پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات کا اہم دور

آئی ایم ایف کا اعلیٰ سطح کا وفد آج پاکستان پہنچے گا

فوٹو: فائل

اسلام آباد: پاکستان اور عالمی مالیاتی ادارے ( آئی ایم ایف) کے درمیان آج مذاکرات کا اہم دور ہو رہا ہے جس میں پاکستانی وفد کی قیادت مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کر رہے ہیں۔

وزارت خزانہ کے چار ایڈیشنل سیکرٹریز اور ایک سینیئر جوائنٹ سیکرٹری بھی مذاکراتی دور میں شریک ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آج ہونے والے مذاکرات میں معاشی ترقی، پالیسی حکمت عملی اور آئی ایم ایف پروگرام کا جائزہ لیا جائے گا۔

یادرہے کہ آئی ایم ایف کا وفد 29 اپریل 2019 سے پاکستان میں موجود ہے اور وزارت خزانہ کے حکام کیساتھ تکنیکی بنیادوں پر مذاکرات جاری ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: آئی ایم ایف کو 500 ارب روپے کے نئے ٹیکسز عائد کرنے کی یقین دہانی

اطلاعات کے مطابق پاکستان نے مذاکرات کے پہلے روز 500 ارب روپے کے نئے ٹیکسز عائد کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی جب کہ محصولات، شرح تبادلہ، شرح سود، بجلی اورگیس کی قیتموں پر بات چیت جاری ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان بعض امور پر پہلے سے ہی اتفاق رائے ہو چکا ہے اور ایمنسٹی اسکیم کے حوالے سے  بات چیت جاری ہے جس پر آئی ایم ایف کے تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔  آئی ایم ایف کو ایمنسٹی اسکیم کے تحت دی جانے والی ٹیکس چھوٹ پر تحفظات ہیں جو اسکیم کے نفاذ میں مزید تاخیر کا سبب بن سکتے ہیں۔

اطلاعات ہیں کہ مذاکرات میں اخراجات کے حوالے سے ڈیٹا شیئر کیا جائے گا اور حکومت موجودہ نجکاری پروگرام آئی ایم ایف کے سامنے پیش کرے گی۔

باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان آئی ایم ایف سے آٹھ سے نو ارب ڈالرز کے بیل آؤٹ پیکیج کا خواہشمند ہے اور اگر ایسا ہوتا ہے تو آئندہ بجٹ میں ایف بی آر کی وصولیوں کا ہدف 4500 ارب روپے مقرر کیا جائے گا۔

سابق وزیرخزنہ اسدعمر نے کہا تھا کہ پاکستان اور آئی ایم ایف معاہدے کے قریب آ گئے ہیں اور یہ ملکی تاریخ کا آخری آئی ایم ایف معاہدہ ہو گا۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز