امریکی صدر کی پیش کردہ نئی امیگریشن اصلاحات کو ڈیموکریٹس نے مسترد کردیا

ایران کے ساتھ جنگ کی نوبت نہیں آئے گی، ٹرمپ کو امید

فوٹو: فائل

امریکی صدر ٹرمپ کی پیش کردہ نئی امیگریشن اصلاحات کو ڈیموکریٹس نے مسترد کردیا ہے، صدرٹرمپ کی جانب سے مجوزہ اصلاحات میں تجویز دی گئی ہے کہ امریکہ میں اب امیگریشن کے لیے کینیڈا کی طرح پوائنٹس بیسڈ سسٹم متعارف کرایا جائے گا۔

امریکی خبر رساں ادارے وائس آف امریکہ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کے روز نئے امریکی امیگریشن نظام کا اعلان کیا جس کی بنیاد بہتر جانچ پڑتال پر مشتمل ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ یہ ’’اچھا، جدید اور قانونی‘‘ نظام ہے۔

ادھر دونوں امریکی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے اہم قانون سازوں کی رائے میں مجوزہ نظام کی کانگریس سے منظوری کا حصول مشکل نظر آتا ہے۔

ٹرمپ نے مجوزہ امیگریشن نظام کا اعلان جمعرات کی شام وائٹ ہاؤس کے ’روز گارڈن‘ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

امریکی صدر کی طرف سے کہا گیاہے کہ اب میرٹ اورپیشہ وارانہ مہارت کی بنیاد پر دوسرے ملکوں کے شہریوں کو امیگریشن دی جائےگی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ڈیموکریٹس نے ان اصلاحات کی  مخالفت کی توآئندہ سال ریپبلکن ایوان سے بل منظور کرالیں گے۔

امریکی صدر نے کہا کہ اس منصوبےکےتحت گرین کارڈز کی تعداد گزشتہ سالوں کے برابر ہی رکھی جائے گی ۔ نیا امیگریشن سسٹم دنیا میں ہمیں قابل فخر بنائےگا۔

صدر ٹرمپ نے نئی امیگریشن پالیسی میں موقف اختیار کیاہے کہ  امریکہ مکمل طور پر بھر چکا ہے ۔ غیرقانونی تارکین وطن اور پناہ گزینوں کے رہنے کے لیے کوئی جگہ باقی نہیں بچی۔

ایوان نمائندگان میں  ڈیموکریٹ اسپیکرنینسی پلوسی نے امریکی صدر ٹرمپ کی نئی  امیگریشن پالیسی پر سخت تنقید کی ہے ۔ نینسی پلوسی نے کہاہے کہ ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی میرٹ پرنہیں بلکہ اپنی ذاتی پسند ہے۔

نینسی پلوسی نے سوال اٹھایاہے کہ کیا خاندانوں کو ایک دوسرے سے جدا کرنا میرٹ ہے؟

یہ بھی پڑھیے:امریکہ کی پاکستانیوں کے لیے ویزا مدت میں کمی

نینسی پلوسی نے کہا کہ وائٹ ہاؤس نے بدترین اور ناکام امیگریشن منصوبوں کونیاچہرہ دیا ہے۔

یاد رہے رواں برس مارچ کے اوائل میں  امریکہ نے پاکستانیوں کے لیے ویزا مدت میں کمی کا اعلان بھی کیا تھا۔

ترجمان امریکی سفارتخانے کے مطابق ویزا مدت پانچ سال سے کم کر کے تین ماہ کر دی گئی ہے جب کہ امریکہ پاکستانی صحافیوں کو بھی تین ماہ کا ویزا جاری کرے گا۔

امریکی سفارتخانے نے آگاہ کیا کہ سرکاری حکام کو ویزہ کام کی مدت کو مدنظر رکھ کر جاری کیا جائے گا جب کہ امریکہ نے ویزے کی فیس میں 160 ڈالرز سے بڑھا کر 192 ڈالرز کر دی گئی ہے۔

ترجمان کے مطابق امریکہ نے ویزہ پالیسی اور فیس میں تبدیلی پاکستان کے اقدام کی وجہ سے کی ہے کیونکہ پاکستان اس سے پہلے امریکی شہریوں کے لیے ویزہ مدت میں کمی جیسے اقدامات کر چکا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال مئی میں امریکہ کی جانب سے پاکستانی سفارتکاروں کی نقل و حرکت محدود کر دی تھی اور اُن کے اپنے تعینات کردہ مقام سے 40 کلو میٹر کی حدود میں رہنے کی ہدایت کی تھی۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز