مہنگی تعلیم نیشنل سیکیورٹی کا مسئلہ ہے، چیف جسٹس پاکستان

سپریم کورٹ نے گلگت بلتستان آرڈر 2018 بحال کر دیا | humnews.pk

چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے کہاہے کہ مہنگی تعلیم نیشنل سیکیورٹی کا مسئلہ ہے۔ سمندر اگر پڑھے گا نہیں تو نیشنل سیکورٹی کا مسئلہ بنے گا۔اسکولوں کے ذریعے  دو سے چار بلین کمانے  والے اگر تعلیم پر بھی خرچ کر دیں تو بہتری آ جائے گی۔

چیف جسٹس پاکستان نے یہ ریمارکس نجی اسکولوں کی فیسوں میں اضافے سے متعلق کیس کی سماعت  کے دوران دیے ۔

کیس کی سماعت چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں  تین رکنی خصوصی بنچ  نے کی ۔

نجی اسکول کے وکیل شاہد حامد نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کی تشکیل کردہ کمیٹی نے اسکولوں سے متعلق سفارشات دی تھیں ۔کمیٹی کی سفارشات پر متعدد اسکولوں کے اکاونٹس منجمد کر دیے گئےہیں۔

چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے یہ تو حکومت کا کام ہے کہ سفارشات کو قانونی شکل دے یا پھر رد کر دے۔ صرف سفارشات پر تو کارروائی نہیں کی جاسکتی۔

شاہد حامد نے کہا رولز کیمطابق ماہانہ 4 ہزار روپے سے زائد فیس لینے والے اسکول سالانہ 5 فیصد فیس میں اضافہ کرسکتے ہیں۔ 5 فیصد سے زائد اضافہ کیلئے ریگولیٹری اتھارٹی سے اجازت لینا پڑتی ہے۔ جن نجی اسکولز کی ماہانہ فیس 4 ہزار سے کم ہے ان پر یہ قانون لاگو نہیں ہوتا۔

چیف جسٹس نے کہا اس کا مطلب ہے 4 ہزار روپے ماہانہ سے کم فیس لینے والے اسکولز اپنی مرضی سے فیس میں اضافہ کر سکتے ہیں؟ہائیکورٹ کے فیصلے میں کچھ نتائج اخذ کیے گئے لیکن وہ قانون نہیں ہیں۔ عدالت نے سفارشات کی بنیاد پر نہیں بلکہ قانون کے مطابق چیزوں کو دیکھنا ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا 4000 سے کم فیس پر یہ قانون لاگو نہیں ہوتا۔

چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ 4000 سے زائد فیس پر 5 فیصد سالانہ سے زائد اضافہ نہیں کیا جاسکتا۔

شاہد حامد نے کہا 4000 سے کم فیس والے اسکول اپنی مرضی کا اضافہ کر سکتے ہیں۔ 5 فیصد سالانہ سے زائد اضافے کے لیے تعلیمی سال کے اختتام سے دو ماہ قبل اتھارٹی کو آگاہ کرنا ہوتا ہے۔ فیس بڑھانے کی زیادہ سے زیادہ حد 8 فیصد سالانہ ہے۔

چیف جسٹس نے پوچھا آپ کے خیال میں فیس اضافے میں حد لگانا غیر آئینی ہے؟

شاہد حامد نے کہاغیر آئینی نہیں بلکہ بلا جواز ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا 2012 سے 2015 تک فیسوں کے اضافے پر کوئی حد لاگو نہیں تھی۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا سندھ میں یہ قانون 2005 میں موجود تھا، پنجاب میں 2007 میں اس قانون کی ضرورت محسوس کی گئی۔

جسٹس اعجاز الحسن نے کہا آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ 8 فیصد کی حد لگانا بھی بلاجواز ہے؟

شاہد حامد نے کہا آرٹیکل 18 کے تحت پابندیاں لگائی جاسکتی ہیں لیکن حد لگانا بلاجواز ہے۔ کچھ اسکولوں نے اساتذہ کی تنخواہوں پر کٹوتی بھی کی ہے۔ تمام اخراجات کے بعد سالانہ 10 سے 20 فیصد اضافے کی اجازت ہونی چاہیے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا آڈٹ رپورٹ کے مطابق تمام اخراجات کے بعد بیکن ہاؤس کا منافع 1.4 ارب ہے۔ اس سب کے بعد آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ اسکول فیس میں حد لگانا بلا جواز ہے؟

چیف جسٹس پاکستان نے کہا ماشاءاللہ نجی اسکولز اچھے خاصے پیسے کمارہے ہیں۔معاملے کو عدالت لا کر کیا نجی اسکول مزید پیسہ کمانا چاہتے ہیں؟

نجی اسکول کے وکیل نے کہا حکومت نے 2015 میں فیس میں اضافے کو منجمد کردیاہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا نجی اسکول 8 سے 10 فیصد فیس میں کمی کرنے کو تیار تھے۔ 5 فیصد سالانہ اضافے سے اسکول مالکان کو نقصان نہیں ہے۔ 5 فیصد سالانہ اضافے کی رکاوٹ ختم ہوئی تو مالکان 15 سے 20 فیصد سالانہ اضافہ کریں گے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اسکول خسارے میں ہو تو فیس اضافے کی اجازت ہو،اسکول منافع میں چل رہا ہو تو فیس میں اضافہ مناسب نہیں ہے ۔یہ نظرثانی کی درخواست ہے اگر 20 فیصد اضافے کو دیکھنا عدالت کا کام نہیں تو 8 فیصد اضافے کو دیکھنا کیسے ہو گا؟

چیف جسٹس پاکستان نے کہا ہم سکول فیس کیس کا فیصلہ آرٹیکل 18 کے تحت ہی کریں گے۔اس کیس کا فیصلہ تجارت، پیشے، انڈسٹری اور دیگر اداروں کو بھی متاثر کرے گا۔ اس کیس کا اثر ملکی بجٹ پر بھی پڑے گا۔ دیکھنا ہو گا کہ آرٹیکل 18 میں کس حد تک مداخلت کر سکتے ہیں؟

چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ سالانہ اسکول فیس میں 1 فیصد کمی کریں تو تعلیم مفت ہو سکتی۔مفت تعلیم ریاست کی ذمہ داری ہے۔

نجی اسکول کے وکیل شاہد حامد نے کہا اگر تعلیم دینا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے تو نجی اسکولوں کو سبسڈی دی جائے۔بیکن ہاؤس اپنے 15 فیصد سے زائد طلبہ کو اسکالرشپس دے رہا ہے۔بیکن ہاؤس کے اساتذہ کی کم از کم تنخواہ ہائی کلاس کی فیس کا چار گنا سے زیادہ ہوتی ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا بنیادی حقوق کیخلاف قانون کو عدالت کالعدم قرار دے سکتی ہے۔جمہوریت میں عوام کے منتخب نمائندے قانون بناتے ہیں۔نجی اسکولز حکومت پر دباؤ ڈال کر قانون کیوں نہیں تبدیل کراتے؟جمہوری عمل ایسے ہی آگے بڑھتا ہے۔پارلیمنٹ عوام کی رائے پر قانون سازی کرتی ہے۔عدالت کیسے کہہ دے کہ پانچ فیصداضافہ مناسب یا غیر مناسب ہے؟

نجی اسکول کے وکیل نے کہا جمہوری حکومت فیس میں 20 فیصد اضافے کی اجازت نہیں دیگی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدالت نے گزشتہ سال فیس میں 20 فیصد کمی کا حکم دیا تھا۔نجی اسکولز نے کہا عدالت کون ہوتی ہے فیس کم کرنے والی؟آرٹیکل 25 اے کے تحت تعلیم فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔تعلیم فراہم کرنے کا معاملہ حکومت نے نجی تعلیمی اداروں کو فروغ دے کر آؤٹ سورس کیا۔ نجی تعلیمی ادارے حکومت کے ساتھ تعلیم فراہمی میں شامل ہیں۔اس مقصد میں شامل ہونے کے بعد حکومت کی ریگولیشن کی پابندی بھی کرنا ہوگی۔

نجی اسکول کے وکیل نے کہا آرٹیکل 25 اے تعلیم کی بات کرتا ہے سستی تعلیم کی نہیں۔فیس میں اضافے کا تعین انتظامیہ کا کام ہے۔اشیائے خورونوش کی قیمتوں کو بھی انتظامیہ کنٹرول کرتی ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا ایک نجی اسکول کا سالانہ منافع 353 ملین ہے اور اسکے سالانہ منافع میں اضافے کی شرح 36 فیصد ہے۔ کیا منشیات کے علاوہ کسی اور کاروبار میں اتنا نفع ہے؟

چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ عدالت نہیں کہتی کہ نجی اسکول منافع نہ کمائیں، نجی اسکول اللہ کا شکر بھی ادا کریں، فیس اضافے میں کوئی حد بھی ہونی چاہیے۔نجی اسکولوں کو ریگولیشن پسند نہیں تو لائسنس نہ لیں۔نجی اسکول کو لائسنس چاہیے تو ریگولیشن کو بھی فالو کرنا ہوگا۔  آپ آڈٹ رپورٹ دیکھیں تو بلین روپے ہوتے ہیں لگتا ہے حکومت کو ریگولیشن پر اختیار نہیں۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا زیادہ سے زیادہ اضافے پر پابندی بلا وجہ نہیں لگی، اسکولوں کے مالکان کہتے ہیں راتوں رات پیسہ کما لیں۔

نجی اسکول کے وکیل نے کہا کسی بچےکے والدین نے آج تک آکر نہیں کہا کہ فیس زیادہ ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا والدین پریشان ہیں ہم بھی اسی معاشرے میں رہتے ہیں۔ وہ اسی وجہ سے دو دو نوکریاں بھی کرتے ہیں۔

نجی اسکول کے وکیل نے کہا والدین پر کوئی زبردستی نہیں ہے وہ اپنی مرضی سے ان اسکولوں میں اپنے بچوں کو پڑھاتے ہیں۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا والدین اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے یہ سب کرتے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ انہی اسکولوں کے بچے دنیا میں سکالر شپس لے رہے ہیں۔

نجی اسکول کے وکیل نے کہا چھوٹے سے چھوٹے شہر میں بھی ہمارے اسکول موجود ہیں۔

یہ بھی پڑھیے:’نجی اسکولوں میں جو ہوتا ہے وہ سب کو پتا ہے’

چیف جسٹس پاکستان نے کہا ڈیڑھ روپے فیس دینے والا میرے جیسا کہاں جائے گا؟اتنی کم فیس نہیں آپ کی، غریب بچے کہاں جائیں گے وہ تعلیم سے دور ہو گئے ہیں۔ سرکاری اسکول بھی اب ختم ہو گئے ہیں۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا وہ ڈیرہ غازی خان میں میں پڑھتے  تھے اور ڈیڑھ روپے فیس تھی ۔ 144 روپے سالانہ فیس دیتے تھے۔ ہمیں دنیا میں کہیں محسوس نہیں ہوا کہ ہم گورنمنٹ اسکول سے پڑھے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انہیں  فکر غریب بچوں کی ہے وہ کدھر جائیں گے؟آپ اچھا کام کر رہے ہیں جاری رکھیں۔جو لوگ دیہات میں بیٹھے ہیں وہ کہاں جائیں گے؟باہر ممالک والے سوچتے ہیں بچے اتنے زیادہ نمبر کیسے لے لیتے ہیں ہم کہتے ہیں بچے  بہت ذہین ہیں۔

عدالت نے کیس کی سماعت  کل 12 بجے تک ملتوی کردی۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز