پی ایم ایل(ن) بھی پی پی اور جے یو آئی کے ساتھ احتجاج پر آمادہ

اسلام آباد: حکومت مخالف اورسابق ’حکمران‘ سیاسی جماعتوں نے ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری، ڈالرز کی اونچی اڑان، ملکی روپے کی بے قدری اور ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کے خلاف بھرپور احتجاجی تحریک چلانے کی منصوبہ بندی کرلی اور اندرون خانہ رابطوں کا آغاز کردیا ہے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلزپارٹی اور جمعیت العلمائے اسلام (ف) فی الوقت اس بات پر متفق ہیں کہ عیدالفطر کے بعد بھرپورحکومت مخالف احتجاج کیا جائے گا اور تحریک چلائی جائے گی۔

ہم نیوز نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ کچھ عرصے سے ’خاموشی‘ اختیار کیے ہوئے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے بھی اپنی جماعت پی ایم ایل (ن) کو حکومت مخالف احتجاج کرنے کی اجازت دے دی ہے جس سے ملک کی سیاسی صورتحال میں ’ہلچل‘ پیدا ہوگئی ہے۔

حیرت انگیز طور پر اس ضمن میں پارٹی اجلاس بلانے اور احتجاجی لائحہ عمل طے کرنے کی ذمہ داری میاں نواز شریف نے شاہد خاقان عباسی کو تفویض کی ہے جب کہ پارٹی صدر ان کے چھوٹے بھائی میاں شہباز شریف ہیں۔ ملک کے سیاسی مبصرین اس پر اپنے اپنے انداز میں تبصرے کررہے ہیں۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے علاوہ جمعیت العلمائے اسلام (ف) کے مرکزی رہنما سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری نے بھی عیدالفطر کے بعد حکومت مخالف تحریک چلانے کا اعلان کردیا ہے۔

سابق صدر پاکستان اور پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے بھی گزشتہ روز کہا تھا کہ پارلیمنٹ میں نہیں سڑکوں پرحکومت مخالف تحریک چلائیں گے۔ اس ضمن میں ان کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو زرداری ان کا اور بی بی شہید کا بیٹا ہے جسے انگاروں پہ چلنا ہے اور وہ انگاروں پر چلے گا۔

ہم نیوز کو ذمہ دار ذرائع نے بتایا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو ہدایت کی ہے کہ وہ حکومت مخالف تحریک کا لائحہ عمل بنائیں۔ ذرائع کے مطابق قائد پی ایم ایل (ن) نے واضح کیا ہے کہ شاہد خاقان عباسی ہی مرکز اور صوبوں میں پارٹی اجلاس بلائیں گے۔

ذرائع کے مطابق پی ایم ایل (ن) کے قائد میاں نواز شریف سے گزشتہ دنوں مرکزی رہنماؤں کی جو ملاقات ہوئی تھی اس میں انہوں نے حکومت مخالف احتجاج کی اجازت دیتے ہوئے فوری طورپر مرکزی اور صوبائی قیادتوں کو احتجاجی لائحہ عمل طے کرنے کے لئے اجلاس طلب کرنے کی ہدایت کی تھی۔ مرکزی و صوبائی قائدین کو ملنے والی ہدایت میں واضح کردیا گیا تھا کہ حتمی لائحہ عمل شاہد خاقان عباسی طے کریں گے۔

پی ایم ایل (ن) کے قائد میاں نواز شریف کو پارٹی کی سطح پر طے کیے جانے والے احتجاجی لائحہ عمل سے مکمل آگاہی دلانے کے لیے اہم مرکزی رہنما آئندہ ہونے والی ملاقات میں تفصیلی بریفنگ دیں گے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ذمہ دار ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم کو ملاقات میں یہ بھی بتایا جائے گا کہ احتجاج کس نوعیت کا ہوگا؟ اوراس کا طرز عمل یا طریقہ کار کیا ہوگا؟

ہم نیوز کے مطابق مرکزی رہنماؤں سے ہونے والی ملاقات میں پارٹی قائد میاں نواز شریف نے ہدایت کی تھی کہ مہنگائی پر مرکزی و صوبائی رہنما عوام کی آواز بنیں۔ ان کا واضح طور پر کہنا تھا کہ مہنگائی پر اب مزید خاموش نہیں رہیں گے۔

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حکومت نے عوام کے ساتھ جو رویہ اپنایا ہے وہ کسی صورت قبول نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کی عوام کو ریلیف دینے کی نیت ہی نہیں ہے۔

میاں نواز شریف نے پارٹی رہنماؤں سے ہونے والی ملاقات میں کہا تھا کہ اخبارات میں مہنگائی اور ڈالر کی اڑان کا پڑھ کر بہت پریشان ہوتا ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ آج اوپن مارکیٹ میں غیرملکی کرنسی نہیں مل رہی ہے جو ہماری بدقسمتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ڈالر کی قیمت کو مستحکم رکھا تھا اور ملک میں ترقی کا پہیہ چلایا تھا۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف نے حکومت پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے یہ بھی استفسارکیا تھا کہ ایمنسٹی اسکیم کو برا بھلا کہنے والے اب کس منہ سے یہ اسکیم خود لا رہے ہیں؟

ہم نیوز کے مطابق سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے جیل واپسی پر پارٹی کارکنان کا شکریہ ادا کیا تھا اور پی ایم ایل (ن) کے نئے عہدیداران کو مناصب ملنے پر ان کو مبارکباد بھی دی تھی۔

سیاسی مبصرین کے مطابق فی الوقت تک یہ امر حیران کن ہی قرار دیا جائے گا کہ میاں شہباز شریف کی موجودگی میں میاں نواز شریف نے پارٹی اجلاس بلانے اور احتجاجی تحریک کا لائحہ عمل طے کرنے کی ذمہ داری شاہد خاقان عباسی کے سپرد کیوں کی؟

میاں نواز شریف نے اس سے قبل اپنی نااہلی کے بعد وزارت عظمیٰ بھی میاں شہباز شریف کے بجائے شاہد خاقان عباسی کے سپرد کی تھی جس پر پورے ملک میں چہ میگوئیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔

سیاسی مبصرین کے ایک حلقے کا خیال ہے کہ اگر میاں نواز شریف واقعتاً متحرک ہوئے ہیں تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ اب ایک مرتبہ پھر پی ایم ایل (ن) ’مفاہمانہ طرز‘ سیاست سے نکل کر جارحانہ انداز سیاست اپنائے گی اور مریم نواز دوبارہ کوچہ سیاست میں فعال کردار ادا کریں گی۔

مبصرین کے مطابق چونکہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف جارحانہ اندازسیاست کے حامی نہیں ہیں اس لیے عین ممکن ہے کہ انہوں نے مصلحتاً خاموشی اختیار کرلی ہو جب کہ پردہ ’اسکرین‘ سے وہ پہلے ہی لندن میں قیام پذیر ہونے کی وجہ سے غائب ہیں۔

پاکستانی طرز سیاست پہ نگاہ رکھنے والوں میں سے کچھ کا مؤقف ہے کہ میاں نواز شریف نے ذمہ داری شاہد خاقان عباسی کو یہ دیکھ کر دی ہوگی کہ ماضی میں دو تین مرتبہ جب شہباز شریف نے جلوسوں کی قیادت کی تو وہ بری طرح سے منزل مقصود تک پہنچنے میں ناکام ثابت ہوئے تھے جس پر تنقید و اعتراضات کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔

ہم نیوز کے مطابق جمعیت العلمائے اسلام (ف) نے بھی عیدالفطر کے بعد حکومت مخالف تحریک شروع کرنے کا باضابطہ اعلان کردیا ہے۔ یہ اعلان جے یو آئی (ف) کے مرکزی رہنما سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری نے ’ہم نیوز‘ سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں خاموشی قومی جرم کے مترادف ہے۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ 14 جولائی کو کوئٹہ میں ملین مارچ منعقد ہو گا جب کہ 21 کو پشاور میں جلسہ عام کا انعقاد کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ احتجاجی تحریک کے حتمی مرحلے میں دھرنا ہوگا جو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں دیا جائے گا۔

جمعیت العلمائے اسلام (ف) کے مرکزی رہنما سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری نے دعویٰ کیا کہ حکومت مخالف تحریک چلانے کے لیے پاکستان پیپلزپارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) سے رابطے قائم ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ جے یو آئی (ف) کی جانب سے شروع کی جانے والی احتجاجی تحریک سے خوفزدہ ہوکر حکومت نے امیر جے یو آئی مولانا فضل الرحمان کی سیکیورٹی واپس لے لی ہے۔

سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری نے واضح کیا کہ اگر مولانا فضل الرحمان کی سیکیورٹی بحال نہ کی گئی تو اراکین اسمبلی خود اسلحہ لے کر مولانا فضل الرحمان کی حفاظت کا فریضہ سرانجام دیں گے۔

جمعیت العلمائے اسلام (ف) کے مرکزی رہنما مولانا عبدالغفور حیدری نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ کالے دھن کو سفید کرنے کے آرڈی ننس کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔

ہم نیوز کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما احسن اقبال نے بھی لاہور میں اس بات کا عندیہ دے دیا ہے کہ حکومت کو عوام دشمن پالیسیوں پر ’ٹف ٹائم‘ دیں گے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت سوشل میڈیا کی حکومت ہے جب کہ حقیقتاً ملک غربت، بے روزگاری اور مہنگائی کی سونامی سے متاثر ہے۔

حکومتی پالیسیوں کو کڑی نکتہ چینی کا نشانہ بناتے ہوئے سابق وفاقی وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کے روپے کو روز ’ککس‘ لگ رہی ہیں کیونکہ حکومت کو معیشت چلانے کی سوجھ بوجھ ہی نہیں ہے۔

پی ایم ایل (ن) کے مرکزی رہنما احسن اقبال نے الزام عائد کیا کہ عمران خان نے عوام سے صدی کا سب سے بڑا جھوٹ بولا ہے اور اس کی وجہ سے وہ ایکسپوز بھی ہو چکے ہیں۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری نے گزشتہ روز اسلام آباد میں ذرائع ابلاغ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ پارلیمنٹ میں نہیں بلکہ سڑکوں پر حکومت مخالف تحریک چلائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ قومی احتساب بیورو( نیب) اور قومی معیشت ایک ساتھ نہیں چل سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ بلاول میرا اور بی بی شہید کا بیٹا ہے لہذا اسے انگاروں پہ چلنا ہے اور وہ چلے گا۔

 

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز