’شہبازشریف، نوازشریف کے لیے وطن واپس نہیں آئیں گے‘


اسلام آباد: تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شہباز شریف اپنے بھائی کے جیل جانے پر لندن میں اپنا قیام مختصر کرکے جلد واپس نہیں آئیں گے۔

پروگرام ویوزمیکرز میں میزبان زریاب عارف سے گفتگو کرتے ہوئے سئینر تجزیہ کار عامرضیاء کا کہنا تھا کہ  شہباز شریف برطانیہ یا کسی اور ملک میں بیٹھ کر بھائی کے لیے زیادہ موثر ثابت ہوسکتے ہیں، وہ مغربی طاقتوں کے ساتھ مذاکرات کر سکتے ہیں، نوازشریف کے بیٹے واپس نہیں آئے تو بھائی کا آنا بھی مشکل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ شہبازشریف نے تمام تراختلافات کے باوجود کبھی بھائی کو نقصان نہیں پہنچایا، حکمت عملی کے تحت ایک بھائی نے رویہ سخت اور ایک نے نرم رکھا۔

تجزیہ کار اعجاز اعوان کی رائے تھی کہ اگر والد کے لیے سلمان شہباز نہیں ٹھہرے، داماد چلے گئے، تو شہبازشریف بھی بھائی کے لیے واپس نہیں آئیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ شریف خاندان کو بڑے میاں صاحب نے جوڑ رکھا تھا لیکن اب یہ سب مفادات کے لیے اکٹھے ہیں، اگر وہ وہاں بیٹھ کر سب کچھ دوسروں کے حوالے کر رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ وہ واپس نہیں آئیں گے۔

تجزیہ کارشاہ خاور نے کہا کہ شہبازشریف کی جگہ جن لوگوں کو ذمہ داریاں دی گئی ہیں وہ پارلیمنٹ میں اہم کردار کرنے والے لوگ ہیں۔ اگر شہبازشریف لمبے عرصے کے لیے بیرون ملک رہے تو انہیں اشتہاری بھی قرار دیا جاسکتا ہے اور ان کا ٹرائل باقی ملزموں سے الگ کیا جاسکتا ہے۔

تجزیہ کار اطہرکاظمی کی رائے تھی کہ نوازشریف جس حالت میں ہیں اس کی وجہ ان کی بیٹی کی ذہانت اور بھائی کی محبت ہے، اس محبت کی وجہ سے نوازشریف کا قیام جیل میں طویل ہوسکتا ہے لیکن شہبازشریف کا ان کے لیے لندن میں قیام مختصر نہیں ہوگا۔

تجزیہ کار عاصمہ ودود کا کہنا تھا کہ شہبازشریف اپنی پارٹی کے لیے پل کا کردار ادا کرتے ہیں، ان کی بات وہاں سنی جاتی ہے جہاں فیصلے ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ  شہبازشریف بیرون ملک بیٹھ کرمعاملات حل کرسکتے ہیں، یہ ممکن نہیں کہ وہ نوازشریف کے لیے واپس آئیں گے ، وہ جو کردار ادا کرسکتے ہیں، وہ باہر سے ہی ادا کریں گے۔

ایک اور سوال کے جواب میں تجزیہ کار اعجاز اعوان نے رائے دی کہ مسلم لیگ ن خطرے میں ہے، جب پارٹی کا صدر بھاگ جائے، بیرون ملک بیٹھ کر اپنی ذمہ داریاں کسی اور کے حوالے کردے۔غیرجمہوری رویے، عدالتوں کا سامنا نہ کرنے اور ملک سے فرار کے باعث  مسلم لیگ ن کو خطرہ ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیااپوزیشن پانچ سال نکالے گی،اطہرکاظمی

سئینر تجزیہ کارعامر ضیاء کا کہنا تھا کہ نوازشریف کا جیل جانا کوئی بڑی خبر نہیں ہے، پارٹی ایک بحران سے گزری لیکن متحد رہی، مسلم لیگ ن میں فوی طور پر ٹوٹ پھوٹ کا امکان نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کے لیے بحران موقع بھی ہوتا ہے، شہبازشریف لندن میں اور نوازشریف جیل میں ہوں تو یہ ہوسکتا ہے کہ ن لیگ خاندان سے نکل کر دوسری قیادت کے پاس آجائے۔

اطہرکاظمی نے اس معاملے پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پہلے سوال تھا کہ کیا یہ موجودہ حکومت پانچ سال پورے کرے گی اب یہ ہے کہ کیا اپوزیشن پانچ سال نکالے گی، پیپلزپارٹی حکومت میں آئے تو مل بانٹ کر کھاتی ہے جبکہ مسلم لیگ ن کسی اور کو کچھ بھی نہیں دیتی۔

ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن میں انتخاب اپنے سر پر جیتنے والے لوگ ہیں، ایسا لگتا ہے مسلم لیگ ن کے لیے آنے والا وقت اور مستقبل مزید مشکل ہوگا۔

عاصمہ ودود نے کہا کہ  مسلم لیگ ن کا ووٹرر مختلف ہے، یہ کہنا مشکل ہے کہ مسلم لیگ ن کا یہ اختتام ہے، یہ پہلے بھی بیرون ملک گئے تو انہوں نے اپنے ووٹر کو قائل کرلیا، یہ اب بھی وقت آیا تو کرلیں گے۔

عمران خان کے لیے اصل مشکل معیشت، گورننس اور خارجی معاملات ہیں،عامرضیاء

اپوزیشن کے مشکل میں ہونے سے تحریک انصاف کے لیے حکومت کرنے کا راستہ آسان ہو گیا ہے کے سوال پر عامر ضیاء نے اپنے تجزیے میں کہا کہ سیاست میں خلاء نہیں رہتا،اگر صف اول کی قیادت نے کردار ادا نہ کیا تو ایک اور قیادت اس صف میں آجائے گی۔

انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ عمران خان کے لیے اصل مشکل معیشت، گورننس اور خارجی معاملات ہیں، آنے والے وقت میں بجٹ، آئی ایم ایف سے معاہدے کے اثرات ہوں گے جس کے نیتجے میں عوام میں غصہ بھی پیدا ہوسکتا ہے، عمران خان کی اپنی ٹیم نے بھی انہیں مشکل میں ڈال رکھا ہے، اگر عوام کی مشکلات بڑھیں تو عمران خان کو مقبول ہونے کے باوجود ردعمل کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

اعجاز اعوان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کی اصل قیادت میں سے ایک بھائی جیل میں جا رہے ہیں جبکہ دوسرے لندن جا چکے ہیں، اب جو لوگ پارٹی سنبھالیں گے وہ پیپلزپارٹی کے ساتھ بیٹھ کر حکومت کے لیے مشکلات پیدا کرسکتے ہیں۔

ان کا بھی موقف تھا کہ عمران خان کو اصل مشکل اپوزیشن سے نہیں بلکہ معشیت، خطے کے حالات اور گورننس سے ہے۔

اطہر کاظمی نے اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کے لیے اصل مسئلہ اپوزیشن نہیں بلکہ یہ خود  اپنے لیے مسئلہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ پارٹی کے اندر اختلافات اتنے ہیں کہ سئینر رہنما اجلاسوں میں ایک ساتھ بیٹھنے کو تیار نہیں ہیں۔ تحریک انصاف نظریاتی طور پر چوں چوں کا مربہ ہے۔

عاصمہ ودود کا کہنا تھا کہ اپوزیشن جماعتوں نے کبھی دوسرے اور تیسرے درجے کی قیادت تیار ہی نہیں کی ہے، جب مشکل میں ہوتے ہیں تو انہیں ہر بات کا احساس ہوتا ہے، اپنے بل بوتے پر منتخب ہونے والے اپنے لیے کسی بھی وقت کوئی بھی پنجرہ تلاش کرسکتے ہیں۔

صحافت کو سب سے بڑا چینلج معاشی ہے،اطہرکاظمی

صحافت کے عالمی دن کی مناسبت سے سوال تھا کہ کیا پاکستان میں صحافت آزاد ہے تو اس کا جواب دیتے ہوئے عامر ضیاء نے کہا کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ پاکستان میں صورتحال بدترین ہے لیکن مثالی حالات کہیں بھی نہیں ملتے، اگر موازنہ کرنا ہے تو ماضی سے کرنا ہوگا کہ پہلے صحافت کیسی ہوتی تھی، کن معاملات پر بات کرنے پر مکمل طور پر پابندی تھی ، اب بہت سارے ان معاملات پر بھی بات ہوتی ہے جن پر ماضی میں کبھی نہیں ہوئی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ صحافت کی موجودہ صورتحال خطے کے کئی ممالک سے بہت بہتر ہے، صحافت کی آزادی کی جہاں ضرورت ہے وہاں ذمہ داری کی بھی ہے۔

اطہر کاظمی کی رائے تھی کہ صحافت کو سب سے بڑا چینلج معاشی ہے، اگر اس سے کسی کو سامنا ہوگا تو وہ حقیقی صحافت کیسے کرے گا۔

انہوں نے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ برطانیہ میں عراق جنگ میں وزیراعظم ٹونی بلیئر نے کہا کہ صدام حسین کے پاس بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار ہیں تو اسے بی بی سی نے مبالغہ آرائی قراردیا، حکومت نے جب کہا کہ اسے ثابت کریں تو یہ نہ کرسکنے پر کئی لوگوں کو نوکریوں سے ہاتھ دھو کر گھر جانا پڑا، جس ذریعے نے خبردی اسے خودکشی کرنی پڑی۔

اعجاز اعوان کا بھی یہ کہنا تھا کہ پاکستان میں صحافت آزاد ہے اور یہ بات سامنے آجاتی ہے جب ماضی، خطے، اسلامی ممالک، برطانیہ اور امریکہ سے تقابل کریں۔

شاہ خاور کی رائے تھی کہ پاکستان میں صحافت کو مشکلات درپیش ہیں لیکن یہ آزاد ہے، آزادی کے ساتھ ساتھ احتیاط بھی ضروری ہے۔ اسی طرح عاصمہ ودود کا بھی کہنا تھا کہ پاکستان میں صحافت کو مشکلات اور خطرہ موجود ہے لیکن اس کے باوجودآزادی ہے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز