ذہن صحت مند تو جسم صحت مند

کیا آپ جانتے ہیں کہ ذہنی صحت کے بنا انسان کا جسمانی طور پر صحت مند رہنا ناممکن ہے کیونکہ انسانی دماغ ہمارے جسم کا وہ عضو ہے جو پورے سسٹم کو کنٹرول کر رہا ہے، اگر اس میں کسی قسم کے مسائل پیدا ہوں گے تو اس کا براہ راست اثر جسمانی صحت پر پڑے گا۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق اگر ذہن صحت نہیں ہوگا تو جسم بھی صحت مند نہیں ہو گا۔ انسان کی ذہنی صحت جسمانی صحت سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

دنیا بھر میں ذہنی صحت کو بہت اہمیت دی جاتی ہے اور اس سے متعلق اقدامات بھی کیے جاتے ہیں لیکن پاکستان میں اس حوالے سے بات کرنے بھی ایک غیر ضروری موضوع سمجھا جاتا ہے۔ اگر کسی کو کسی قسم کے ذہنی مسئلے کا سامنا ہوتا ہے تو وہ کسی کو اس ڈر سے نہیں  بتا پاتا کہ لوگ اسے پاگل بولنا شروع کردیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: جذباتی صدمات کو معمولی نہ سمجھیں

ذہنی صحت کے سب سے عام مسائل میں کسی حادثے کے باعث ملنے والا جذباتی صدمہ، ڈپریشن اور ذہنی دباؤ سمیت دیگر شامل ہیں۔ یہ وہ مسائل ہیں جو انسان کو آہستہ آہستہ ختم کر دیتے ہیں اور اکثر اسے موت کی دہلیز تک پہنچا دیتے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں ہر تیسرا شخص ذہنی تناؤ کا شکار ہے جبکہ ہر پانچ میں سے ایک شخص اداس یا پریشان ہے جبکہ پاک ایسوسی ایشن آف مینٹل ہیلتھ کے مطابق پاکستان میں تقریباً 15 لاکھ افراد ذہنی مسائل کا شکار ہیں اور یہ آبادی کا آٹھ فیصد بنتا ہے۔

بعض ماہرین ذہنی امراض کا کہنا ہے کہ پاکستان میں آبادی کے 40 فیصد حصے کو ذہنی صحت کے مسائل کا سامنا ہے۔

ذہنی صحت  سے متعلق لوگوں میں آگاہی کا فقدان ہے، ماہر نفسیات

نجی تنظیم روزن سے وابستہ ماہر نفسیات روحی غنی نے بتایا کہ ذہنی صحت کے مسائل سے متعلق لوگوں میں معلومات اور آگاہی کا فقدان ہے لیکن اگر انہیں آگاہی فراہم کی جائے تو وہ ان مسائل کو قبول کرتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پہلے کے مقابلے میں پاکستان میں اس متعلق آگاہی آئی ہے لیکن مزید کام کرنے کی ضرورت اور ذہنی صحت کے مسائل کے حوالے سے حکومتی سطح پر بھی اقدامات کی ضرورت ہے۔

ماہر نفسیات روحی کا کہنا تھا کہ ان کی تنظیم کمیونٹی بیس، ٹیلی فونک اور ای میل بیس کونسلنگ کے سیشنز کی سہولت فراہم کرتی ہے جس میں ٹیلی فونک اور ای میل بیس کونسلنگ بلکہ فری کی جاتی ہے۔

دیگر ماہر نفسیات بھی اسی بات پر زور دیتے ہیں کہ ذہنی بیماری کو بھی ایک عام بیماری تصور کیا جائے اور بے خوف ہو کر اس متعلق بات کی جائے۔

قائداعظم یونیورسٹی کی پروفیسر ماہر نفسیات کا کہنا ہے کہ ہمارے معاشرے میں اگر کسی کو جذباتی صدمات کا سامنا کرنا پڑ جائے تو وہ کسی سے شئیر کرنے کے بجائے اسے اپنے اندر ہی دبا لیتا ہے کہ لوگ کیا کہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اسے لوگوں کے لیے باقاعدہ بحالی سینٹرز ہونے چاہیئں جہاں ان کی نگہداشت اور تربیت کی جاسکے تاکہ وہ ان صدمات سے باہر آ سکیں لیکن اس کے لیے بھی آگاہی پہلی شرط ہے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز