اگلی بار واٹر پارک جانے سے قبل یہ ضرور پڑھ لیں

اگلی بار واٹر پارک جانے سے قبل یہ ضرور پڑھ لیں

فائل فوٹو

موسم گرما شروع ہوتے ہی لوگوں کی بڑی تعداد سوئمنگ پولز اور واٹر پارکس کا رخ کرتی ہے جہاں بچے،  بوڑھے اور جوان، سبھی مستی کرتے نظر آتے ہیں۔

جب بہت سارے لوگ ایک ہی جگہ نہاتے ہیں تو ان کے اجسام سے مختلف قسم کے جراثیم بھی پانی میں شامل ہو جاتے ہیں، یہ جراثیم دوسروں کیلیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ ایسے پانی میں نہانے سے ڈائریا، پیٹ درد یا مروڑ اور جلدی انفیکشن جیسی بیماریاں بھی لاحق ہو سکتی ہیں۔

جراثیم کے ہمراہ تیراکی

سوئمنگ پولز یا واٹرپارکس میں اکثر ہدایات درج ہوتی ہیں کہ نہاتے وقت جوتے پہنیں مگر زیادہ تر لوگ اس ہدایت نامے کو نظر انداز کردیتے ہیں۔ جوتے پہننے سے فٹ فنگس لگنے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔ ہر سال ہزاروں افراد ان واٹر پارکس کا رخ کرتے ہیں جہاں طرح طرح کے جراثیم پانی میں موجود ہوتے ہیں۔ سوئمنگ پولز میں نہانا دراصل جراثیم کے ہمراہ تیراکی کرنے کے مترادف ہے۔

لہروں والے پول زیادہ خطرناک

مصنوعی ڈھلوان سے گرتا پانی اور لہریں پیدا کرنے والے سوئمنگ پولز ہر واٹرپارک میں ہوتے ہیں۔ اس قسم کے واٹر پارکس میں زیادہ احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے کیوں کہ لہریں پیدا کرنے والے سوئمنگ پولز زیادہ خطرناک ہیں۔ 1982 سے 1987 کے دوران نیوجرسی میں تین لوگ لہروں والے پول میں ڈوب کر ہلاک ہو گئے تھے جس کے بعد اسے خطرناک قرار دے دیا گیا۔

پانی سے پھیلنے والی بیماریاں

جس پانی میں لوگوں کی کثیر تعداد تیراکی کرتے ہو وہاں بیماریاں لاحق ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ سوئمنگ پولز میں جراثیم کشی کے لیے کلورین کا استعمال کیا جاتا ہے لیکن پول کی تہہ میں موجود کچھ جراثیم اتنے طاقت ور ہوتے ہیں کہ ان پر کلورین کا اثر نہیں ہوتا۔

کلورین بھی خطرناک

یہ تو آپ جانتے ہی ہوں گے کہ دوا کی حد سے زیادہ مقدار بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ یہی معاملہ سوئمنگ پولز میں استعمال ہونے والی کلورین کے ساتھ بھی ہے۔ پانی میں جراثیم مارنے کیلیے کلورین کا استعمال کیا جاتا ہے لیکن یہ انسانوں کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر سوئمنگ پول میں کلورین کی مقدار زیادہ ہوجائے یہ جلدی بیماریوں کا سبب بھی بن سکتی ہے۔

پانی بھرنے والے سوراخ

سوئمنگ پولز میں پانی بھرنے کے سوراخ بھی گندگی اور جراثیم کی آماجگاہ بنے ہوتے ہیں۔ بچوں کے پیمپرز، کاغذ اور شاپنگ بیگز کے ٹکڑے ان میں پھنس جاتے ہیں جو کہ جراثیم کی پرورش کیلیے موزوں اور ساز گار ماحول پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز