اسلام آباد: اختیارات کی جنگ نے شہر کو قلت آب سےدوچار کردیا


اسلام آباد : کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) اور میٹروپولیٹن کارپوریشن (ایم سی آئی ) کے درمیان اختیارات کی جنگ نے شدت اختیار کرلی ہے جس کی وجہ سے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد قلت آب کا مزید شکار ہوگیا ہے۔ افسوسناک امر ہے کہ ’شہراقتدار‘ کے مکینوں کا بھی پرسان حال کوئی نہیں ہے۔

ہم نیوز کے مطابق پانی کی کمی کے باعث شہریوں کو رمضان المبارک کے مہینے میں سینکڑوں روپے کی ادائیگیاں کرکے ’واٹر ٹینکرز مافیا‘ سے واٹر ٹینکر خریدنے پڑ رہے ہیں جو موجودہ مہنگائی کے دور میں ان کے لیے کسی ’عذاب‘ سے کم نہیں ہے۔

ہم نیوز کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کو اس وقت 51 ملین گیلن پانی کی کمی کا سامنا ہے جب کہ شہر میں نصب متعدد ٹیوب ویلز بھی ناکارہ ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے قلت آب نے بحرانی کیفیت کو جنم دیا ہے۔

ذمہ دار ذرائع نے اس ضمن میں ہم نیوز کو بتایا کہ 22 لاکھ نفوس پر مشتمل اسلام آباد کو پانی کی فراہمی کے لیے اس وقت متعلقہ سرکاری ادارے کے پاس صرف 14 واٹر ٹینکرز موجود ہیں۔

ذرائع کے مطابق عملاً صورتحال یہ ہے کہ آٹھ واٹر ٹینکرز مکمل طور پر ناکارہ ہوگئے ہیں جب کہ 12 ٹینکروں کو مرمت کی غرض سے ورکشاپس میں کھڑا کردیا گیا ہے۔

ہم نیوز نے متعلقہ ذمہ دار ذرائع سے بتایا ہے کہ میٹرو پولیٹین کارپوریشن کے پاس واٹر ٹینکروں کی مرمت کے لیے درکار فنڈز ختم ہوگئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق سی ڈی اے حکام نے ایم سی آئی کو مزید ادائیگیوں سے معذرت بھی کرلی ہے۔

قلت آب کی صورتحال سے باخبر ذمہ دار ذرائع نے انکشاف کیا کہ محکمہ واٹر سپلائی نے حالات کی سنگینی سے حکومت اور متعلقہ حکام کو پانچ ماہ قبل آگاہ کردیا تھا مگر تاحال اس ضمن میں اقدامات نہیں کیے گئے جس کی وجہ سے حالات سنگین رخ اختیار کرگئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق اگست 2018 میں ایم سی آئی اے نے سی ڈی اے سے ایک کروڑ روپے گرانٹ دینے کا مطالبہ کیا تھا جس پر اسے نصف گرانٹ دینے کی منظوری دی گئی تھی۔

ایم سی آئی اے کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ملنے والی 50 لاکھ روپے کی رقم سے واٹر ٹینکروں کی مرمت کا کام کرایا گیا تھا۔

حکام نے اس ضمن میں ہم نیوز کو بتایا کہ جنوری 2019 میں متعلقہ کھاتے کی رقم ختم ہوگئی تھی جس کے بعد متعدد مرتبہ فنڈز فراہم کرنے کے لیے درخواستیں دی گئیں اور تقاضہ کیا گیا مگر تاحال کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز