پیمرا کو نئے لائسنس جاری کرنے سے روکنے کے حکم میں 30 مئی تک توسیع

نواز شریف اور مریم کی واپسی، کوریج کے لیے پیمرا کا ہدایت نامہ جاری | humnews.pk

اسلام آباد ہائی کورٹ  نے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی( پیمرا) کونئے لائسنس جاری کرنے سے روکنے کے حکم میں 30 مئی تک توسیع کردی ہے ۔ عدالت نے لائسنس اجراء کے حوالے سے پیمرا کا حتمی فیصلہ عدالتی حکم سے مشروط کر دیا ہے۔

پیمرا کی جانب سے نئے ٹی وی لائسنسز کے اجرا کے خلاف پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن (پی بی اے) کی درخواست پر سماعت  چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہرمن اللہ نے کی۔

عدالت نے فریقین سے آئندہ سماعت پر حتمی دلائل طلب کر لیے۔

پیمرا کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن ( پی بی اے) کی پیمرا کے سامنے زیرالتوا درخواست کا فیصلہ 3 مئی کردیا۔

جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ پیمرا کیوں پہلے چینلز کو ریگولیٹ کرنے کی بجائے زیادہ لائسنس دینا چاہتا ہے؟

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریمارکس دیے کہ جو کچھ روزانہ چینلز پر ہو رہا ہے کیا پیمرا اپنی ذمہ داری پوری کررہا ہے؟یہ ایک نہایت اہم معاملہ ہے عدالت مختلف پہلو دیکھ سکتی ہے۔

پیمرا کے وکیل نے کہا 181 کمپنیوں نے بولی میں حصہ لیا 58 کو 52 بلین روپے کے لائسنسز دئیےہیں ۔ عدالتی حکم امتناع کی وجہ سے 42 کمپنیاں ابتدائی 15 فیصدرقم ادا کرنے سے گریزاں ہیں۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نےاستفسار کیا کہ پیمرا کے اس اقدام سے انفارمیشن کے حوالے سے بنیادی انسانی حقوق متاثر تو نہیں ہو رہے؟

پی بی اے کے وکیل فیصل صدیقی نے کہا پیمرا کا اور کوئی مقصد نہیں صرف پیسے کے لیے یہ سب کچھ کررہا ہے۔

عدالت نے کیس کی مزید سماعت 30 مئی تک ملتوی کردی۔

یاد رہے اس سے قبل 7مئی کو ہونے والی سماعت میں پاکستان براڈ کاسٹر ایسوسی ایشن (پی بی اے) کے وکیل فیصل صدیقی نے اپنے دلائل میں کہا تھا کہ پیمرا 119چینلز کو لائسنس دے چکا ہے جبکہ 80 چینلز کی گنجائش ہے۔

پی بی اے کی درخواست پر سندھ ہائی کورٹ نے پیمرا کو فیصلہ کرنے کا حکم دیا۔ پیمرا کو 12 مارچ کے بعد 15 دن میں درخواست پرفیصلہ کرنا تھا۔

فیصل صدیقی نے کہا پیمرا نے ہماری یعنی پی بی اے کی درخواست پر فیصلہ کرنے کی بجائے لائسنس کی بولی شروع کردی۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے پی بی اے کے وکیل سے استفسار کیا کہ نئے لائسنس جاری کرنے سے کیا فرق پڑے گا؟

فیصل صدیقی نے عدالت کو  جواب دیا کہ پیمرا کے پاس اتنی گنجائش نہیں جتنے لائسنس جاری کررہاہے۔ پیمرا کے پاس ہماری درخواست یہی ہے کہ جب گنجائش نہیں تو نئے لائسنس کااجرا کیوں کیا جارہا ہے؟

عدالت نے گزشتہ سماعت میں ہی پیمرا کو نئے ٹی وی لائسنس جاری کرنے سے روک دیاتھا ۔

یہ بھی پڑھیے:پیمرا کو نئے ٹی وی لائسنس جاری کرنے سے روک دیا گیا

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز