داتا دربار دھماکہ: چار مشتبہ افراد زیر حراست

لاہور: پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں داتا دربار دھماکے کے بعد ہونے والی تحقیقات کے نتیجے میں تفتیشی اداروں نے گڑھی شاہو سے چار مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔

ہم نیوز کے مطابق تحقیقاتی اداروں کو مبینہ بمبار کو دربار لانے والے موٹر سائیکل رکشہ کا سراغ مل گیا جو ریلوے اسٹیشن سے موٹر سائیکل رکشے پہ بیٹھا۔

رکشہ ڈرائیور نے خود کش بمبار کو گڑھی شاہو سے آتے دیکھا تھا۔ ذرائع کے مطابق سہولتکاروں کا سراغ حراست میں لیے گئے رکشہ ڈرائیور سے ملا۔

بعدازاں رات گئے سیکیورٹی اداروں نے گڑھی شاہو میں آپریشن کرکے چار مشتبہ افراد کو حراست میں لیا ہے۔

ہم نیوز نے مبینہ دو سہولت کاروں کی تصاویر حاصل کر لیں جنہیں گزشتہ رات قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حراست میں لیا تھا۔ دونوں سہولتکاروں اور مبینہ خودکش حملہ آور نے سیاہ رنگ کی شلوار قمیض پہن رکھی تھی۔ ، ایک نے سلیپر اور دوسرے نے چپل پہن رکھے تھے۔

ذرائع نے بتایا کہ تینوں دہشت گردوں نے دھماکے سے قبل لاہور کے علاقے دراوغہ والا میں رات بسر کی تھی۔

دھماکے کی صبح سوا 6 بجے دو سہولتکار داتا دربار کے علاقے میں دیکھے گئے، واقعے سے قبل سہولت کار داتا دربار بھی داخل ہوئے اور ریکی کی۔

ذرائع نے بتایا کہ ساڑھے 6 بجے ایک سہولت کار کو دربار سے باہر نکلتے دیکھا جا سکتا ہے۔ دربار کے ساتھ گلی میں ایک دوسرے کو کراس کرتے ہوئے سہولتکاروں نے معلومات کا تبادلہ بھی کیا۔

دونوں سہولت کار دھماکے سے چند روز قبل بادامی باغ کی پٹھان کالونی میں بھی دیکھے گئے۔

شہداء کی تعداد 12 ہوگئی

ادھر خود کش حملے میں زخمی ہونے والا ایک اور نوجوان شہید ہوگیا جس کے بعد واقعے میں شہداء کی تعداد 12 ہوگئی ہے۔

19 سالہ مدثر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جان کی بازی ہار گیا۔  مدثر لوہاری گیٹ کے علاقہ حیدر آباد کا رہائشی تھا۔ میو اسپتال ذرائع کے مطابق مدثر کو میو اسپتال کے سرجیکل وارڈ میں وینٹیلیٹر پر رکھا گیا تھا۔

میو اسپتال لاہور سے سانحہ داتا دربار میں زخمیوں كو ڈسچارج كرنے كا سلسلہ بھی جاری ہے۔ اے ایم ایس میو اسپتال کے مطابق  گزشتہ رات 19 زخمیوں كو ڈسچارج كیا گیا۔

اے ایم ایس کے مطابق 7 زخمی میو اسپتال میں تاحال  زیر علاج ہیں جبکہ مزید 2 لوگوں کو آج ڈسچارج كیا جاٸیگا۔

ادھر خودکش حملے کی تحقیقات میں نیا موڑ آگیاہے۔ داتا گنج بخش کے مزار کے باہر خود کش حملہ آور فوٹیج میں نظر آنے والا نوجوان ہی ہے یا کوئی اور؟اسکی شناخت معمہ  بن گئی ہے۔  تفتیشی اداروں نے سی سی ٹی وی فوٹیج پر بھی سوالات اٹھا دیےہیں۔

تفتیشی اداروں کی طرف سے فوٹیج کے بغورجائزہ لینے کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ  دھماکہ مبینہ  خود کش بمبار کی مخالف سمت میں ہوا۔ اس لیے ابھی تک یہ طے نہیں کیا جاسکا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں دکھائی دینے والا نوجوان ہی خود کش حملہ آور ہے یا کوئی اور ؟ 

یہ بھی پڑھیے:داتا دربارکے قریب ہوئے خود کش حملے میں شہدا کی تعداد11 ہوگئی

بدھ کی صبح داتا دربار گیٹ نمبر دو کے قریب مین روڈ پر پولیس وین کے قریب ہوا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جائے وقوع سے ملنے والے شواہد سے دھماکہ خودکش معلوم ہوتا ہے جبکہ دھماکہ کی جگہ سے انسانی اعضا اور بال بیرنگ بھی ملے ہیں۔

وفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے خودکش دھماکہ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ دھماکہ میں ایلیٹ کی گاڑی کو ٹارگٹ کیا گیا ہے اور جس طرح کڑیاں ملتی جائیں گی تحقیقات میں پیشرفت ملے گی۔

متعلقہ خبریں