اپوزیشن کاروباری اور ذاتی مفادات کے لیے اکٹھی ہوئی ہے، فردوس عاشق اعوان

اسلام آباد: وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں عوامی مسائل کے لیے نہیں بلکہ اپنے لیے اکٹھی ہورہی ہیں، ان کا ایجنڈا سیاسی، کاروباری اور ذاتی مفادات بچانا ہے۔

پروگرام ایجنڈا پاکستان میں میزبان عامر ضیاء سے گفتگو کرتے ہوئے فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ حکومت اپوزیشن کے اکٹھا ہونے سے پریشان نہیں ہے بلکہ ان مسائل کی حل میں مصروف ہے جو یہ سابقہ حکومتوں میں چھوڑ کر گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن اگر اپنی کرپشن پر پردہ ڈلوانے کے لیے دباو ڈالنا چاہتی ہے تو اس معاملے میں دباو نہیں لیں گے۔ اگر اپوزیشن جماعتیں معاشی مسائل کے حل کے لیے معاونت کریں گی تو حکومت ان کی بات سنے گی۔

فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ مسلم لیگ ن، پیپلزپارٹی اور جمعیت علمائے اسلام کی قیادت اقتدار سے دوری کے غم میں مبتلا ہے۔ پہلی دفعہ مولانا فضل الرحمان حکومت کا حصہ نہیں بن سکے ہیں اور اس کا انہیں بہت افسوس ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اصل میں یہ تینوں جماعتیں اندرسے ایک ہیں اور اپنے مفادات کے لیے اکٹھے ہیں، یہ بات عمران خان شروع سے کہتےہیں جو آج بھی سچ ثابت ہوئی ہے۔

فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ معاشرے میں جو چور ہوتا ہے اسے ولی اللہ یا امام مسجد نہیں کہا جاسکتا، عدالتوں سے کسی کو کرپشن پر سزا ہوچکی ہے تو اسے وہی کہا جائے گا جو وہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مریم نواز اور بلاول بھٹو دونوں ہی ہوائی فائرنگ کرنے والے کارتوس ہیں، ان دونوں سے ہمیں کوئی پریشانی نہیں ہے۔

مشیر اطلاعات نے کہا کہ پیپلزپارٹی اقتدار سے باہر ہونے پر برہم ہے، ماضی میں یہ ن لیگ اور ن لیگ ان کے مفادات کا تحفظ کرتی رہی ہے اور اب عمران خان کے آنے سے ان کے مل کر چلنے کا کھیل ختم ہوگیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو بے نظیر کی تصویر ہے، میری خواہش ہے کہ وہ اپنی والدہ کے نقش قدم پر چلیں۔ ابھی ان کی شکل میں والدہ کی جھلک نظر آرہی ہے لیکن عمل میں نہیں۔

مریم نواز کے نائب صدر بننے کے خلاف الیکشن کمیشن سے رجوع سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ مریم نواز یا دیگر پارٹی رہنماوں کو آگے لانا مسلم لیگ ن کا اندرونی معاملہ ہے، مریم کے حوالے سے ہمارے صرف یہ تحفظات ہیں کہ ایک عدالتی فیصلے کی خلاف ورزی ہورہی ہے اور اس پر ہم نے الیکشن کمیشن سے رجوع کیا ہےکہ اس کی رائے کیا ہے۔

فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ اگر عمران خان اپنی ٹیم سے مطئمن ہوتے تو وہ اپنی ٹیم تبدیل نہ کرتے۔عمران خان چاہتے ہیں کہ ہر وزیر اپنی کارکردگی دکھائے لیکن اگر کوئی نہیں دکھاتا تو وہ اسے تبدیل کردیتے ہیں وہ اس معاملے میں دوستی یا ذاتی تعلق کو اہمیت نہیں دیتے۔ کابینہ میں وہی رہے گا جو کام کرے گا۔

ایک سوال کے جواب میں رہنما تحریک انصاف نے کہا کہ ہر شخص کو اہلیت کی بنیاد پر ذمہ داری دی گئی ہے، اٹھارہ سال سے سیاست میں ہونے کے باعث عوامی نبض جانتی ہوں۔ دنیا بھر میں کابینہ میں منتخب اور غیر منتخب افراد دونوں ہی شامل ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ہم عوام کا مقدمہ لڑ رہے ہیں،فردوس عاشق اعوان

فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ نیب ایک ریاستی ادارہ ہے جس نے ملک میں کرپشن کے خاتمے کے لیے کام کرنا ہے،نیب کی مضبوطی پاکستان کی مضبوطی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر چیئرمین نیب کو کوئی مشکلات ہیں یا اب پر کہیں سے دباو ڈالاجا رہا ہے تو وہ حکومت سے بات کریں۔

مشیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ حکومت اور نیب کے گٹھ جوڑ کی اپوزیشن کی بات غلط ثابت ہوگئی ہے، یہ تاثر ختم ہوگیا ہے کہ نیب حکومت کے تابع ہے۔

فردوس عاشق اعوان نے چیئرمین نیب کی جانب سے فنڈز کی کمی کی شکایت کے حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں معاشی مسائل کے باعث کئی اداروں کے فنڈز میں کمی ہوئی ہے اگر نیب بھی اس کی زد میں آیا ہے تو وزارت خزانہ کو اس معاملے پر توجہ دینی چاہیے۔ نیب کے جائز مطالبات کو پورا کیا جانا چاہیے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز