”جزیرہ استولا” بلوچستان کا گوہر نایاب

اسلام آباد: ”جزیرے استولا” بلوچستان کا گوہر نایاب ہے لیکن  بلوچستان کو سب سے زیادہ  پسماندہ وغیر ترقی یافتہ صوبہ تصور کیا جاتا ہے اور چاروں صوبوں میں اسے وہ اہمیت نہیں دی جاتی جو دی جانی چاہیے جس کی کئی وجوہ ہیں۔

یہاں یہ بات اہم ہے کہ ملک کا وہ حصہ جو ناصرف معدنی ذخائر سے مالا مال ہے بلکہ سیاحت کے بھی بے شمار پرکشش مقامات رکھتا ہے اور سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرسکتا ہے لیکن اگر انہیں وہاں تک آسان رسائی کے لیے سہولتیں فراہم کی جائیں۔

یوں تو بلوچستان کا ہر سیاحتی مقام اپنی مثال آپ ہے لیکن اس کے ”جزیرے استولا” کو بلوچستان کا پرکشش ترین مقام کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔

جزیرہ استولا بلوچستان کے شہر پسنی اور گودار کے نزدیک بحیرہ عرب میں واقعہ ہے۔ اسے جزیرہ ہفت تلار یا سات پہاڑوں  کا جزیرہ بھی کہا جاتا ہے۔ پسنی کے ساحل سے اس کا فیصلہ 40 کلومیٹر ہے جو کشتی کے ذریعے تین سے زائد گھنٹوں میں طے کیا جاسکتا ہے۔

سطح سمندر سے اس کا بلند ترین مقام 75 میٹر ہے جبکہ یہ جزیرہ 6.8 کلومیٹر طویل اور 2.3 کلومیٹر چوڑا ہے۔ سہولتیں نہ ہونے کے باعث یہاں تک پہنچانا ہر کسی کے بس کی بات نہیں یہی وجہ ہے کہ سیاح یہاں کم ہی آپاتے ہیں۔

پاکستان کی اس گم گشتہ جنت تک کا سفر خاصہ طویل ہے، کراچی سے براستہ سڑک پہلے سات گھنٹے کی مسافت طے کرکے پسنی پہنچا جاتا ہے پھر استولا پر قدم رکھنے کے لیے موٹر بوٹ کے ذریعے مزید تین گھنٹے کی مسافت طے کرنا پڑتی ہے جس کے بعد سیاح یہاں پہنچ پاتے ہیں لیکن اس جگہ کا حسین اور دلفریب منظر دیکھ کر طویل اور تھکا دینے والے سفر کی تھکن ایک سکینڈ میں غائب ہوجاتی ہے۔

استولا کے سحر انگیز پہاڑ اور شفاف پانی

جب نظر ملک کے اس سب سے بڑے سمندری جزیرے کے  پہاڑوں کو چھوتے ہوئے آئینے کی طرح صاف شفاف پانی پر پڑتی ہے تو بس اسی کی ہاجاتی ہے۔ دلکش جزیرے کے پہاڑوں کی ہیت بھی منفرد نقش و نگار رکھتے ہیں اور کچھ تو قدرت نے غار کی طرح تراشے ہوئے ہیں۔

ٹھنڈی ہوا اور چاروں چٹانوں سے ٹکرتے پانی کی آواز سیاحوں کو اس جزیرے کا گریدہ بنا دیتی ہے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کسی جنت نظیر وادی میں آگئے ہوں جہاں سکون ہی سکون ہو۔

سیاح یہاں پر رات کو کمیپنگ، مچھلی کا شکار اور بون فائر جیسی سرگرمیاں کرتے ہیں اور یہی یہاں تفریحی اورایڈونچر کا ذریعہ بھی ہیں۔

یہاں لوگوں کی توجہ کا مرکز بننے والی ایک چھوٹی سی مسجد اور ہندوؤں کے مندر کی باقیات بھی ہییں، اس مسجد کو  حضرت خضرؑ سے منسوب کیا جاتا ہے۔

اگر اس جزیرے کو سہولتیں فراہم کی جائیں تو یہاں سیاحوں کی تعداد میں اضافہ اور بلوچستان کی سیاحت کو فروغ دیا جاسکتا ہے کیونکہ اس وقت بھی سیاح اس دلکش علاقے کو دیکھنے کی خاطر طویل اور مشکل سفر طے کرکے یہاں پہنچتے ہیں لیکن ان کی تعداد کافی کم ہے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز