آزادی صحافت کے بغیر جمہوریت کا تصور ممکن نہیں ، سینیٹ


سینیٹ آف پاکستان یعنی ایوان بالا نے عالمی یوم صحافت کے موقع پر صحافیوں کو خراج تحسین پیش کرنے کی قرار داد متفقہ طور پر منظور کرلی ۔ قرارداد قائد ایوان سینیٹ شبلی فراز نے پیش کی ۔

سینیٹ میں پاس کی گئی قرارداد میں کہا گیاہے کہ یہ ایوان آزادی صحافت کےعالمی دن پر اقوام متحدہ کی تحسین کرتاہے۔

یہ ایوان سمجھتا ہے کہ آزدی صحافت کے بغیر جمہوریت کا تصور ممکن نہیں ۔ اس لیے حکومت سنسرشپ سمیت تمام ایسے ہتھکنڈوں کا توڑ کرے جو آزادی صحافت کے راستے میں مشکلات پیدا کررہے ہیں۔

یہ ایوان آزادی صحافت کے لیے جانیں دینے والے صحافیوں کو سلام پیش کرتاہےاور حکومت سے مطالبہ کرتاہے کہ وہ ایسے شہدا کو قومی اعزازات سے نوازے۔

یہ ایوان سمجھتا ہے کہ آزدی صحافت کے لیے صحافیوں کے معاشی مسائل حل کرنا ضروری ہیں۔ اس کےلیے حکومت سرکاری اشتہارات کو تنخواہوں کی ادائیگی سے منسلک کرے۔

یہ ایوان حکومت سے مطالبہ کرتاہے کہ وہ بجٹ اجلاس سے قبل سیاسی جماعتوں اور پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن کی مشاورت سے اشتہارات کو تنخواہوں کی ادائیگی سے منسلک کرنے کے لیے مسودہ قانون تیار کرے۔

یہ ایوان سفارش کرتاہے کہ وزارات اطلاعات بعض میڈیا مالکان کے بقایا جات روک کر انہیں مجبور کرے کہ وہ تین تین سے چھ چھ ماہ تک روکی گئی تنخواہ رمضان المبارک سے پہلے ادا کریں ۔ یہ ایوان مطالبہ کرتا ہے کہ تمام میڈیا اداروں کے ملازمین کی ایمپلائزاوور ایج بینیفٹس میں رجسٹریشن کے لیے لازمی اقدامات کیے جائیں ۔

اس موقع پر چیرمین سینیٹ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ وہ صحافت کے عالمی دن پرصحافیوں کو مبارکباد  پیش کرتے ہیں۔ ملک و قوم کے لئے صحافیوں کی خدمات کو سلام پیش کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا میڈیا ریاست کااہم ستون ہے۔ میڈیا ورکرز جان ہتھیلی پہ رکھ کر اپنے فرائض سرانجام دیتے ہیں۔

صادق سنجرانی نے کہا کہ میڈیا کارکنان اکثر غیر محفوظ حالات میں اپنے فرائض سرانجام دیتے ہیں۔

سینٹر رضا ربانی نے کہاآئین کا آرٹیکل 19 آزادی صحافت کے حقوق سے متعلق ہے۔ جب صحافیوں پر قدغن لگتی ہے تو آئین کا متعلقہ آرٹیکل بھی متاثر ہوتا ہے۔ مارشل لاء کے دور میں اکثر صحافی سلاخوں کے پیچھے ہوتے ہیں۔ آج بھی نامعلوم نمبر سے صحافیوں کو کال کی جاتی ہے۔ آج جن حالات میں صحافی کام کررہے ہیں ان کو سلام پیش کرتے ہیں۔

سینیٹر کلثوم پروین نے کہا مالکان صحافیوں کو  اپنی مرضی سے تنخواہ دیتے ہیں۔ کسی کے بارے میں نہیں سوچا جاتا کہ کس کو کتنی تنخواہ دینی چاہیے،ملازمین  کو جب دل چاہے نکال دیا جاتا ہے۔

سینیٹر شبلی فراز  نے کہا صحافیوں کی نوکریوں کو محفوظ بنانے کے میکینزم کے حق میں ہیں۔ یہ تاثر غلط ہے کہ موجودہ حکومت نے صحافیوں کے لیے معاشی بحران پیدا کیا۔ حکومت اس حق میں ہے کہ صحافیوں کی بقاء کے لیے میکینزم بنایا جائے۔ حکومت مل بیٹھ کر صحافیوں کے مسائل حل کرنے کو تیار ہے۔ انہوں نے کہا شہید صحافیوں کے لواحقین کی کفالت کے لیے بھی میکینزم بنانے کی ضرورت ہے،

سینیٹر عثمان کاکڑ نے کہا جن صحافیوں کو نوکریوں سے نکالا گیا انہوں نے خدمت کی۔ حکومتی جبر کا مقابلہ کرنے والے صحافیوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔

طاقت پر نظر رکھنے کے عزم کے ساتھ 28واں عالمی یوم صحافت

سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ صحافی مشکل حالات سےگزر رہے ہیں۔ آمریت میں پریس کلب سیاستدانوں کے کھلے رہےمگر آج کل سیاستدانوں کے لیے پریس کلب بند کیے جارہے ہیں۔

سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ میڈیا کا معاشرے میں کردار انتہائی اہم ہے۔ صحافیوں کے لئے بھی ایوارڈ ہونےچاہئیں۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز