محکمہ اسکول ایجوکیشن پنجاب انتظامی اور معاشی بحران کا شکار

پنجاب: محکمہ اسکولز ایجوکیشن کوڈیجیٹل کردیا گیا

فائل فوٹو

لاہور پنجاب کے محکمہ اسکول ایجوکیشن کو فنڈز کی شدید کمی کا سامنا ہے، ریٹائرڈ اساتذہ کو کئی سالوں سے پنشن نہ ملنے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔ اسکولوں میں اضافی کلاس رومز کی تعیمر کیلئے برطانوی این جی او سے مدد لینے کا فیصلہ کیا گیاہے۔
محکمہ اسکول ایجو کیشن پنجاب کے ایک مراسلے نے انتطامی  اور معاشی بحران کا پول کھول دیا ہے ۔  اساتذہ اور دیگر عملے کے گریجویٹی ، پنشن اور لیو اینکیشمنٹ کے متعدد کیسز زیر التوا ہیں۔

اسکول ایجوکیشن پنجاب کے مراسلے میں انکشاف ہوا ہے کہ متعدد ریٹائرڈ اساتذہ کو چار سالوں سے پنشن ہی  نہیں ملی اور نہ ہی  کئی ٹیچرز اور نان ٹیچنگ اسٹاف کو الاؤنسز کی ادائیگیاں کی جا سکی ہیں۔

محکمے کی جانب سے زیر التواء کیسز کی فہرست طلب کر لی گئی ہے جبکہ سی ای اوز کو سابق اور موجودہ اسٹاف کو بقایا جات کی ہدایت کر دی گئی ہے۔

فنڈز نہ ہونے پر سرکاری اسکولوں میں اضافی کمرے بنانے کا منصوبہ بھی شروع نہیں کیا جا سکا۔  اب کمرے بنانے کے لئے برطانوی تنظیم ڈیپارٹمنٹ آف انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ کی مدد لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
پنجاب کے بارہ اضلاع کے اسکولوں میں کلاس رومز کی تعمیر کے لئے دو ہزار بیس کی ڈیڈ لائن رکھی گئی ہے۔  ہر ڈسٹرکٹ کے 80 اسکولوں میں کمرے بنانے کا پلان مرتب کیا گیاہے ۔

دوسری جانب ایک سال بعد بھی اتھارٹیز مسجد مکتب سکولوں کو پرائمری اسکولوں میں تبدیل نہیں کرسکی ہیں۔معاملے کے لیے صوبے کی ایجوکیشن اتھارٹیز میں پانچ پانچ رکنی کمیٹی بنائی گئی تھی،کمیٹی کا چیرمین اتھارٹی کے سربراہ کو مقرر کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے:پنجاب: محکمہ اسکولز ایجوکیشن کو ڈیجیٹل کر دیا گیا

ذرائع نے ہم نیوز کو بتایا ہے کہ ایک سال گزرنے کے بعد بھِی تمام اتھارٹیز ہدایات پر عملدآمد کرنے میں ناکام نظر آرہی ہیں ۔  محکمہ اسکول ایجوکشن نے تمام اتھارٹیز سے جواب طلب کرلیا ہے۔

جواب طلبی کے لیے لکھے گئے مراسلے میں کہا گیاہے کہ  اس وقت صوبے بھر میں سینکڑوں مسجد مکتب سکول ہونے کی کیا وجہ ہے؟  ایک ہفتے کے اندر اندر جواب جمع کرویا جائے۔

مسجد مکتب اسکولوں کو مساجد یا اس سے ملحقہ جگہ پر قائم گیا تھا،اور ان اسکولوں میں پنجاب حکومت کی طرف سے قاری اور اسلامیات کے ٹیچرز کو نوکریاں بھی  دی گئی تھیں۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز