زائد اثاثہ جات،صاف پانی اور رمضان شوگر ملز کیس سے متعلق جواب جمع کرایا تھا۔  نیب پراسیکیوٹر نے اپنے دلائل میں کہا تھا  کہ حمزہ شہباز نے منی لانڈرنگ کی ہے۔  جبکہ ن لیگی رہنماء کے وکیل نے موقف اختیار کیا تھا کہ جواب کی نقول دیر سے موصول ہونےکےباعث مشاورت کے لئے وقت دیا جائے۔
عدالت نے اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی کےوکلا کےدلائل تسلیم کرتے ہوئے نیب کوحمزہ شہباز کی گرفتاری سےروک دیاتھا۔

یہ بھی پڑھیے:نیب نے تین کیسز میں حمزہ شہباز کیخلاف جوابات جمع کروادیے

لاہور ہائیکورٹ نے حمزہ شہباز کی عبوری ضمانت میں 25اپریل تک توسیع کردی

ذرائع کا کہنا ہے کہ حمزہ شہباز کی قانونی ٹیم اپنی تیاری مکمل کرچکی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کامیابی ان کےوکلا کو ملتی ہے یا نیب ٹیم کےحصے میں آتی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز