‘ سینئر زرداری جونیئر زرداری کو استعمال کر رہا ہے‘


اسلام آباد: سینئر صحافی اور تجزیہ کار عامر ضیاء نے کہا ہے کہ سینئر زرداری جونیئر زرداری کو مبینہ کرپشن چھپانے کے لیے استعمال کر رہا ہے جو مستقبل میں پیپلزپارٹی کیلیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔

ہم نیوز کے پروگرام’نیوزلائن‘ میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے عامر ضیاء کا کہنا تھا کہ سابق صدر جنرل (ر) مشرف ایک بہتر بیلنس شیٹ چھوڑ کر گئے تھے لیکن سابقہ دو حکومتوں نے جو کچھ کیا اس کے بعد موجودہ حالات آنے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ معاشی بحران زلزلے کی طرح نہیں آتا یہ کئی سال کی ناکام پالیسیوں کا نتیجہ ہوتا ہے۔ عامر ضیا نے سوال اٹھایا کہ اگر اب بھی بدعنوان لوگوں کا احتساب نہ ہوا تو پھر ملک کا کیا ہوگا؟ انہوں نے کہا کہ ہر بار بڑا جانور جال کو توڑ کر نکل جاتا ہے اور چھوٹے پھنس جاتے ہیں۔

ڈالر کی قیمت پر بات کرتے ہوئے عامر ضیا نے کہا کہ پی پی اور ن لیگ اس معاملے میں سیاست کررہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کرنسی ریٹ کچھ عرصہ تک بحال ہوجائیں گے۔

عامر ضیا نے کہا کہ ن لیگ کی حکومت اس ملک کو ایک پنجرے میں چھوڑ کر گئی ہے۔ نو ماہ میں حکومت کسی سمت کا تعین نہیں کرسکی جو اس کی ناکامی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر حکومت کو ’ہنی مون پیریڈ‘ ملتا ہے لیکن اس کو نہیں ملا۔

ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف پیکج کا اثر یقینی طور پر عوام پر پڑے گا اس صورتحال میں کوئی بھی حکومت ہوتی وہ بھی آئی ایم ایف کے پاس جاتی۔

ماہر معاشیات ڈاکٹرفرخ سلیم نے کہا کہ اس وقت ملکی معیشت کا پہیہ رکتا ہوا نظر آرہا ہے۔ گزشتہ 10 سال اور نو ماہ کے دوران ملکی تاریخ میں سب سے زیادہ نقصان ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے آئی ایم ایف کے ساتھ جن شرائط پر معاہدہ کیا ہے ان میں سے 90 فیصد پر ماضی میں عمل نہیں ہوسکا۔ انہوں نے خدشے کا اظہار کیا کہ اس بار بھی حکومت ان شرائط پر عمل نہیں کر پائے گی۔

ڈاکٹر فرخ سلیم  نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے پر تاحال دستخط نہیں ہوئے اور اس سے پہلے مزید مہنگائی ہوگی۔ پی ٹی آئی نے اپنی معاشی ناکامی کا اعتراف کرلیا ہے کیوں کہ حکومت نے اپنی ٹیم تبدیل کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کوئی شک نہیں ن لیگ قرضہ چھوڑ کر گئی تھی لیکن پی ٹی آئی ن لیگ کی نسبت دگنی رفتار سے قرض لے رہی ہے۔

ماہر معاشیات نے کہا کہ حکومت 9 ماہ میں اصلاحات نہیں لاسکی، کوئی بھی قدم درست سمت میں نہیں اٹھایا گیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملک میں احتسابی عمل جاری رہنا چاہیے لیکن کاروباری افراد کو ہراساں نہ کیا جائے۔

مشیر خزانہ پنجاب ڈاکٹر سلمان شاہ نے کہا کہ اسٹاک مارکیٹ میں مثبت رحجان نظر آنا چاہیے لیکن ایسا نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی صورتحال اتنی ابتر نہیں ہے جتنا ماہرین اسے پیش کر رہے ہیں، جتنے خسارے کا سامنا ہے اسے پورا کرنا مشکل ہے لیکن ناممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خسارہ ٹیکسز سے پورا کیا جاسکتا ہے لیکن حکومت کو گردشی قرضے پر نظر رکھنی پڑے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو 28 ارب ڈالر کا خسارہ اور 90 فیصد مسائل وراثت میں ملے ہیں۔ حکومت نے دوستوں سے قرض لے کر اچھا کام کیا لیکن آئی ایم ایف کے پاس جانے میں تاخیر کر کے غلطی کی۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو مسائل کا سامنا ہے لیکن بے شمار مواقع بھی ہیں، ہمیں اچھا گمان کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا اگر اسپتال جاتے ہیں تو کڑوی گولیاں بھی کھانی پڑتی ہیں۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز