عورت مارچ کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست پر لاہور پولیس نے جواب جمع کرادیا

خواتین کے عالمی دن پر عورت آزادی مارچ کی تصویری جھلکیاں

خواتین کے عالمی دن پر عورت آزادی مارچ کی شرکا مختلف پلے کارڈز کے ساتھ موجود ہیں

لاہور پولیس نے مقامی عدالت میں عورت مارچ کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست کی سماعت میں اپنا جواب جمع کرادیاہے۔لاہور پولیس کے ڈسٹرکٹ کمپلینٹ افسر ایس پی فضل مختار کی جانب سے سیشن کورٹ میں جواب جمع کرایا گیا۔

سیشن کورٹ  لاہور میں خواتین مارچ  کے حوالے سے گلوکارہ میشا شفیع سمیت دیگر کیخلاف اندراج مقدمہ کی درخواست پر سماعت ہوئی ۔

مقامی عدالت نے 6مئی کو عورت مارچ کے  خلاف درخواست کی سماعت میں  سی سی پی او لاہوراور کمپلینٹ ریڈر سیل  کو نوٹسز جاری کرکے جواب طلب کیاتھا ۔

ایڈشنل سیشن جج عامر حبیب نے ایک غیر سرکاری  تنظیم  کی سربراہ آمنہ ملک کی درخواست پر سماعت کی تھی ۔ آمنہ ملک کی جانب سےایڈووکیٹ اظہر صدیق ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیاتھا کہ 9 مارچ 2019کو  منعقد کیے گئے عورت مارچ کے نام پر غیر اخلاقی اقدار کو فروغ دینےکی کوشش کی گئی ۔

عدالت کو بتایا گیاکہ عورت مارچ میں گلوکارہ میشا شفیع اور نگہت داد نے بھی حصہ لیا۔

درخواست گزار کے وکیل اظہر صدیق نے اپنے دلائل میں کہا تھا کہ عورت مارچ کے دوران خواتین نے اخلاقیات سے گرے ہوئے نعرے لگائے۔ اس موقع پر غیر اخلاقی پلے کارڈ اٹھائے گئے اور  بینرز بھی آویزاں کیے گئے۔غیر اخلاقی نعروں پر مبنی پلے کارڈز کو بھی درخواست کا حصہ بنایا گیا ۔

درخواست گزار کا موقف ہے کہ عورت مارچ اسلامی اقدار کے خلاف ہے اور آئین وقانون کے بھی منافی ہے۔ عدالت عورت مارچ میں حصہ لینے والی خواتین اور عورت مارچ منعقد کروانے والی انتظامیہ کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دے۔

یہ بھی پڑھیے:خواتین کے عالمی دن پر عورت آزادی مارچ کی تصویری جھلکیاں

عدالت نے عورت مارچ  کےئ خلاف درخواست کی سماعت میں  سی سی پی او لاہوراور کمپلینٹ ریڈر سیل  کو نوٹسز جاری کرکے جواب طلب کیا تھا۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز