اسلام آباد میں 62 غیرقانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کا انکشاف

اسلام آباد: وزارت داخلہ نے انکشاف کیا ہے کہ اسلام آباد میں 62  ہاؤسنگ سوسائٹیز اور زرعی اسکیمیں غیرقانونی اور غیررجسٹرڈ ہونے کے باوجود کام کر رہی ہیں۔

سینیٹ میں وزارت داخلہ کی طرف سے جمع کرائے گئے جواب میں بتایا گیا ہے کہ زون تھری میں سات ہاؤسنگ اسکیمیں، زون فور میں 45 ہاؤسنگ اسکیمیں اور 10 زرعی فارمنگ اسکیمیں غیرقانونی طور پرکام کر رہی ہیں۔

شہریوں کو اپنے گھر کا خواب دکھا کر غیرقانونی طور پرلوٹنے والی ہاؤسنگ سوسائٹیز میں جاپان ویلی، کیانی ٹاؤن، اسلام آباد سیف گارڈن، گلبرگ ٹاؤن، ستی ٹاؤن، الرحمان سٹی، گھگڑ ٹاؤن، ظہور ٹاؤن، پیراڈائز پوائنٹ ہاؤسنگ اسکیم، اتفاق ٹاؤن ہاؤسنگ اسکیم، میڈیا سٹی ون، ارسلان ٹاون، ایڈن لائف، مفتی محمود انکلیو،مارگلہ گارڈنز لہتڑار روڈ پر واقع ہیں۔

اسی طرح پارک روڈ پر واقع نیویونیورسٹی ٹاون، گرین ایونیوز، الیسد ایونیوز، کینٹربرے ہاؤسنگ اسکیم اورعبداللہ گارڈن بھی غیرقانونی طورپرکام کر رہی ہیں۔

اسلام آباد میں شامل سملی ڈیم روڈ پر کام کرنے والی عادل ویلی، گرین ویلی ان اینڈ ٹو، ہل ویوز ہاؤسز، مسلم ٹاؤن، پی ٹی وی کالونی، سملی ویلی ون اینڈ ٹو اور سپرنگ ویلی بھی رجسٹرڈ نہیں ہیں۔

وزارت داخلہ کے مطابق اسلام آباد ایکسپرے وے پر غوری ٹاؤن(تمام فیز) ، اقبال ٹاؤن، ماروا ٹاؤن،نلور میں مکہ ٹاؤن، دانیال ٹاؤناور اسامہ ٹاؤنبھی غیرقانونی ہیں، اس کے علاوہ بحریہ انکلیو ون (کری روڈ)، او جی ڈی سی ٹاؤن چھتر(مری ٹاؤن)،سما ٹاؤن کرپا روڈ اور رائل سٹی ہاؤسنگ اسکیم کے بھی کسی قانون کے بغیر کام کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔

زون تھری میں غیرقانونی طور پر کام کرنے والی ہاؤسنگ اسکیمیوں میں ایم/ایس علی ٹاون، شاہ اللہ دتہ، ایم/ایس نارتھ ریجھ شاہ اللہ دتہ، ایم/ایس میجر مخدوم سوسائٹی شاہ اللہ دتہ، ایم/ایس گرین شاہ اللہ دتہ، ایم/ایس مارگلہ میڈویز شاہ اللہ دتہ، ایم/ایس الرعان ریذڈینسی اور  ایم /ایس آرکاڈیا(کرلوٹ) شامل ہیں۔

زون فور میں دس زرعی فارمنگ اسکیمیں غیرقانونی طور پر کام کر رہی ہیں ان میں اولیو ووڈ فارمزسملی ڈیم روڈ، جے اینڈ کے اسلام آباد ہائی وے، اسلام آباد فارمز سملی ڈیم روڈ، نیول فارمز (چار، پانچ اورآٹھ کنال) سملی ڈیم روڈ، جموں اینڈ کشمیر کواپرٹیو ہاؤسنگ سوسائٹی، عادل فارمز سملی ڈیم روڈ، بدرفارمز سملی ڈیم روڈ،گرین فیلڈز سملی ڈیم روڈ، شاہین فارمز سملی ڈیم روڈ، ایم/ایس ٹیکرون ایگروفارمز سملی ڈیم روڈ شامل ہیں۔

وزارت داخلہ نے ان غیرقانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز اور زرعی فارمنگ اسکیمیں چلانے والوں کے خلاف  کارروائی کے حوالے سے بتایا کہ سی ڈی اے نے عوام کو ان سوسائٹیوں کے غیرقانونی اور غیررجسٹرڈ ہونے سے متعلق آگاہ کرنے کے لیے اخبارات میں اشتہارات دئیے اور ویب سائٹ کے ذریعے آگاہ کیا۔

سی ڈی اے نے مالکان کو بلا کر ان غیرمنظورشدہ ہاؤسنگ سوسائٹیز کی مارکٹینگ اور اشتہاربازی سے باز رکھنے کے لیے خبردار کیا۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز