پنجاب یونیورسٹی میں ایم فل اورپی ایچ ڈی پروگرام روکنے کا حکم

لاہور: ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے پنجاب یونیورسٹی کے 69 شعبوں میں ایم فل اور 55 میں پی ایچ ڈی پروگرام روکنے کا حکم دے دیا ہے جس کے باعث ہزاروں طلبا کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے جبکہ پنجاب بھر کی جامعات میں ایم فل اور پی ایچ ڈی کی ڈگریوں کی اسکروٹنی کا عمل شروع ہو گیا ہے۔

ایچ ای سی کوالٹی اشورنس کمیٹی نے جامعہ پنجاب کے مختلف شعبوں کا دورہ کیا اور دورے کے بعد ڈگریاں روکنے کا فیصلہ کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق جامعہ پنجاب کے شعبوں کے دورے میں بےقاعد گیاں ثابت ہوئی تھیں جس کے بعد شعبہ سیاسیات، بین الاقوامی تعلقات اور مطالعہ پاکستان کے پی ایچ ڈی پروگرامز روک دئیے گئے ہیں جبکہ شعبہ عمرانیات اور اردو سمیت 55 پی ایچ ڈی پروگرامز کو بھی فوری روکنے کا حکم دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ڈگری کی تصدیق نہ کرنے پر ہائر ایجوکیشن کمیشن کو نوٹس

اسی طرح 69 ایم فل ڈگریوں میں مزید داخلے اور تدریسی عمل روکنے جبکہ شعبہ آرٹس اینڈ ڈیزائن، کیمسٹری اور شماریات میں ایم فل پروگرام کی بندش کا حکم دیا گیا ہے۔

55  پی ایچ ڈی پروگرامز میں 2090 اور 69 ایم فل پروگرامز میں 5598 طلبا رجسٹرڈ ہیں جن میں 488 پی ایچ ڈی فیکلٹی ممبران بھی موجود ہیں۔

ایک سال قبل بھی ایچ ای سی نے ملک بھر کی 13 جامعات  کو ایم فل اور پی ایچ ڈی کے طلبا کے اندراج سے روک دیا تھا۔

کمیشن کے تعلیمی معیار کویقینی بنانے والے (کوالٹی اشیورنس) ڈویژن کے محمد اسماعیل نے یونیورسٹیوں کو بھیجے گئے خط میں ہدایت کی تھی کہ فوری طور پر ایم فل اور پی ایچ ڈی میں نئے اندراج کا سلسلہ بند کیا جائے۔

ہم نیوز کے مطابق ایچ ای سی  کی نئی پابندی کا اطلاق فاصلاتی تعلیم سے متعلق پروگرامز پر ہو گا۔

جن یونیورسٹیوں کو خطوط بھیجے گئے ہیں ان میں انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد، ورچوئل کیمپس، کومسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی اسلام آباد شامل تھے۔

یونیورسٹی آف پشاور، گومل یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد، یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد کو بھی خطوط بھیجے گئے ہیں۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز