آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا

زرداری اپنی سیاست کے آخری دن گننے پر توجہ دیں، فواد چوہدری | humnews.pk

فائل فوٹو

پہلے وزارت اطلاعات و نشریات اور اب وزارت سائنس و ٹیکنالوجی۔ وزارت اطلاعات و نشریات کے وزیر رہتے ہوئے فواد چوہدری نے اپوزیشن کے خلاف الفاظ کے تیر برسانے کے ساتھ ساتھ بیوروکریسی کو بھی خوب ٹف ٹائم دیا۔

سابق ایم ڈی پی ٹی وی ارشد خان اور فواد چوہدری کے درمیان اختیارات کی جنگ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ فواد چوہدری کے مطابق انہوں نے اپنی سابقہ وزارت میں بھی کارکردگی میں کمی نہیں آنے دی اور بطور وزیر سائنس و ٹیکنالوجی بھی خوب محنت کر رہے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ اگر اطلاعات و نشریات میں ان کی کارکردگی بہترین تھی تو وزیر اعظم نے ان سے وزارت واپس کیوں لی؟ اور وزارت لی تو انہیں سائنس و ٹیکنالوجی ہی کی وزارت دینا ہی کیوں ضروری تھا؟

اس معاملے پر ہر ایک نے اپنا الگ الگ تجزیہ اور وجوحات بیان کیں ہیں لیکن لگتا ایسا ہی ہے کہ فواد چوہدری پر ایک کڑا امتحان آگیا ہے کیونکہ جس طرح سے انہیں سوشل میڈیا پر مسلسل تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اسی طرح سے اپنی نئی وزارت میں بھی کئی آزمائشوں سے گزرنا پڑ رہا ہے۔

اس کا اندازہ مجھے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی میں ہوا جہاں پروموشن اور ملازمت سے برطرفی کے صرف تین کیسز میں اتنے انکشافات سامنے آئے کہ وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کی کارکردگی کا کچا چٹھا کھول دیا۔

زرا غور کیجئے گا کہ کنوینیئر سینیٹر ڈاکٹر سکندر منرو کی زیر صدارت اجلاس میں کتنے چھوٹے ایجنڈوں پر کتنا بڑا معاملہ کھل کر سامنے آیا جسے خود کمیٹی بھی سمیٹنے ہوئے مشکل میں پڑ گئی۔ اجلاس میں وزارت سائنس کے ڈائریکٹر امپورٹ ایکسپورٹ اینڈ فنانس نذیر حسین، میڈیا ایڈوائزر چوہدری رحمت اللہ کی ترقیوں اور لال محمد راجڑ نامی ایک سابق ایگزیمنر کی نوکری سے برطرفی کا معاملہ زیر بحث آیا۔

اس کمیٹی میں پہلا انکشاف یہ سامنے آیا کہ جب ادارے کے میڈیا ایڈوائزر نے کہا کہ اسے ذاتی مخالفت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اس کی سروس کے دوران ادارے کے اعلیٰ حکام نے اس کا 14 بار تبادلہ کر کے اسے ذہنی اذیت دی ہوئی ہے۔ اسے ایسے محکموں میں بھیجا جاتا ہے جن کے لیے کبھی کوئی تربیت لی نا اس کے لیے موضوع ہے۔ اس پر وزارت سائنس و ٹیکنالوجی نے یہ جواب دیا کہ انہیں جو پوسٹ دی گئی یہ اس کے بھی اہل نہیں ہیں گزشتہ حکومتوں نے اس وزارت میں متعدد عہدے ایسے بانٹے جن کی وزارت کو یا ضرورت نہیں تھی یا وہ اس کے اہل ہی نہیں تھے۔

ایجنڈوں پر بحث چلتی رہی اور کمیٹی معاملات کو سلجھانے کے لیے بار بار سیکریٹری سائنس و ٹیکنالوجی کیپٹن ریٹائرڈ نسیم نواز کو ہدایت کرتی رہی مگر سیکریٹری سائنس و ٹیکنالوجی نے کوئی ایسا اقدام اٹھانے سے انکار کر دیا جو ان افسران کے حق میں اور ادارے کے زرا برابر بھی خلاف جا رہے تھے۔

کبھی عدالتی احکامات اور کبھی قائدہ قانون کو لے کر سیکریٹری صاحب سکندر منرو کو قائل کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ جب کوئی راستہ نکلتا ہوا نظر نا آیا تو کنوینیئر نے اپنے سامنے رکھی ہوئی فائل بند کر کے ان فائلوں میں رکھی جو اپنے بائیں جانب مائیک کے ساتھ ان کے ٹیبل پر پڑی تھی اور اپنے چشمے کو ایک بار اتار کر پھر لگایا اور کہا کہ ادارے میں ذاتی مخالفتوں کا معاملہ صاف نظر آرہا ہے۔ترقیوں، تقرریوں اور مستقلیوں میں دشمنیاں نہیں ہونی چاہیے۔ ادارے ایسے نہیں چلتے جیسے اتنی اتنی بڑی وزارت میں چلائے جا رہے ہیں۔ ہمیں اپنے مفاد کے بجائے اس ملک کے مفاد میں سوچنا ہوگا تب ہی اس ملک کی ترقی ہو سکے گی۔ وزارت سائنس و ٹیکنالوجی دیگر وزارتوں سے مختلف اور اہم وزارت ہے۔

کنوینیئر بولے تو سیکریٹری سائنس و ٹیکنالوجی جیسے پہلے سے ہی اپنے دل میں وزارت کے بہت سارے دکھوں کو دبائے بیٹھے تھے۔ کہنے لگے کہ مجھے اس ادارے میں آئے ایک ماہ کا عرصہ ہوا ہے جب سے آیا ہو انکوائریوں کی فائلیں اور ذاتی پسند و ناپسند کی شکایتیں ہی سن رہا ہوں۔ انکوائریاں سینکڑوں اور اداروں کی کارکردگی زیرو ہے۔ اداروں کے ساتھ بہت بڑی زیادتی ہو رہی ہے۔۔ پاکستان کا بڑا اور اہم ادارہ ہے مگر اس میں تخلیق کے بجائے ایک دوسرے کی تضحیک پر زور لگایا جاتا ہے۔ اداروں کی انکوائریاں نا مکمل ہوتی ہیں جو مکمل کر دی جاتیں ہیں ان کے نتائج  جان بوجھ کر غلط سامنے لائے جاتے ہیں۔۔یہاں تک دشمنیاں اس حد تک ہیں کہ نوکریاں داؤ پر لگا دی جاتی ہیں۔۔ اس وزارت میں بہت گڑ بڑ ہے اور وزیر سائنس وٹیکنالوجی نے اسی وجہ سے 8 لوگوں کا ایک ہی دن میں تبادلہ کیا ہے۔

صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ ادارے کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا معاملہ بھی سامنے آیا۔۔ جس پر کنوینیئر نے  نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ادارے میں آپ ایک دوسرے سے جلتے رہیں گے تو کام کیسے ہوگا۔ کمیٹی میں آنے والے سیکریٹری سائنس و ٹیکنالوجی نے اشارتا یہ بات بھی واضح کر دی کہ بیوروکریسی اب محتاط ہو گئی ہے۔ اس ادارے میں ہو روز ایک نیا کیس سامنے آتا ہے۔ کئی اعلی افسران نے بگڑے ہوئے پرانے محکمانہ اقدامات پر مزید احکامات کو ماننے سے انکار کر دیا ہے۔

کئی کیسز میں عمل درآمد اس لیے روک دیا گیا ہے کیونکہ ان افسران نے صاف الفاط میں یہ کہا ہے کہ وہ نیب کی پیشیاں نہیں بھگتنا چاہتے۔ اس پر کنوینیئر نے کہا کہ افسوس ہے جب یہ غیر قانونی اقدامات اٹھائے جا رہے تھے تب کوئی اس سسٹم کے خلاف نہیں اٹھا اب جب سب بگڑ گیا تو کوئی سلجھانے کو تیار نہیں۔ اگر آپ اس وزارت کی بہتری کے لیے کوئی اقدام اٹھانے سے ڈرتے ہیں تو متعلقہ تحقیقاتی اداروں سے رجوع کریں تاکہ سائنس و ٹیکنالوجی کی حالت میں بہتری لائی جا سکے۔اگر کوئی غلط اقدام اٹھایا گیا تو اسی وقت وزارت کو ایکشن لینا چاہیے تھا۔

کمیٹی نے سفارش کی کہ اس نوعیت کے معاملات کو نیب یا اینٹی کرپشن کے سپرد کر کے رپورٹ کمیٹی میں جمع کرائی جائے۔ اس کمیٹی میں ایجنڈہ تو اتنا خاص نوعیت کا نہیں تھا مگر ایسا محسوس ہوا کہ وزیر سائنس و ٹیکنالوجی کے ساتھ وہ سلوک کیا گیا جو اکثر ایک طالب علم کے ساتھ اس کے والدین کرتے ہیں جس کی خواہش اپنی مرضی کے شعبے میں تعلیم حاصل کرنے کی ہوتی ہے مگر والدین اسے زبردستی اس شعبے میں بھیج دیتے ہیں جہاں انہیں مناسب لگتا ہو۔

ایسی صورتحال میں اکثر والدین کو اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کرنا پڑتی ہے مگر اس وقت تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ طالب علم کی کارکردگی اتنی مایوس کن ہوتی ہے کہ یا تو اسے تعلیمی سلسلہ چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے یا والدین کو آخر کار اپنی اولاد کی ہی مرضی سننا پڑتی ہے مگر اس وقت تک بہت دیر ہو چکی ہوتی۔ ایسی ہی صورتحال اب فواد چوہدری کو ملنے والی وزارت میں دکھائی دے رہی ہے۔

جہاں سوشل میڈیا پر اپنی اہم وزارت کو لیکر انہیں روزانہ نئے نئے لطیفوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ وہیں ان کے لیے سائنس و ٹیکنالوجی میں جاری سیاست، عہدوں کی بندربانٹ کے لیے دھکم پیل اور ذاتی دشمنیوں کے وار کرنے میں ہمہ وقت تیار بیوروکریسی کی سازشوں کا بھی سامنا ہے۔

وزارت میں بہتری کے لیے یہ فواد چوہدری کے لیے ٹاسک ہے یا وہ سزا جو انہیں اپنی سابقہ وزارت کے بدلے میں کیے گئے مبینہ اقدامات پر دی گئی۔ یہ تو وقت آنے پر ہی سامنے آئے گا لیکن ابھی صرف اسی محاورے پر اتفاق کیا جا سکتا ہے کہ ’آسمان سے گرا اور کھجور میں اٹکا‘

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز