پاکستانی لڑکیوں سے شادی کا معاملہ : چینی گروہ کے مذید دو ارکان گرفتار

فیصل آباد :وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے کاروائی کرتے ہوئے پاکستانی لڑکیوں سے شادی کر کے بیرون ملک لیجانے والے  چینی گروہ کے مذید دوارکان کو گرفتار کر لیا ہے۔

ایف آئی اے نے فیصل آباد کے علاقے ایڈن گارڈن میں کرائے کی کوٹھی میں مقیم غیرقانونی شادیوں میں ملوث  گینگ کے مزید دو ارکان گرفتارکیے۔

ذرائع  کے مطابق گرفتار دونوں چینی باشندوں کو ایف آئی اے کی حوالات میں  منتقل کر دیا گیا ہے۔

ایف آئی اے کے مطابق ملزمان کو عدالت میں پیش کر کے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کی درخواست کی جائے گی۔

ایف آئی اے ذرائع نے دعوی کیا ہے کہ گرفتار چینی باشندوں سے تفتیش کے دوران مذید اہم انکشافات بھی سامنے  آنے کی توقع ہے ۔

یاد رہے گزشتہ روز وفاقی تحقیقاتی ایجنسی ( ایف آئی اے ) نے کارروائی کرکےاسلام آباد انٹر نیشنل ائر پورٹ سے  2 چینی لڑکے اور 3پاکستانی لڑکیاں گرفتارکرلی ہیں۔ گرفتار افراد خود کو شادہ شدہ ظاہر کرکے چین جارہے تھے۔

ایف آئی اے ذرائع نے ہم نیوز کو بتایا کہ  دوچینی لڑکوں اور تین پاکستانیوں لڑکیوں سے تحقیقات کے بعد پتہ چلا کہ گرفتار چینی پاکستانی خواتین کو سمگل کرکے چین لیجارہے تھے۔

ذرائع نے دعوی کیا ہے کہ گرفتار چینی جسم فروشی کے دھندے اور اعضاء کی خریدوفروخت کے مکروہ دھندہ بھی کرتے ہیں۔ گرفتار افراد میں دو چینی لڑکے اور تین پاکستانی لڑکیاں شامل ہیں۔

تمام ملزمان کو ایف آئی اے نے انسداد انسانی اسمگلنگ سیل منتقل کردیا ہے۔

ادھر فیصل آباد میں وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے )نے گرفتار چینی باشندوں کو عدالت میں گزشتہ روز پیش کیا۔ گرفتار 22 چینی باشندوں کو مجسٹریٹ خرم شہزاد کی عدالت میں پیش کیا گیا ۔
فیصل آباد کی مقامی عدالت نے گرفتار چینی باشندوں کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔

22 چائینیز 2 پاکستانی افراد کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجا گیاہے۔

یہ بھی پڑھیے:اسلام آباد: 2 چینی لڑکے اور 3پاکستانی لڑکیاں گرفتار

چین نے پاکستانی لڑکیوں سے شادی کے معاملے پر گرفتار افراد کےخلاف کارروائی کی حمایت کردی تھی۔ چینی سفارتخانے نے کہا ہے کہ کسی کو بھی کراس بارڈر شادی کے لبادے میں جرائم کے ارتکاب کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

چینی سفارتخانے کے ترجمان نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ چین قانونی شادیوں کے تحفظ اور جرائم کے خاتمے کا حامی ہے۔

چین میں ان خواتین میں سے کسی سے جبری غیر اخلاقی کام نہیں کرائے گئے۔ خواتین کے جسمانی اعضا کی سمگلنگ سے متعلق میڈیا پر آنے والی خبریں بے بنیاد ہیں۔ دونوں ممالک کے عوام افواہوں پر کان نہ دھریں۔

ان کا کہنا ہے کہ وزارت پبلک سیکیورٹی نے پاکستانی حکام سے تعاون کیلئے ٹاسک فورس پاکستانی بھیجی ہے۔چین دوطرفہ تعلقات اور شہریوں کے حقوق کے تحفظ میں پاکستان کیساتھ تعاون کو مزید وسیع کرے گا۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز