قومی اسمبلی : 26واں آئینی ترمیمی بل متفقہ طور پر منظور

قومی اسمبلی نے 26ویں آئینی ترمیم کا بل متفقہ طور پر منظور کرلیا۔قومی اسمبلی نے 26 ویں آئینی ترمیم کی دوتہائی سے بھی زائد اکثریت سے منظوری دے دی۔ مجموعی طور پر 288 اراکین نے بل کی حمایت میں ووٹ دیا۔ اجلاس میں موجود تمام اراکین نے آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دیا۔کسی بھی رکن نےآئینی ترمیم کی مخالفت نہیں کی۔

پارلیمانی تاریخ میں پہلی بار نجی آئینی ترمیمی بل کو حکومت  اور اپوزیشن کے اتفاق رائے سے منظور کیا گیا۔

بل کی حتمی  منظوری کے بعد قومی اسمبلی میں کے پی میں ضم ہونے والے سابقہ فاٹا کے قبائلی  اضلاع کی موجودہ 12 نشستیں برقرار رہیں گی ۔ سابقہ فاٹا کے قبائلی اضلاع خیبرپختونخوا اسمبلی میں صوبائی نشستوں کیتعداد اضافے کے بعد 24 ہوجائے گی۔

ایوان میں 26ویں آئینی ترمیمی بل کی منظوری سے قبل وزیراعظم عمران خان نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ آج سابقہ فاٹا کے حوالے سے بل پاس کیا جارہاہے ۔ مجھے خوشی ہے کہ تمام جماعتوں میں اتفاق رائے ہے۔

عمران خان نے کہا این ایف سی ایوارڈ میں سے 3فیصد سابقہ فاٹا کو دیے جانے کی بات ہوئی تھی ۔مجھے امید ہے کہ صوبے این ایف سی ایوارڈ میں سے یہ رقم دینا ہوگا۔ سارے پاکستان کو کے پی کی مدد کرنا ہوگی۔

قبائلی علاقوں کی ترقی تب ہی ممکن ہوگی جب تمام صوبے اس حوالے سے امداد کرینگے۔

عمران خان نے کہا کہ مشرقی پاکستان احساس محرومی کی وجہ سے علیحدہ ہوا۔ مشرقی پاکستان کے لوگوں کو ان کا حق نہیں ملا۔ سارے پاکستان کو یہ احساس نہیں ہونا چاہیے کہ انہیں ان کے حق سے محروم رکھا جارہاہے ۔

عمران خان نے کہا کہ ملک میں ترقی ان علاقوں کی پہلے ہونی چاہیے جو پیچھے رہ گئے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہمارے لیے یہ سبق ہے کہ کسی کوبھی ملک میں یہ احساس نہیں ہونا چاہیے کہ انہیں محروم کیا جارہاہے ۔

جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کے لئے آئینی ترمیم بل کی تحریک قومی اسمبلی میں منظور کرلی گئی ۔ جنوبی صوبہ پنجاب بنانے کی تحریک بہاول پورسے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی  مخدوم سید سمیع الحسن گیلانی نے پیش کی۔

قومی اسمبلی میں جنوبی پنجاب صوبہ بنانے لیے آئینی ترمیمی بل کی تحریک  کثرت رائے سےمنظور کرلی گئی۔

ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ جنوبی پنجاب صوبہ پر پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف ایک پیج پر ہیں۔ تحریک انصاف جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کے لیے اپنے منشور پر عمل کرکے رہے گی ۔

انہوں نے کہا کہ سی پیک اپنی تکمیل کو پہنچے گا۔ کوئی کچھ بھی کر لے سی پیک بن کر رہے گا۔گوادر حملے میں جن اہلکاروں نے جام شہادت نوش کیا ان کو سلام پیش کرتے ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا سی پیک کے لئے خصوصی سیکیورٹی ڈویژن بنایا ہے،سی پیک کی سیکیورٹی یقینی بنائی جائے گی۔

مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی سابق وزیرا عظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پہلا موقع ہے پرائیویٹ ممبر بل سے آئینی ترمیم ہورہی ہے،فاٹا کی عوام کو ان کا حق دیا جائے۔ جس شخص نے فاٹا کا بل موو کیا اس کا تعلق پی ٹی ایم سے ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم کسی کو راء کا ایجنٹ کہتے ہیں، اگر ایسا ہے اس کو سزا ملنی چاہیئے،آج اس اہم بل پر وزیراعظم کو ایوان میں موجود ہونا چاہئے تھا۔مولانافضل الرحمن نے مجھے بتایا کہ انہیں فاٹا بل پر شدید اختلاف ہے۔ فاٹا بل پر حکومت اور اپوزيشن کے دستخط ہونے چاہئیے تھے، ملک کے بڑے بڑے مسائل پر بات نہیں ہورہی۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ قبائلی اضلاع میں انتخابات کا اعلان کیا جاچکاہے ۔ میری تجویز ہے کہ بل میں یہ بات شامل کی جائے کہ بل کی منظوری کے 6ماہ بعد وہاں صاف وشفاف انتخابات کا انعقاد کرایا جائے ۔

انہوں نے کہا کہ ستر سال بعد قبائلی علاقوں میں انتخابات ہورہے ہیں۔ انہیں صاف وشفاف انتخابات دیے جائیں۔ انتخابات پارلیمانی کمیٹی کی نگرانی میں کرائے جائیں۔

شاہد خاقان عباسی کی تقریر کے دوران ہی وزیراعظم عمران خان بھی ایوان میں پہنچ گئے۔

وزیراعظم عمران خان کی موجودگی کے دوران ایوان میں تلخی پیدا ہوگئی ۔ شاہد خاقان عباسی کی تقریر کے دوران شیریں مزاری نے جملہ کسا توسابق وزیراعظم سیخ پاہوگئےاورکہا آپ بات کرلیں میں بیٹھ جاتا ہوں۔ سابق وزیراعظم اپنی نشست پر بیٹھ گئے،اسپیکر نے نو کراس ٹاک کی صدا لگا کر شیریں مزاری خاموش کرادیا۔

شاہد خاقان عباسی نے عمران خان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم ایوان کو آگاہ کریں کہ آئی ایم ایف کے  ساتھ کیا معاہدہ طے پایا ہے۔ مہنگائی کا بوجھ ہے ، بے روز گاری بڑھ رہی ہے۔ وزیراعظم ایوان کو اعتماد میں لیں ۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ یہ ہاؤس ملک کے مسائل ڈسکس کرنے کے لیے ہے، یہاں کسی کی زبان بندی نہیں کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہاؤس کو چلانا ہے تو سب کو بولنے کا موقع دیا جئے۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ جتنی عجلت میں بل لایا گیاہے اتنی عجلت مسائل حل کرنے میں بھی کی جاتی ۔

مسلم لیگ ن کے رہنما نے کہا کہ آج نیب اپوزیشن کو دبانے کے لیے استعمال کیا جارہاہے۔ رویے میں تبدیلی چاہیے پاکستان کے عوام کے نمائندوں کو یہاں بولنے کا حق دیا جائے ۔ چاہے رات ہوجائے سب کو بولنے کا حق دیا جائے۔

جنوبی پنجاب صوبہ پر پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف ایک پیج پر ہیں، شاہ محمود

پیپلزپارٹی کے رکن قومی اسمبلی سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی نے فاٹا کے عوام کے لیے ہمیشہ آواز اٹھائی ہے۔ فاٹا ریفارمز کمیٹی شہید ذوالفقار علی بھٹو نے نصیراللہ بابر کی قیادت میں بنائے۔ اسی طرح بے نظیر بھٹو شہید نے بھی فاٹاکے لوگوں کو بالغ رائے دہی کا حق دیا۔

راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ آصف زرداری نے فاٹا انگریزوں کے کالے قانون ایف سی آر کے خاتمے کا اعلان کیا۔

انہوں نے کہا کہ قبائلی عوام سچے پاکستانی ہیں۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں فاٹا کے لوگوں کو چرکے لگے۔ فاٹا کے عظیم لوگوں نہ صرف پاکستان کی بلکہ دنیا کو دہشتگردی سے محفوظ رکھنے کے لیے جنگ لڑی۔

راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ جنوبی پنجاب کا بل پہلے پیپلزپارٹی قومی اسمبلی میں بل پاس کرچکی ہے ۔ سینیٹ میں بھی پیپلزپارٹی کا بل موجود ہے ۔ جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کے لیے کمیشن بنا تھا۔ مقصدیت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے ۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کے رکن قومی اسمبلی آغاحسن نے کہا کہ بلوچستان کے اراکین بھی قومی اسمبلی کے نشستیں بڑھانے کے لیے بل لائیں گے توقع کرتے ہیں کہ بلوچ عوام کی آواز بھی سنی جائیگی۔

ایم کیو ایم پاکستان کے خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ تحریک آزادی میں 7سال بعد پاکستان کا وجود میں آگیاتھا۔ 70سال گزر گئے ہیں مگر مسائل جوں کے توں ہیں ۔ ملک ایک نئے عمرانی معاہدے کی طرف بڑھ رہا ہے ۔ ملک میں نئے ایڈمنسٹریٹو یونٹ کی ضرورت ہے ۔

اے این پی کے غلام حیدرخان ہوتی نے کہا کہ فاٹا کا لفظ بار بار بولا گیا۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کا نام کے پی نہیں ہے خیبر پختنوخوا ہے ، اسے خیبر پختونخوا ہی کہا جائے۔

 

بل کی منظوری کے لئے کم سے کم ایوان میں 2سو 28 ارکان کی حمایت درکار تھی۔ بل کی پہلی دو ریڈنگز ارکان کی رائے شماری کے ذریعے ہوئی۔تیسری اور آخری ریڈنگ میں ایوان کی تقسیم کا طریقہ کار اپنایا گیا۔

منظوری کے بعد یہ بل چھبیسویں آئینی ترمیم کہلائے گا۔قائمہ کمیٹی قانون کی رپورٹ میں قبائلی اضلاع سے قومی اسمبلی کی نو اور صوبائی اسمبلی کی سولہ نشستیں مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے:قومی اسمبلی میں 26ویں آئینی ترمیمی بل پر بحث

قومی اسمبلی :آج 26ویں آئینی ترمیمی بل کی منظوری کا امکان

محسن داوڑ نے قبائلی اضلاع سے قومی اسمبلی کی بارہ اور صوبائی اسمبلی کی چوبیس نشستوں کے لئے ترامیم پیش  کی ۔

یاد رہے چھبیس ویں آئینی ترمیمی بل  پر قومی اسمبلی میں بحث کا آغاز10مئی کو ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں ہوا۔ سابقہ فاٹا میں قومی و صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں سے متعلق  آئینی ترمیمی بل پیش کرنے کی تحریک   رکن قومی اسمبلی محسن داوڑکی طرف سے آئی ۔

بل پر بحث کا آغازپاکستان میں اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ ن کے پارلیمانی لیڈر خواجہ آصف نے کیا تھا۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز