ماہ صیام کا رحمتوں بھرا عشرہ گزر گیا : روزہ داروں کا ’لٹنا‘ نہ رکا

May 16, 2019
ماہ صیام کا رحمتوں بھرا عشرہ گزر گیا: روزہ داروں کا ’لٹنا‘ نہ رکا

اسلام آباد/کراچی: رمضان المبارک کا رحمتوں و برکتوں بھرا ایک عشرہ گزر گیا لیکن روزہ داروں کا منافع خوروں کے ہاتھوں ’لٹنا‘ نہ رکا۔ اس طرح حکومتی اعلانات و دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔

حکومتی اعلانات و سرکاری اقدامات کے باوجود وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور ملک کے سب سے بڑے شہر و معاشی سرگرمیوں کے مرکز کراچی میں اشیائے خورد ونوش کی قیمتوں میں کیا جانے والا غیر معمولی اضافہ برقرار ہے۔

افسوسناک امر ہے کہ بلند و بانگ حکومتی دعوؤں کے برعکس مصنوعی اضافہ روز بروز مزید بڑھ رہا ہے جب کہ حکومتی اقدامات کے تحت اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں کو مناسب سطح پہ رکھنے کے لیے قائم کردہ سرکاری کمیٹیاں مختلف بازاروں کے دورے کررہی ہیں اور منافع خوروں پہ جرمانے کیے جانے کی بھی اطلاعات ذرائع ابلاغ کو پہنچا رہی ہیں۔

حکومتی کمیٹیاں ’حسب روایت‘ ذرائع ابلاغ کو افظار کے وقت ایک اعلامیہ (پریس ریلیز) کے ذریعے بتاتی ہیں کہ انہوں نے منافع خوروں کے خلاف کارروائی عمل میں لاتے ہوئے کتنے لاکھ روپے کے جرمانے عائد کیے ہیں جب کہ بعض صورتوں میں کی جانے والی گرفتاریوں کی تفصیلات سے بھی آگاہ کرتی ہیں مگر صورتحال میں کوئی ’بدلاؤ‘ دکھائی نہیں دے رہا ہے۔

ہم نیوز کے مطابق کمشنر کراچی کی جانب سے جاری کردہ پرائس لسٹ کے مطابق بند گوبھی کی قیمت 105 روپے فی کلو مقرر کی گئی ہے لیکن خریداروں کو وہ 120 روپے فی کلو کے نرخ پہ دستیاب ہے۔

سرکاری سطح پرشہر قائد میں لیموں کے نرخ 311 روپے فی کلو مقرر ہیں لیکن مارکیٹوں میں وہ 400 روپے فی کلو تک میں فروخت کیا جارہا ہے۔

رمضان المبارک میں افطاری کا اہم جز سجھے جانے والے ’پکوڑے‘ کی تیاری ہری مرچ کے بغیر ادھوری تصور کی جاتی ہے اس لیے اس کی قیمت میں بھی غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ اس وقت مختلف مارکیٹوں میں ہری مرچ 150 روپے فی کلو سے لے کر 200 روپے تک میں فروخت کی جارہی ہے۔

شہر قائد میں کیلے کے سرکاری نرخ 95 روپے فی درجن مقرر کیے گئے ہیں مگر گاہکوں کو وہ 120 سے لے کر 150 روپے فی درجن تک میں دستیاب ہے. کیلا بھی افطاری کے لیے تیار کی جانے والی ’فروٹ چاٹ‘ کا اہم جز سجمجھا جاتا ہے۔

ترکاری اور بعض گھروں میں سالن کی صورت میں بھی استعمال کی جانے والی سبزی اروی کی قیمتوں کو بھی ’پر‘ لگ گئے ہیں اور وہ مارکیٹ میں 105 روپے فی کلو کے بجائے 127 روپے فی کلو تک میں فروخت کی جارہی ہے۔

ہم نیوز کے مطابق کمشنر کراچی کی جانب سے فراہم کردہ سرکاری نرخنامے کے مطابق پپیتے کی قیمت میں خود ’سرکار‘ نے اضافہ کیا ہے جس کے بعد اس کی قیمت فروخت 117 روپے فی کلو مقرر کی گئی ہے مگر وہ اس سے کہیں زیادہ قیمت میں فروخت کیا جارہا ہے۔

اسلام آباد میں آلو30 روپے فی کلو، پیاز 370 روپے فی دھڑی (پانچ کلو)، ٹماٹر 50 سے 70 روپے فی کلو، ادرک 220 سے 250 روپے فی کلو، لیموں دیسی 420 سے 550 روپے فی کلو، بھنڈی 60 سے 80 روپے فی کلو، میٹھا کدو (کاشی پھل)60 سے 80 روپے فی کلو، کھیرا 50 سے 60 روپے فی کلو، پالک 30 سے 40 روپے فی گڈی، شملہ مرچ 90 سے 120 روپے فی کلو، شلجم 50 روپے فی کلو، بند گوبھی 80 روپے فی کلو، پھول گوبھی 80 روپے فی کلو اور ہری مرچ 220 روپے فی کلو میں فروخت کی جارہی ہے۔

ہم نیوز کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے لیے مارکیٹ کمیٹی نے جو نرخ مقرر کیے ہیں ان پر پورے شہر میں بمعہ سبزی و فروٹ منڈی عمل درآمد دکھائی نہیں دے رہا ہے بلکہ یکم رمضان المبارک کی نسبت اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں واضح اضافہ نظر آرہا ہے۔

اس اضافے کے متعلق مارکیٹ سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ دکانداروں کو دراصل اس رقم کی بھی ’وصولی‘ کرنی ہے جو وہ جرمانے کی شکل میں حکومتی خزانے میں جمع کرارہے ہیں۔

دکانداروں کا اس سلسلے میں واضح طور پر کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے قائم کردہ کمیٹیوں نے اپنی کارکردگی دکھانے کے لیے ہم پر جرمانہ ’لازمی‘ کرنا ہوتا ہے اور کچھ ’گرفتاریاں‘ بھی عمل میں لانا ہوتی ہیں تو ہم ’مزاحمت‘ کرنے کے بجائے ’باہمی احترام‘ کا مظاہرہ کرتے ہوئے جائز و ناجائز جرمانہ کرالیتے ہیں اورضرورت پڑنے پہ گرفتاریاں بھی دے دیتے ہیں جس کی وصولی بعد میں ’گاہکوں‘ سے کرلیتے ہیں۔

دکانداروں کا یہ مؤقف اس لیے بھی کچھ زیادہ غلط نہیں ہے کہ اسلام آباد، کراچی، لاہور، کوئٹہ، پشاور، حیدرآباد، ملتان، راولپنڈی، حب اورچارسدہ سمیت دیگر شہروں، قصبوں و دیہاتوں کے مکین برسوں سے اسی طرز عمل کو بھگت اور سہہ رہے ہیں۔ شاید! ہم سب ’عادی‘ ہوگئے ہیں۔۔۔!

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز