جعلی انسان کو وزیراعظم نہیں مانتی، مریم نواز

احتساب عدالت نے مریم نواز کی طلبی کے لیے سمن بھجوادیا

اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف کی صاحبزادی اور پی ایم ایل کی نائب صدر مریم نواز نے حکومت اور حکومتی اقدامات پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ جعلی انسان کو وزیراعظم نہیں مانتی ہوں۔ انہوں نے سخت برہمی کے انداز میں کہا کہ وہ وزیراعظم کے عہدے کی توہین ہیں۔

ہم نیوز کے مطابق انہوں نے یہ بات پاکستان مسلم لیگ (ن) میں نائب صدر کا منصب ملنے کے بعد پہلی مرتبہ پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقدہ اعلیٰ سطحی مشاورتی اجلاس میں شرکت کے بعد ذرائع ابلاغ سے مختصر بات چیت کرتے ہوئے کہی۔

مریم نواز نے دعویٰ کیا کہ نواز شریف اور شہباز شریف کا بیانیہ ایک ہی ہے اور ہمارا بیانیہ وہی ہے کہ ووٹ کو عزت دو۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کا بیانیہ پاکستان کے اچھے مستقبل کی ضمانت ہے اور آئین سے متصادم نہیں ہے۔

ہم نیوز کے مطابق ذرائع ابلاغ سے بات چیت میں انہوں نے کہا کہ ہم لوگ جعلی مقدمات اوراحتساب بھگت کے یہاں پہنچے ہیں۔ انہوں نے نام لیے بغیر کہا کہ ہم وہ نہیں ہیں جو اشتہاری ہوں، کورٹ میں پیش بھی ہوں لیکن کچھ نہ ہو۔

پی ایم ایل (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا کہ موجودہ حکومت ووٹ کی عزت کو پاؤں سے روند کر آئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فری اینڈ فیئر الیکشن سے عوام کی ترجمان حکومت آئے گی تو مسائل حل ہوں گے۔

ہم نیوز کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) میں نائب صدارت کا منصب سنبھالنے والی مریم نواز نے دعویٰ کیا کہ انشا اللہ آپ کو پاکستان مسلم لیگ (ن) میں جان نظر آئے گی۔

پارلیمنٹ ہاؤس میں قائد حزب اختلاف کے چیمبر میں بلائے گئے اعلیٰ سطحی مشاورتی اجلاس میں شرکت کے لیے جب پیر کی صبح وہ پہنچیں تو انہوں نے ذرائع ابلاغ سے مختصر بات چیت میں کہا کہ عمران خان کے پاس جھوٹ بولنے کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمان کی بالادستی دراصل عوام کی بالادستی ہے اورملک انہی اصولوں پر آگے چلے گا۔

پارٹی منصب ملنے کے بعد پہلی مرتبہ پارٹی اجلاس میں شرکت کے لیے پارلیمنٹ ہاؤس پہنچنے پران کا کہنا تھا کہ حکومت کو نہ اپوزیشن کی ضرورت ہے اور نہ اسے دشمن درکار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت مخالف کسی تحریک کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اس سے پہلے کہ کوئی اسے گرائے، یہ خود ہی گرجائے گی۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی جانب سے قائد حزب اختلا ف کے چیمبر میں بلائے گئے اعلیٰ سطحی مشاورتی اجلاس کی صدارت بزرگ سیاستدان راجہ ظفرالحق اورسابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے مشترکہ طور پرکی۔

اجلاس میں پارٹی کے نائب صدراور پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز شریف سمیت دیگر مرکزی اور صوبائی قائدین نے شرکت کی۔

پی ایم ایل (ن) کی حالیہ تنظیم نو کے بعد اپنی نوعیت کے سب سے بڑے مشاورتی اجلاس میں ملک کی معاشی صورتحال، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ڈالر کی اونچی اڑان، پاکستانی روپے کی بے قدری سمیت ملک کے سیاسی حالات پر غور و خوص کیا گیا۔

پی ایم ایل (ن) کے ذمہ دار ذرائع کے مطابق اجلاس میں حکومت مخالف احتجاج کی حکمت عملی پر مشاورت کی گئی۔ اجلاس میں پارٹی رہنماؤں نے بھی احتجاج کے حوالے سے تجاویزپیش کیں اور اپنی آرا سے قیادت کو آگاہ کیا۔

ہم نیوز کو ذرائع نے بتایا کہ شرکائے اجلاس کو گزشتہ روز حزب اختلاف کے رہنماؤں سے ہونے والی ملاقات کی بابت بھی بتایا گیا۔

ہم نیوز کے مطابق پارٹی کے اعلیٰ سطحی مشاورتی اجلاس کے بعد مریم نواز مری روانہ ہوگئیں۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف نے گزشتہ دنوں جب پارٹی کو ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، ابتر معاشی صورتحال، ڈالر کی اونچی اڑان اور دیگر امور کے حوالے سے حکومت کے خلاف احتجاج کرنے کی اجازت دی تھی تو اسی وقت سیاسی مبصرین کی غالب اکثریت نے یہ خیال ظاہر کیا تھا کہ اب پی ایم ایل (ن) اپنے مرکزی صدر میاں شہبازشریف کی ’مفاہمانہ‘ پالیسی سے دستبرداری کرکے ’جارحانہ‘ پالیسی اپنائے گی۔

سیاسی مبصرین نے اس امر کا بھی اظہار کیا تھا کہ اب سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز سیاسی میدان میں زیادہ متحرک نظر آئیں گی اور وہ ’خاموش‘ رہنے والی سیاسی حکمت عملی ترک کردیں گی۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے دی جانے والی افطار پارٹی میں بھی مریم نواز  نے بھرپورشرکت کرکے سیاسی کابرین کو اپنی موجودگی کا احساس دلایا تھا۔

 

متعلقہ خبریں