’گزشتہ پیشی پر زرداری نے نیب افسران کو دھمکیاں دیں‘

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب بیرسٹر شہزاد اکبر نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ پیشی پر سابق صدر آصف علی زرداری نیب افسران کو دھمکیاں دے کرگئے ہیں۔

پروگرام بڑی بات میں میزبان عادل شاہ زیب سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم کے معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ زرداری نے خود ہی اپنی گرفتاری کا ماحول پیدا کررکھا ہے کیونکہ وہ بار بار ضمانت لے رہے ہیں اور جب بھی ضمانت منسوخ ہوگی نیب ان کو گرفتار کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں احتساب کا عمل بالکل بھی یک طرفہ نہیں، حکومتی اراکین جیل جا بھی چکے اور واپس بھی آچکے، علیم خان بھی 103 دن جیل میں رہ چکے ہیں۔

شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ آصف زرداری اور سلیمان شہباز پر بھی سنگین الزامات ہیں لیکن وہ تو ایک دن کیلئے بھی جیل نہیں گئے۔

بیرسٹر شہزاد اکبر کا مزید کہنا تھا کہ احتساب بلاتفریق اور درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے، کسی کے ساتھ نہ سودے بازی ہورہی ہے اور نہ ہی حکومت کسی کو ریلیف دے گی۔

بیرسٹر شہزاد اکبر نے ایک اور انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واوڈا کے مبینہ اثاثوں سے متعلق نیب پہلے ہی تحقیقات کررہا ہے اور اگر کسی کے پاس فیصل واوڈا سے متعلق ثبوت ہیں تو وہ ان کو لیکر الیکشن کمیشن چلا جائے اور ان کو ڈی سیٹ کروالے۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ موجودہ نیب چئیرمین کی کارکردگی گزشتہ دس سالوں میں لگائے گئے چئیرمین سے بہتر ہے۔ یہاں سعودی عرب والا نظام لاگو نہیں ہوسکتا کہ ہرچیز راتوں رات ٹھیک ہوجائے۔

شہزاد اکبر کا مزید کہنا تھا کہ ایف اے ٹی ایف کو سامنے رکھتے ہوئے قوانین میں مختلف تبدیلیاں کیں۔ منی لانڈرنگ کو روکنا بہت ضروری ہے اور حکومتی اقدامات کی وجہ سے اس میں کافی کمی بھی آئی ہے۔

’سپریم کورٹ نوازشریف کی ضمانت میں توسیع کردیتی تو مریم نواز بلاول بھٹو کی افطار پارٹی میں نہ جاتیں‘

پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی اور تجزیہ کار حامد میر کا کہنا ہے کہ اگر نواز شریف کی استدا پر سپریم کورٹ ان کی ضمانت میں توسیع کردیتی تو نہ ہی مریم نواز بلاول بھٹو کی افطار میں جاتیں اور نہ ہی حکومت کے خلاف کسی قسم کی تحریک کی باتیں شروع ہوتیں۔

حامد میر کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی اب قیادت بلاول یا مریم نے نہیں فضل الرحمان نے کرنی ہے کیونکہ اپوزیشن خود فضل الرحمان کو اپنا قائد ماننے پر مجبور ہوگئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کافی دنوں سے اسلام آباد کی جانب مارچ کرنے کی تیاری کررہے ہیں اور اب وہ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کو باور کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں کہ جو آپ سودہ بازی کرنا چاہ رہے تھے وہ نہیں کرپائے اب آپ کو مجھ سے ہی سودہ بازی کرنا ہوگی۔

حامد میر کا مزید کہنا تھا کہ اپوزیشن کو اکٹھا کرنے کا کریڈٹ بلاول سے زیادہ آئی ایم ایف کو جاتا ہے اور مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی اپنے خلاف مقدمات سے زیادہ آئی ایم ایف، ڈالر کی قیمتوں میں اضافہ اور بڑھتی مہنگائی کی وجہ سے اکھٹے ہوئے ہیں۔

حامد میر نے انکشاف کیا کہ حکومت کے کچھ لوگوں کے خلاف بھی کیسز پر کام چل رہا ہے اور امکان ہے کہ بہت جلد پرویز خٹک کو بھی دوبارہ طلب کیا جاسکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز