‘ہمیں اپنے چینی شوہروں کے ساتھ جانے دیا جائے’

May 17, 2019
اوبر اور کریم کے قواعد و ضوابط بنانے کا حکم

فوٹو: فائل

لاہور: چینی مردوں کے ساتھ پاکستانی لڑکیوں کی شادیوں کا اسکینڈل ابھی تک پاکستانی میڈیا پر چھایا ہوا ہے۔ کہیں ان شادیوں کا مقصد چین لے جا کر لڑکیوں سے جسم فروشی بتایا جا رہا ہے تو کہیں ان کے اعضاء فروخت کرنے کا تذکرہ جاری ہے۔

تاہم آج اس تمام قصے کا ایک اور رخ اس وقت سامنے آیا جب دو پاکستانی خواتین نے لاہور ہائیکورٹ کے دروازے پر دستک دیتے ہوئے یہ فریاد کی کہ ہمیں اپنے چینی شوہروں کے ساتھ جانے کی اجازت دی جائے۔

دونوں لڑکیوں کا کہنا ہے کہ انہیں 7 مئی کو اس وقت جہاز سے آف لوڈ کر دیا گیا جب وہ اپنے شوہروں کے ساتھ چین روانہ ہو رہی تھیں۔

درخواست گزاروں نے موقف اختیار کیاہے کہ وہ اپنے چینی شوہروں کے ہمراہ خوش ہیں اور چین کے شہریوں  کے خلاف پراپیگنڈا جھوٹا ہے، اپنے شوہروں کے ساتھ چین نہ جانے دینا آئین کے آرٹیکل 4 اور 25 کی خلاف ورزی ہے۔

درخواست گزاروں کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کی  ایک موکلہ نے لی یانگ چینگ نامی چینی شہری سے 25 جنوری  جبکہ دوسری موکلہ  نےچینی شہری زو شو فینگ سے مسیحی قوانین کے تحت 18 جنوری کو شادی کی۔ وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے7 مئی کو چین جانے والے جہاز سے چینی شوہروں کے ہمراہ انہیں آف لوڈ کر دیا۔

وکیل نے کہا کہ ایف آئی اے حکام نے کئی گھنٹے ہوائی اڈے پر انہیں غیر قانونی حراست میں رکھا، چینی شوہروں کے ساتھ جانے سے روکا اور شوہروں کو بیویوں کے بغیر  زبردستی چین بھجوا دیا گیا۔

وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ایف آئی اے حکام نے پاسپورٹ اور دیگر دستاویزات قبضہ میں لے رکھی ہیں۔ پاک چین دوستی کو بدنام کرنے کے لیے سوشل میڈیا پر پاک چین باشندوں کی آپسی شادیوں کے خلاف مہم چلائی چلائی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے:شادی اسکینڈل: چینی ملزمان کی  ضمانت کی درخواستیں خارج

درخواست گزاروں نے لاہور ہائیکورٹ سے استدعا کی ہے کہ ایف آئی اے کو انہیں اور انکے چینی شوہروں کو غیر قانونی ہراساں کرنے سے روکا جائے اورپاسپورٹ اور دیگر دستاویزات واپس کرنے کا حکم بھی  دیا جائے۔

جسٹس سردار نعیم احمد نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست میں وزارت خارجہ، چیف سیکرٹری پنجاب اور ڈائریکٹر ایف آئی اے کو فریق بنایا گیا تھا۔

عدالت  نے چینی باشندوں سے شادی کرنے والی مسلمان اور مسیحی لڑکیوں کے تحفظ کے لئے دائر درخواست  کی سماعت  کے بعد  پنجاب حکومت سمیت دیگر فریقین سے 29 مئی کو جواب طلب کر لیا ہے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز